مضامین و مقالات

کارواں میں شریک ، علم و فضل سے متصف : بہنوں اور بیٹیوں سے : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

[ ریاستِ کرناٹک کی عالمات و فاضلاتِ مدارس کی آن لائن کانفرنس کے دوسرے دن مجھ سے خواہش کی گئی کہ میں کانفرنس کے آخر میں زادِ راہ کے طور پر ان سے خطاب کروں _ الحمد للہ آج شریکاتِ کانفرنس کی تعداد 500 تک پہنچ گئی تھی _ میں نے اپنے خطاب میں درج ذیل باتوں کی طرف توجہ دلائی _ ]

میں شکر گزار ہوں عالمات و فاضلاتِ مدارس کی اس آن لائن کانفرنس کی ذمے داروں کا کہ انھوں نے مجھے اس میں دوسری مرتبہ کچھ اظہارِ خیال کرنے کا موقع دیا ۔ میں نے کل جہاں اپنی گفتگو ختم کی تھی ، آج وہیں سے آغاز کرتا ہوں ۔ میں ابتدا ہی میں معذرت کر لینا چاہتا ہوں کہ ممکن ہے ، بعض باتیں میری محترم بہنوں اور عزیز بیٹیوں کے طبعِ نازک پر گراں گزریں اور انھیں ناگوار ہوں ، لیکن میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ محض آپ سے قریبی تعلق کی وجہ سے میں انھیں اپنی زبان پر لارہا ہوں ۔ میں نے مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ہے اور آپ بھی دینی مدارس کی عالمات و فاضلات ہیں ۔ میرے اور آپ کے درمیان جو نقطۂ اشتراک ہے وہ مجھے مجبور کر رہا ہے کہ میں آپ کے سامنے اپنا دردِ دل بیان کروں ، اس لیے آپ کو شرحِ صدر اور کشادہ قلبی کے ساتھ یہ باتیں گوارا کر لینی چاہیے ۔

عزت مآب بہنو اور پیاری بیٹیو!
پہلی بات یہ کہ اعلیٰ منصب اور اونچا مقام بڑی ذمہ داریوں کا تقاضا کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی ازواجِ مطہرات کو عظیم قدر و منزلت سے نوازا تھا ، انھیں امت کی مائیں قرار دیا تھا اور انھیں قیامت تک کے لیے نمونہ بنایا تھا ۔ یہ بلند ترین منصب عطا کرنے کے ساتھ ان پر عظیم ذمے داریاں ڈالی گئیں اور انھیں متنبہ کیا گیا کہ وہ ہمہ وقت ان ذمے داریوں کا استحضار رکھیں اور ان کے تقاضوں کی رعایت کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا :
وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوتِکُنَّ مِنْ آیٰتِ اللَّہِ وَالْحِکْمَۃِ، إِنَّ اللَّہَ کَانَ لَطِیْفاً خَبِیْراً (الاحزاب: 34)
”اور یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتوں کو ، جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں ۔ بے شک اللہ نہایت باریک بین اور انتہائی باخبر ہے۔“
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفات ’لطیف‘ اور ’خبیر‘ آئی ہیں ۔ یہاں ان کے استعمال میں بڑی بلاغت اور معنویت پائی جاتی ہے ۔ یہ دونوں صفتِ مشبَّھہ کے صیغے ہیں، جن میں مبالغہ پایا جاتا ہے ۔ لطیف ، یعنی نہایت باریک بیں ، جسے انتہائی مخفی امور کا بھی علم ہو ، جو دلوں میں چھپے احوال سے بھی واقف ہو ۔ خبیر ، یعنی جسے ہر چیز کی خوب خبر ہو ۔ گویا اس آیت میں کہا گیا ہے کہ علم حاصل ہونے کے بعد تمہاری ذات سے کیسے اعمال سر زد ہورہے ہیں؟ وہ تمہارے رب سے مخفی نہیں ہیں ، تمہاری چلت پھرت اور تمہاری سرگرمیاں ، ہر وقت اس کی نگاہ میں ہیں اور ان کی اسے خوب خبر ہے ۔

