مضامین و مقالات

حلال و حرام کاتصور اور عام مسلمان ! خلیل الرحمن قاسمی برنی بنگلور

خلیل الرحمن قاسمی برنی بنگلور 9611021347

کچھ عرصے قبل ایک بڑے عالم دین کی مجلس میں دو اصحاب تشریف لائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک مسئلہ درپیش ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ایک دوست نے، جو یورپ کے ایک ملک میں رہتا ہے، لا علمی میں اس جانور کا گوشت کھا لیا ہے جس کا نام بھی نہیں لینا چاہیے۔ اب اس کا کیا حکم ہے اور اسے اس کی تلافی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ جواب میں بزرگ عالم دین نے فرمایا کہ:اگر لاعلمی میں کھایا ہے تو اس کا قصور نہیں ہے، البتہ اس بے احتیاطی پر اسے توبہ استغفار کرنی چاہیے کیونکہ کوئی چیز کھاتے وقت ایک مسلمان کو اس کے بارے میں باخبر ہونا چاہیے۔ اس جواب پر ان حضرات کو اطمینان نہ ہوا، پھر پوچھنے لگے کہ اس شخص پر کوئی کفارہ تو نہیں؟ جواب دیا گیا کہ:شرعاً تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے مگر وہ اپنے اطمینان کے لیے کچھ صدقہ خیرات کرنا چاہتا ہے تو کر دے، اس کی تسلی ہو جائے گی اور کسی غریب کا بھلا بھی ہو جائے گا۔ ان واردین کو اس پر بھی اطمینان نہ ہوا، ان کا تیسرا سوال یہ تھا کہ کیا اس کے نکاح پر تو کوئی اثر نہیں ہوا؟اس پر حضرت والا نے جواب دیا کہ نہیں!نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔اس سوال و جواب کے بعد وہ حضرات یہ کہتے ہوئے رخصت ہوگئے کہ ہم اس مسئلہ میں بے حد پریشان تھے، آپ نے ہماری پریشانی دور کر دی۔
اس واقعہ سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ الحمدللہ مسلمانوں میں حلا ل وحرام کا تصور بڑی مضبوطی کے ساتھ ابھی بھی باقی وموجود ہے اور نہ صرف موجود ہے بلکہ اس قدر راسخ ہے کہ ایک حرام جانور (خنزیر) کا نام زبان پر لاتے ہوئے بھی ایک عام مسلمان کو ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ وہ لاعلمی میں اس کا گوشت معدہ میں چلے جانے پر اس کی تلافی کے لیے کفارہ دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، اور کسی ایسے شخص سے جسے وہ عالم دین سمجھتا ہے رجوع کیے بغیر اسے اطمینان کی کیفیت حاصل نہیں ہوتی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حلال و حرام کے تصور سے آزاد ’’فری سوسائٹی‘‘ اور آزاد معاشرہ کا جونظریہ اور دم بریدہ فلسفہ گزشتہ دو صدیوں سے مسلمانوں کو گھول کر پلانے کی مسلسل اور عالمگیر کوشش جاری ہے وہ مسلمان کے معاشرہ کے ایک عام فرد کو ہضم نہیں ہوا۔ اور اس کے دل و دماغ پر نقش حلال و حرام کا فرق ابھی تک کھرچا نہیں جا سکا۔
مگر اس تکلیف دہ حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ حرام سے بچنے کے خواہشمند مسلمان کے سامنے حلال و حرام کا نقشہ پوری طرح واضح نہیں ہے؟ اور ایک حرام سے بچنے کی کوشش کرنے والا مسلمان دوسرے کئی حراموں میں مبتلا نظر آتا ہے.بعض مرتبہ یہ حرام جس میں یہ مبتلا ہے ہ اس پہلے حرام سے درجہ میں بڑھاہواہوتاہے- اس کی مثال:
قرآن کریم نے خنزیر کو حرام قرار دیا ہے:حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر -مردار دم مسفوح اور خنزیر کوتم پر حرام کیا گیا ہے – اور قرآن ہی میں سود، جوا، شراب اور زنا کو بھی حرام کہا ہے۔ حتیٰ کہ سود کے بارے میں کہا گیا کہ سود کھانے پر اصرار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔ (فان لم تفعلو فاذنو بحرب من اللہ ورسولہ) جوئے اور شراب کے بارے میں تو قرآن کریم نے کہا ہے کہ یہ گندے اور شیطانی کام ہیں۔ یا ایھا الذین آمنو انما الخمر والمیسر والانصاب ولازلام رجس من عمل الشیطان. جبکہ زنا کے بارے میں یہ حکم دیا گیا کہ اس کا ارتکاب تو کجا اس کے قریب بھی مت جاؤ، یعنی ان اسباب اور دواعی سے بھی گریز کرو جو انسان کو اس برے عمل کے قریب لے جاتے ہیں۔ولا تقربوا الزنا انہ کان فاحشہ وساء سبیلا چوری اس قدر گھناؤنا فعل قرار دیا گیا کہ اس کی سزا ہاتھ کاٹنا مقرر کی گئی۔ السارق والسارق فاقطعوا ایدیہما جزائا بما کسبا نکالا من اللہ واللہ عزیز حکیمغیبت کے بارے میں کہا گیا کہ وہ گویا مردار بھاء کا گوشت کھانا ہے-
