مضامین و مقالات

کسان ملک کی ترقی کے ضامن ہیں ! از قلم : امام علی مقصود شیخ فلاحی

ہر وہ شخص شخص جسکے اندر مٹی کو سونا بنانے کی لیاقت ہو ، اور جو شخص بنجر زمین کو بھی سر سبز میں تبدیلی کی صلاحیت رکھتا ہو ، اسے کسان کہتے ہیں۔اس پوری دنیا میں کسان‌بہت ہی اہم کردار کا حامل ہے، کیونکہ گندم سے لیکر گھانس تک ، چاول سے لیکر چینی تک اسی کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ سست پڑجائے تو ملک کا کایہ پلٹ جائے، کیونکہ جو کسان ہوتا ہے اسکا پیشہ زراعت ہوتا ہے اور زراعت دنیا کے قدیم پیشوں میں سے ایک ہے۔ انسان کی اس دنیا میں آمد کے ساتھ ہی زراعت کا آغاز ہوگیا تھا۔
حضرت آدم ؑ نے سب سے پہلے زراعت کا پیشہ اختیار کیا۔
پہلے آپ علیہ السلام کا پیشہ کپڑے بننے کا تھا بعد میں آپ نے کھیتی باڑی کا پیشہ اختیار کیا اسی طرح حضرت ابراہیم و لوط علیہما السلام کا پیشہ بھی کھیتی باڑی کا تھا وہ کھیتی باڑی کرتے تھے۔
اس لحاظ سے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ نہ صرف یہ دنیا کا قدیم ترین پیشہ ہے بلکہ انبیا بھی اس پیشے سے وابستہ رہے ہیں۔
ایک کسان دن رات محنت مشقت کرکے جو فصل اگاتا ہے وہ خود اس سے کم فیضیاب ہوتا ہے لیکن معاشرہ زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ زراعت کا شعبہ نہ صرف عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے اور صنعت وملکی معیشت کی ترقی میں کردار ادا کرتا ہے۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ زرعی ترقی کے بغیر ملک میں صنعتی ترقی ممکن نہیں کیونکہ صنعتوں کے لئے خام مال یہی شعبہ فراہم کرتا ہے۔ جس قدرعمدہ اور زیادہ خام مال فراہم ہوتا رہتا ہے اسی قدر صنعتی پیداوار اور ترقی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس اگر زرعی پیداوار میں کمی کے باعث خام مال صنعتی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہے تو صنعتیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ شعبہ ہے جس کے ذریعے کوئی بھی ملک زرِمبادلہ حاصل کرتا ہے اور اگر کسی ملک کا زراعت کا شعبہ کم زور ہو تو وہ ملک کثیر رقم کے عوض دوسرے ملکوں سے اناج درآمد کرتا ہے جس سے اس کی معیشت پر دبائو پڑتا ہے۔ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ آج جو ممالک زرعی طور پر مضبوط ہیں وہ نہ صرف یہ کہ اپنی ضرورت کے لحاظ سے اناج و دیگر پیداوار حاصل کرتے ہیں بلکہ اپنی ضرورت سے زائد اجناس کو برآمد کرتے ہیں اور اپنی معیشت کو مضبوط بناتے ہیں۔
قارئین ! انسانی زندگی کا انحصار اس کائنا میں تین چیزوں پر ہے۔
پہلا خوراک – جتنی غذائیں ہیں خواہ وہ انسانی غذا ہو یا حیوانی غذا ہو ہر ایک کو منظم طریقے سے لوگوں تک پہنچانے میں کسان ہی کا ہاتھ ہے ، کسان اپنے خون پسینے سے کھیتی کرتا ہے ، صبح سویرے سب سوتے ہیں کسان اٹھتا ہے اور کھیت میں پانی ڈالتا ہے اسکی حفاظت کرتا ہے پھر اچھے اناج اگاتا ہے اور لوگوں تک پہنچاتا ہے۔

دوسرا لباس – آج جو لباس ہم پہنتے ہیں اس لباس کا تعلق کپاس سے ہوتا ہے اور کپاس کا تعلق بھی کسان سے ہوتا ہے جو اسے خون پسینہ بہاکر اگاتا ہے ‌

تیسرا مکان – آج جس مکان‌ میں ہم رہتے ہیں اسکی اکثر چیزیں لکڑی کی ہوتی ہیں جیسے پلنگ ، دروازہ ،کھڑکی ، کرسی ، وغیرہ اور لکڑیوں کا ربط بھی کسان سے ہوتا ہے وہی اسے اگاتے ہیں ۔
غرض یہ کہ ان تینوں چیزوں کا تعلق زراعت سے ہے اور زراعت کا تعلق کسان سے ہے۔
اب اگر کسان کو پریشان کیا جائے یا اسے مجبور کیاجائے ، یا اسکے خلاف کوئی قانون لایا جائے تو گویا قانون ساز خود اپنے ملک کو آگ لگا رہا ہے۔
قارئین ! اگر آپ کسی ملک کی خوش حالی کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو آپ اس ملک کی زراعت کو دیکھ لیں یا اس ملک کے کسان کو دیکھ لیں، اگر اس‌ ملک کا کسان خوش حال ہے تو سمجھ لینا کہ سارا ملک خوش حال ہے اور اگر اس‌ ملک کا کسان غموں کا مارا ہوا ہے تو سمجھ لینا کہ وہ ملک خوش حالی سے کوسوں دور ہے ۔
اگر ہم خود اپنے وطن عزیز (ہندوستان) پر گہری نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارا اور ہمارے ملک کا خوش حالی سے کتنا تعلق ہے ۔
30 نومبر 2018 میں بی بی سی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے تین لاکھ کسانوں نے قرضوں کے باعث خود کشی کرلی۔
اور 2019 میں (این سی آر بی) دس ہزار سے زائد کسانوں نے خود کشی کی۔
اور آج بھی کئے جارہے ہیں مزید انکے خلاف کالے قانون لائے جارہے ہیں اور جب کسان اس بل کے خلاف احتجاج درج کرا رہے ہیں تو انہیں غنڈوں سے مروائے جارہے ہیں تو اب اندازہ لگائیں کہ ہمارے ملک کا کیا حال ہونے والا ہے ، ایک تو پہلے ہی سے ملک معاشی اعتبار سے تنزلی کا شکار تھا اب معیشت کے جو رکھوالے تھے انکی گردنیں اڑانے کی باتیں کر رہیں تو بتائیں اب ملک کا کیا حال ہوگا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close