اس آیت سے قبل کی آیات بھی ہماری خصوصی توجہ چاہتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ازواجِ مطہرات کو مخاطب کرکے فرمایا تھا :
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَن یَّأْتِ مِنکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُضٰعَفْ لَہَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْْنِ وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللَّہِ یَسِیْراً۔ وَمَن یَّقْنُتْ مِنکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُولِہِ وَتَعْمَلْ صَالِحاً نُّؤْتِہَآ أَجْرَہَا مَرَّتَیْْنِ وَأَعْتَدْنَا لَہَا رِزْقاً کَرِیْماً۔ یٰنِسَاء النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَآء (الاحزاب: 30 _ 32)
” اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کسی فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے ۔ اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک اعمال کرے گی اس کو ہم دوہرا اجر دیں گے اور ہم نے اس کے لیے رزقِ کریم مہیا کر رکھا ہے ۔ اے نبی کی بیوی ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو ۔ “

بہنو اور بیٹیو!
ٹھیک اسی طرح آپ حضرات بھی عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے علمِ دین سے نوازا ہے ۔ آپ کو اقامتِ دین کا شعور ہے ۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے؟ کن کاموں سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے اور کن کاموں سے اس کا غضب بھڑکتا ہے؟ اس لیے قرآن کی صراحت کے مطابق اگر آپ کی ذات سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور عملِ صالح کا صدور ہوگا تو آپ کو دوہرا اجر ملے گا اور اگر آپ غلط اور ناشائستہ حرکتوں کا ارتکاب کریں گی تو آپ کو اس کی سزا بھی دہری ملے گی ۔

عفّت مآب بہنو اور بیٹیو!
دوسری بات یہ کہ آپ کے پاس علم کی دولت ہے تو ضروری ہے کہ اس سے خود آپ کی ذات کو اور خلق خدا کو فائدہ پہنچے ۔ کسی کے پاس مُشک ہو اور وہ ڈبیا میں بند ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اس کی خوشبو کو اطراف میں پھیلنا چاہیے ۔ علم ایک نور ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ اس سے ماحول منوّر ہوجائے اورارد گرد کی تاریکیاں چھٹ جائیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ اپنی دعاؤں میں ایک دعا یہ بھی مانگا کرتے تھے :
اللّٰھُمَّ اِنِّی أسألُکَ عِلماً نَافِعاً (ابن ماجۃ:925)
”اے اللہ! میں تجھ سے نفع پہنچانے والے علم کا سوال کرتا ہوں۔“
اسی طرح آپؐ بے فیض علم سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے اور فرماتے تھے :
اللّٰھُمَّ اِنِّی أعُوذُ بِکَ مِن عِلمٍ لَا یَنفَعُ (مسلم: 2722)
”اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو فائدہ نہ پہنچائے۔“
اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے پاس جو علمِ دین ہے اس کا اثر ہماری شخصیت پر بھی پڑے ، اس کی وجہ سے ہماری سیرت ، اخلاق اور کردار میں بھی نکھار آئے ، ہمارے علم اور عمل میں مطابقت ہو ، ہماری عبادتوں میں اخلاص اور روحانیت پیدا ہو ، ہمارے معاشرتی تعلقات میں خوش گواری آئے ، ہمارے معاملات شفّاف اور بے آمیز ہوں اور ہمارے علم کا فیض ہمارے رشتے داروں ، متعلقین اور دوسرے لوگوں تک پہنچے ۔

قابلِ احترام بہنواور بیٹیو!
تیسری بات ، جس سے میں آپ کو ہوشیار کرنا چاہتا ہوں ، یہ ہے کہ ہمارے اندر علم کا غرور اور گھمنڈ ہر گز ہر گز نہ پیدا ہونے پائے ۔ ہمارا روزانہ کا مشاہدہ ہے کہ کسی جانور پر کوئی بوجھ لدا ہوا ہو تو اس کی پیٹھ جھک جاتی ہے ، کسی درخت پر خوب پھل لگے ہوئے ہوں تو اس کی ٹہنیاں نیچے آجاتی ہیں ۔ پھر کیا بات ہے کہ کوئی عورت یا مرد اگر اعلیٰ تعلیم سے بہرہ ور ہو تو وہ غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے ، اس کا سینہ فخر سے پھول جاتا ہے ، وہ دوسروں کو اپنے سے کم تر اور خود کو ان سے برتر سمجھنے لگتا ہے ، اپنے منھ میاں مٹھو بننے کی کوشش کرتا ہے ، دوسروں سے اپنی تعریف سننے کی خواہش رکھتا ہے اور دوسرے تعریف نہ کریں تو خود اپنے قصیدے پڑھنے لگتا ہے ۔ یہ موجودہ دور کا بہت بڑا فتنہ ہے اور دینی علوم سے بہرہ ور بہت سی خواتین وحضرات اس فتنے میں مبتلا ہیں ۔ قوی اندیشہ ہے کہ ایسے لوگوں کا علم روزِ قیامت ان کے لیے وبال ہو اور وہ اس کے اجر سے بالکلیہ محروم ہوکر جہنم کا ایندھن بن جائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے ۔