یہ سب بھی حرام ہیں اور یہ ہمارے معاشرے میں اس قدر سرایت کیے ہوئے ہیں کہ ان کی تباہ کاریوں اور حشر سامانیوں کو دیکھنے اور بھگتنے کے باوجود ان سے چھٹکارے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ اگر کہا کہ کہ یہ پورے معاشرے کے لئے ناسور بن چکے ہیں تو غلط نہ ہوگا -بدکاری نے ہماری معاشرتی زندگی کو، جبکہ سود اور جوئے نے معیشت کے ڈھانچے کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ خاص طور پر سود اور جوئے کی وبا تو اس قدر عام ہو چکی ہے کہ شاید جاہلیت کے اس دور میں بھی ان کی آج جیسی مروجہ صورتیں اور شکلیں موجود نہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ماحول اور معاشرہ کو اس طرح کی براییوں سے پاک کردیا جائے. چنانچہ آپ نے یہ کام بدرجہئاتم طریقے سے کیا بھی فجزاہ اللہ عنا وعن سائر امتہ احسن واکمل الجزاء -سود کے تعلق سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک پیشن گوئی ہمارے سامنے رہنی چاہیے اور ایسا لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ پیشین گوئی موجودہ دور کے بارے میں ہی ارشاد فرمائی تھی کہ ایک دن آئے گا جب سود اس قدر عام ہو جائے گا کہ جو شخص سود نہیں کھانا چاہے گا اس کے سانس کے ساتھ سود اس کے جسم میں داخل ہوگا۔
یوروپ کے بعض ممالک میں کء مسلمانوں کے بارے میں معتبر ذرائع سے اطلاعات فراہم ہوء ہیں کہ وہ جھوٹ اور جعلسازی کے ذریعے سرکاری اداروں سے سوشل بینیفٹ کی رقوم حاصل کرتے ہیں اور بڑے مزے و اطمینان کے ساتھ کھاتے ہیں۔ بعض لوگ مستحق نہ ہونے کے باوجود دھڑلے سے زکات کی رقوم اینٹھتے ہیں اور مونچھوں کو تاؤ ڈالے پھرتے ہیں -ا ور ستم کی بات یہ ہے کہ اسے کسی درجہ میں ناجائز یا حرام نہیں سمجھتے، بلکہ بسا اوقات اس کے جواز کے لیے مذہبی حوالے بھی پیش کرتے ہیں۔
خود ہمارے ملک ہندوستان میں بھی جعل سازی، دھوکے بازی، فریب اور چالبازی کے ساتھ رقم حاصل کرنا، اور خاص طور پر سرکاری اداروں کی رقوم پر ہاتھ صاف کرنا تو نہ صرف ہمارے کلچر کا حصہ بن گیا ہے بلکہ اسے فن اور کمال کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔ اور جو شخص سرکاری رقوم تک پہنچ رکھتے ہوئے بھی اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے بے وقوف اور نا اہل تصور کیا جاتا ہے، جبکہ کسی بھی قسم کے سرکاری مال کو ’’حسب استطاعت‘‘ ہضم کرنا حقوق میں شمار ہونے لگا ہے۔ اور اس میں مسلم اور غیر مسلم سب شریک ہیں در اصل انھیں حراموں کی بہتات نے ہماری معاشرتی زندگی کو جہنم بنا کر رکھ دیا ہے۔اللہ سب کی حفاظت فرمائے -معاشرہ سے یہ برائیاں ختم ہو اس کے لئے امت کے تمام ہی افراد کو اپنے مقصد کے پیش نظر اٹھ کھڑا ہونا ہوگا.بالخصوص اصحاب دعوت وتبلیغ، علماء اور ارباب مساجد تینوں شعبے اس ضرورت کو محسوس کریں اور حلال و حرام کے تمام دائروں گوشوں کو عام آدمی کے سامنے واضح کرنے کے لیے مناسب اقدامات کریں-اہل خانقاہ امور تزکیہ پر توجہ دینے کے ساتھ اس سلسلے میں بھی سعی فرمائیں تو پھر اس صورتحال کے بہتر ہونے کی پوری امید کی جا سکتی ہے۔اور معاشرہ کیپاکیزہ ہونے کے وسیع تر امکانات کی بات کی جاسکتی ہے –

خلیل الرحمن قاسمی برنی 9611021347

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close