مضامین و مقالات

اے ملت بیضاء ! ذرا ہوش میں آ۔ تحریر: محمد اطہر القاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علماء ارریہ

محمد اطہر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیت علماء ارریہ

ملت اسلامیہ ہند بیک وقت خارجی و داخلی دو طرفہ فتنوں سے دوچار ہے۔خارجی فتنوں میں مدارس، مکاتب، مساجد، دینی وملی تحریکات اور اسلامی شناخت کی بقاء و تحفظ کے لئے ملک میں جاری تمام تر سر گرمیوں کے خلاف اسلام دشمن طاقتوں کی طویل ترین منصوبہ بند کوششیں ہیں؛ جنہیں بد قسمتی سے فی الوقت کامیابی ملتی نظر آرہی ہے۔ملت اسلامیہ ہند کے سامنے دووسرا فتنہ وہ ہے جسے داخلی یا اندرونی فتنہ کہا جاسکتا ہے۔آج ہم اسی داخلی فتنہ اور اس کے خطرناک انجام و عواقب کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔
ہم اپنے سماج، محلے، پڑوس اور اردگرد کے گاؤں و قصبات کی موجودہ معاشرتی زندگی پر ایک گہری نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ ہمارا سماج درج ذیل سینکڑوں برائیوں بلکہ جرائم میں جکڑ چکا ہے؛ جھوٹ، رشوت، سود، خیانت، تہمت، غیبت، حقارت، منافقت، چوری، ڈکیتی، بدنظری، آوارگی، بے حیائی، زنا کاری ، بدکلامی، فضول گوئی ، ظلم ، تشدد، نا انصافی، بے ایمانی، قتل، اقدام قتل، مقدمہ بازی، چاپلوسی، ضمیر فروشی؛رسومات و خرافات میں جائیں تو جہیز، نقد رقم اور طبیعت کے مطابق گاڑی اور دیگر ساز و سامان کا مطالبہ، لمبی چوڑی بارات، وسعت سے زیادہ مہر، وہ بھی ادھار یعنی دین مہر، شادی کے موقع سے گھریلو خواتین کی ہندوانہ ریت، بہوؤں کی آپسی چپقلش، خاندانی زمین میں بٹوارے کے طویل ترین جھگڑے، روز روز کی چلم چلی، دسیوں سال پر محیط دیوانی کے مقدمات، بڑوں کے دل سے رخصت ہوتی ہوئی شفقت، چھوٹوں میں بے ادبی و گستاخی، بات بات پر تو تو میں میں، محلے محلے میں پنچایتی ، پنچایتی میں رشوت اور منہ دیکھا فیصلے، زبان و برادری کی لڑائی ، لڑائی میں انتہائی عصبیت کے مظاہرے، عدالتوں میں مسلمانوں کے مقدمات کی کثرت، حسد، جلن، حرص، طمع، کینہ، بغض، عداوت، نفرت، شکوے شکایات، علماء کرام پر بے جا تنقید و تبصرے، عشرے اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی، نوجوان بچے اور بچیوں کے نکاح میں تاخیر اور ان سب پر قوم کی ریڑھ نوجوان نسل کی بلا ضرورت سوشل میڈیا پر سرگرمی، دریرات تک موبائل پر فلموں، گانوں اور فحش چیٹنگ اوپر سے أم الخبائث یعنی تمام برائیوں کی ماں شراب نوشی اور موجودہ کوریکس کا بھوت۔۔۔۔۔
؎ تن ہمہ داغ داغ شد، پنبہ کجا کجا نہم۔
ذرا تصور کیجئے کہ ان جرائم اور کبیرہ گناہوں میں سے کون سا جرم یا گناہ ایسا ہے کہ جس پر اصول حیات یعنی قرآن مقدس اور رہنمائے زندگی یعنی سنت نبویﷺ نے سخت نکیر نہیں فرمائی ہے اور اس کے انجام بد سے امت مسلمہ کو آگاہ نہیں کیا ہے؟