بہنواور بیٹیو!
چوتھی اور آخری بات ، جو خاص طور پر میں اپنی بیٹیوں سے عرض کرنا چاہتا ہوں ، وہ بہت نازک اور حسّاس ہے ، لیکن آپ سے تعلق اور خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ میں اس کا بھی آپ کے سامنے اظہار کر دوں ۔ وہ ہے خاندان میں آپ کا مقام ، آپ کی ذمہ داریاں اور آپ سے قائم کی جانے والی امیدیں ۔ میرے پاس بہت شکایتیں آتی ہیں کہ عالمات و فاضلاتِ مدارس کے تعلقات عموماً ان سے اہلِ خاندان سے خوش گوار نہیں رہتے ۔ وہ نہ اپنے شوہروں کو خاطر میں لاتی ہیں اور نہ اپنے ساس سسر اور دیگر سسرالی رشتے داروں کے ساتھ محبت سے پیش آتی ہیں اور ان کی خدمت سے بھی دور بھاگتی ہیں ۔ ان کا رویہ میرے لیے انتہائی ناقابلِ فہم ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ قرآن و حدیث میں صلہ رحمی پر بہت زور دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میرا نام رحمان ہے اور میں نے رحم کو اپنے نام سے نکالا ہے ۔ جو اسے جوڑے گا اس سے میں رابطہ رکھوں گا اور جو اسے کاٹ دے گا اسے میں کاٹ دوں گا ۔ “ ( ابوداؤد:1694،ترمذی:1907) آخر ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ساس سسر ہمارے ماں باپ کے درجے میں ہیں اور ان کی خدمت کا وہی اجر ہے جو ماں باپ کی خدمت پر ملتا ہے ۔ محبت فاتحِ عالم ہے اور خدمت سے سخت سے سخت مخالفو ں کو بھی رام کیا جا سکتا ہے ۔ لڑکیوں کو یہ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ کہتی ہیں کہ ساس سسر کا رویّہ بھی ہمارے ساتھ اچھا نہیں رہتا ۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس کی اصلاح ہونی چاہیے اور ساس سسر کو بہو کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آنا چاہیے ، لیکن اگر ان کا رویّہ نامناسب ہو تو بدلے میں ان سے بھی ویسا ہی رویّہ اختیار کرنے کا جواز نہیں فراہم ہو جاتا ۔ ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے رشتے داروں کی شکایت کی کہ میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں ، لیکن ان کا رویّہ قطع رحمی کا ہوتا ہے ۔ میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں ، لیکن وہ میرے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں ۔ میں ان کے ساتھ بُردباری سے پیش آتا ہوں ، لیکن ان کا رویّہ جہالت آمیز ہوتا ہے ۔ یہ سن کر آپؐ نے یہ نہیں فرمایا کہ پھر تم بھی ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرسکتے ہو ، بلکہ آپؐ نے ارشاد فرمایا : ” اگر تمھاری یہ بات صحیح ہے تو گویا تم ان کے منھ میں گرم ریت بھر رہے ہو اور جب تک تم ایسا کرتے رہو گے ، اس وقت تک اللہ کی طرف سے تمھاری برابر مدد کی جاتی رہے گی ۔ “ (مسلم:2558)

محترم بہنو اور بیٹیو!
کانفرنس کے اختتام پر یہ باتیں میں نے آپ کے سامنے زاد ِراہ کے طور پر پیش کی ہیں ۔ ان میں سے کوئی بات آپ کو ناگوار گزری ہو تو معذرت خواہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ، یا رب العالمین!

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close