قارئینِ کرام!ذرا سوچئے کہ وہ امت جسے قرآن مقدس نے امت وسط کہا ہو، خالق کائنات کے ذریعے جسے دیگر امتوں پر گوا ہ بنایا گیا ہو،قرآن مقدس جس کا نظام زندگی ہو، اسوۂ نبویﷺ جن کے لئے مشعلِ راہ ہو، لاکھوں صحابہ کرام کی خوبصورت زندگیاں جن کے لئے نمونۂ عمل ہوں اور مذہب و شریعت نے ہر موڑ پر جن کی مکمل رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہو؛ آخر اس ملت کی ذاتی زندگی اور داخلی نظام حیات کی یہ دردناک تصویر کیوں بن گئی ہے؟اگر صرف اپنے ملک بھارت کی موجودہ صورت حال پر ہم غور کریں تو ہمیں بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ اوپر جن اندرونی و داخلی برائیوں، فتنوں اور جرائم کا ذکر کیا گیا ہے ان کے سد باب اور روک تھام کے لئے اب تک کون کون سے جتن نہیں کئے گئے؟ملک کے چپے چپے میں پھیلی ہوئی اسلامی درس گاہیں، دینی تعلیم و تربیت کے لاکھوں مراکز، دعوت و ارشاد کے ہزاروں سینٹرس حتیٰ کہ محلہ محلہ اور مسجد مسجد اسلامی مکاتب کا نظام؛ اور ان سب پر اربوں اور کھربوں روپے ماہانہ ملت اسلامیہ کا قیمتی صرفہ۔لیکن ؎
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔۔۔۔
آخر کون ذمے دار ہے مسلم سماج میں پنپتی ان برائیوں کا اور کیوں نہیں گھٹتا یا رکتا جرائم کا یہ گراف؟اس کا آسان ترین اورموجودہ فیشن ایبل جواب یہ ہے کہ مدارسِ اسلامیہ اور علماء کرام نے اپنا قائدانہ کردار ادا نہیں کیا اس لئے قوم کی یہ درگت بن گئی ہے! یہ وہ جواب ہے جو ان قسم کے سوالات پر ایک مخصوص طبقہ مسلسل دیتا رہتا ہے۔ذرا ٹھنڈے دل سے سوچئے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ملک کی پوری مسلم آبادی میں سے صرف چار 4؍ فیصد مسلم بچے مدارس اسلامیہ میں تعلیم حاصل کر ر ہے ہیں جبکہ بقیہ چھیانوے 96؍ فیصد بچے ایسے ہیں جو مدارس سے باہر ہیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد یا تو اسکول و کالج یا دیگر عصری اداروں میں داخل ہے یا پھر ان میں سے بیشتر کہیں نہیں یعنی مکمل آوارہ گردی کا شکار ہے۔تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چار 4؍فیصد بچے جو مدارس اسلامیہ میں علماء کرام کے ذریعے اسلامی تعلیم و تربیت کے اثرات سے ان جرائم سے محفوظ ہیں؛ انہیں چھوڑدیا جائے تو بقیہ 96؍ فیصد مسلم بچوں کی کھیپ جو نظام مدارس یا اس کے دینی اثرات سے محروم ہیں؛ ان میں سے ایک حساس طبقہ کو چھوڑ کر ایک بڑی آبادی تمام تر دنیوی ترقیات کے باوجود مذہبی تربیت سے ناآشنا ہے۔ اس لئے ملت اسلامیہ کی اکثریت مذکورہ بالا جرائم اور برائیوں کا شکار ہے۔
دوسری بات یہ کہ چار4؍ فیصد پر مشتمل یہ وہ ہی طبقہ ہے جو آج بھی مدارس، مکاتب، مساجد اور اسلامی تعلیمات کی نشرو اشاعت کے لئے ملک و ملت کے سرد و گرم کو سہتے ہوئے ملک کے کونے کونے میں نظر آرہا ہے۔ گرچہ حالات حاضرہ کے مد نظر اس مختصر جماعت کے سرکردہ سربراہان بھی مسلسل اپنی مثبت تبدیلیوں کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تو یہ جواب کہ ان معاشرتی برائیوں کی وجہ علماء کرام ہیں؛ زمینی حقیقت سے کوسوں دور بلکہ ان کی خدمات جلیلہ کے اعتراف کے بجائے الٹے ان پر الزام و تہمت ہے۔ کیونکہ ملک میں اسکول و کالجز کے بالمقابل مدارس اور اس کے تربیت یافتہ فضلاء کی تعداد یوںہی ضرورت سے کم ہے تو پھر انہیں کو ٹارگیٹ کرنا گویا اپنی اخلاقی پستی، تربیت کی کمی اور اعمال و کردار کی کوتاہی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے۔
رفقاء گرامی!ان مذکورہ بالا برائیوں اور جرائم کے نہ رکنے بلکہ مزید شدت اختیار کرنے کی اصل وجہ اور بیماری کی جڑ اور بنیاد کوئی دوسرا نہیں خود ہم گارجین حضرات ہیں۔اس لئے دوسروں پر الزام تراشی کرکے اپنی سماجی و معاشرتی کمیوں و کوتاہیوں کے اعتراف سے بچا نہیں جا سکتا۔ وہ اس طرح کہ خود گارجین اور سرپرستوں کی اپنی ذاتی زندگی اسلامی تعلیمات سے خالی ہے؛ اندرون خانہ معاملات پر ان کی گرفت نہیں، گھریلو مسائل اور ان کے حل پر ان کی پکڑ نہیں، گھر آنگن کی خواتین اور بچوں کے شب و روز پر ان کی گہری نظر نہیں اور اس فانی دنیا کی تعمیر و ترقی کے ساتھ ہمیشہ ہمیش آباد رہنے والی دنیا میں بھی اپنے اہل و عیال اور بال بچوں کی سرخ روئی کا ان میں جذبہ نہیں۔ خوف الٰہی، فکر آخرت اور خدا کے سامنے پیشی اور جواب دہی کی انہیں فکر دامن گیر نہیںتو پھر ان بچوں سے گھر، گھر سے محلہ اور محلوں سے سماج و معاشرہ ان مہلک معاشرتی برائیوں اورجرائم سے آباد نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟
الحاصل! ملت اسلامیہ ہند کے سامنے موجود داخلی و خارجی دونوں فتنوں کے مقابلے میں میری نظر میں مہلک اور خطرناک فتنہ وہ داخلی فتنہ ہے جس کا ذمے دار نہ کوئی مدرسہ ہے، نہ مسجد، نہ مولوی، نہ تنظیم، نہ جماعت اور نہ کوئی نظام اور سسٹم؛ بلکہ راست طور پر اس کے ذمے دار و جواب دہ خود ہم گارجین اور سرپرست حضرات ہیں۔ اس لئے بحیثیت امت مسلمہ پوری ملت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے حصے کے فرض منصبی کو ادا کرے اور سماج و معاشرے کواس بد ترین اور خطرناک دلدل سے نکالنے کے لئے انفرادی و اجتماعی ہر طرح کی مخلصانہ و دیرپا کوششیں کرے۔اسی کو فرد کی اصلاح سے گھر کی اصلاح اور گھر کی اصلاح سے معاشرے کی اصلاح اور معاشرے کی اصلاح سے ملک اور عالم انسانیت کی اصلاح سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے، اور یہی وہ نظام مصطفی ﷺ ہے جس کو خود پر نافذ کرنے کے لئے ہم نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہے یا ایمان والے گھرانے میں پیدا ہوتے وقت ہمارے کانوں میں کسی کہنے والے نے اذان و اقامت کی صدا لگائی ہے۔بس صرف اسی خدا کی کبریائی اور رسولﷺ کی فرماںبرداری پر مشتمل گونجنے والی پہلی آواز اگر کانوں میں بار بار گشت کرتی رہے تو پھر کسی خارجی فتنہ پروروں اور سازشیوں کے فتنوں اور سازشوں سے اس ملت کا کچھ نقصان نہیں ہونے والا بلکہ دیر یا سویر نصرت الٰہی کے سہارے ملت اسلامیہ کو فتح و کامرانی کی منزل مل کر رہے گی۔ ان شاء اللہ۔
خدا وند عالم ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ان برائیوں سے محفوظ فرماکر ایک صالح معاشرے کی تشکیل کے لئے ہمیں قبول فرمائے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close