مضامین و مقالات

تمام نام نہاد سیکولر سیاستدان متحد ہوسکتے ہے تو مسلمان کیوں نہیں! ذوالقرنین احمد

ذوالقرنین احمد
چکھلی ضلع بلڈانہ مہاراشٹر

آج بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا سنگ بنیاد بی جے پی کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھوں رکھا گیا، اس موقع پر ملک بھر میں گودی میڈیا رام مندر میں ہورہے بھومی پوجن کی پل پل کی خبریں ایسے جوش و خروش کے ساتھ دیکھا رہا تھا جیسے انکی شادی ہورہی ہو، میڈیا تو ہے ہی حکومت کا غلام اور فرقہ پرست بھی ہے۔ جہاں روٹی ملتی ہے کتے کی طرح لپک جاتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں آج یہ بات بھی خاص طور پر دیکھنے ملی جس نے سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ کہ کانگریس کے دور اقتدار سے ہی سافٹ ہندوتوا کے ذریعے بابری مسجد کے جگہ رام مندر بنانے کیلے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے اور خود کو سیکولر دیکھا کر اسکے پیچھے اپنے ناجائز عزائم کو پورا کرنے کیلے راہے ہموار کی گئی۔
رام مندر ایک بڑی سازش تھی جس کا مقصد سیاسی مفادات کیلے مسلمانوں پر ایک فرقہ پرست پارٹی کا خوف مسلط کرکے انکے ووٹوں کا استعمال کیا گیا۔ اتنا ہی نہیں کا‌نگریس کا اس متنازع اراضی میں اہم کردار رہا ہے دراصل کانگریس اور بی جے پی دونوں ایک ہی سکہ کے دو روخ ہے۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کیلے اسے مسئلہ بناکر اور جھوٹے دعوے پیش کرکے غاصبانہ طریقے سے مسجد کی زمین پر قبضہ کیا گیا جبراً مورتیاں رکھی گئی مسجد میں پوجا کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ سب ایک مشن کے تحت ہوا اور اسکا اہم مقصد ہندو راشٹر کی بنیاد رکھنا تھا ۔ جس کا آج ۵ اگست کو ایودھیا میں ایک غیر منصفانہ دیے گئے عدالتی فیصلے کے مطابق رام مندر کا بھومی پوجن یعنی بنیاد رکھی گئی۔جو کہ ملک میں ہندو راشٹر کے قیام کی تیاری ہے۔

ہندو راشٹر کی قیام کی پہلی اینٹ رام مندر کی تعمیر ہے۔ اسی طرح کشمیر بھی فرقہ پرستوں کیلے اہم خطہ ہے جہاں پر کشمیروں کی آزادی کو ختم کرکے انہیں مالی طور پر اور اقتصادی سیاسی طور پر پوری طرح کمزور کرکے انکی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرکے وہاں پر اسرائیل ماڈل کو نافذ کرنا ہے جسطرح اسرائیل نے فلسطین میں ناجائز غاصبانہ طریقے سے قبضہ کیا ہے۔ اسی طرح کشمیر کو پہلے ہندو راشٹر کا مشقی میدان بنایا جائیگا۔ لیکن مسلمان اب بھی ہوش میں آنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ہر طرح سے مسلمانوں کو کمزور اور پستی میں دھکیلنے کی کوشش ۷۰ سالوں سے جاری ہے۔ اور آج مسلمانوں کی حالت ملک میں یہ بنی ہوئی ہے کہ وہ اپنے حقوق کیلے آواز نہیں اٹھا سکتے ہیں۔ کچھ ہی دنوں میں یہ حادثات بھی دیکھنے ملے گے کہ ملک میں مسلمانوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ اور ہم دیکھ رہے ہیں یہ حالات بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ماب لینچنک کی صورت میں جاری ہے کسی بھی نوجوان کو جھوٹے الزامات میں ہجومی تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ نہ ان فرقہ پرستوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی ہے ناہی حکومت قانون بنانے تیار ہے۔

مسلمانوں کے سامنے اب سنگین صورتحال ہے اب مسلمانوں کو اپنے وجود کی جنگ لڑنی چاہیے ملک کو جس طرح ہم نے اپنا خون دے کر ملک کو آزاد کروایا ہے اس چمن کو اپنے لہو سے سینچا ہے۔ ہمیں اب ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے وجود کو ثابت کرنا ہے کہ ملک ہمارے بغیر نہیں چل سکتا ہے۔ ملک میں مسلمانوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا خون بھی برابر کا شامل ہے۔ پھر ہمارے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کرنے والے سنگھی حکومت اور فرقہ پرست کون ہوتے ہیں۔ یہ ملک جتنا کسی سیاست دان ہے یا کسی وزیر کا ہے اتنا ہی یہ ملک مسلمان کا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیاسی طور پر خود کو مضبوط کریں اپنی قیادت کو ابھارے ایسی قیادت کو تیار کریں جو ہر مسئلے کو سنجیدگی سے حل کر سکے اور مسلمانوں کے مسائل کو لے کر حکومت سے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کریں۔ ایسی قیادت کی ضرورت بلکل بھی نہیں ہے جو مسلمانوں کو مصلحت بھری افیم کی گولیاں دے کر جھوٹے خواب دیکھا کر گہری نیند سلا دے۔

ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ہر محاذ پر مسلمانوں کو مضبوط کرسکے تعلیمی اداروں کا قیام کریں، مسلمانوں کی سرکاری اداروں میں شمولیت اختیار کرائیں۔ مذہبی آزادی برقرار رکھ سکے‌۔ اقتصادی ، سیاسی معاشی طور پر مسلمانوں کو مستحکم اور مضبوط بنائے‌۔ ہماری آواز کو ایسی متحد کریں کہ جس کی وجہ سے اقتدار حکومت کے قلعوں میں لرزہ طاری ہوجائے۔

ھم نے دیکھا آج جو کچھ ہوا کانگریسی رہنماؤں نے اور دیگر چھوٹی موٹی پارٹیوں کے لیڈران نے کس طرح سے غیر منصفانہ فیصلہ پر تعمیر ہورہی رام مندر کے بھومی پوجن کی مبارکباد دی گئی۔ کس طرح سے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے میٹھائی بانٹ کر جشن منایا کھلے عام چوک چواہوں پر آتش بازی کی گئیں۔ کس طرح سے گھروں میں دیے جلائے گئے سبھی فرقہ پرست اور اپنے چہروں پر سیکولرازم کا لیبل لگا کر مسلمانوں کے ووٹوں کو لوٹنے والے سب ایک ہوگئے آج آستین کے سانپوں نے اپنی اصلیت دیکھا دی جو مسلم لیڈران سیکولر سیاسی جماعتوں میں چھوٹے موٹے عہدوں پر فائز ہے آج انکی زبانیں دنگ رہی گئی ہے۔کسی نے اپنی سیکولر پارٹی اور لیڈر کو ٹوکنے کی کوشش تک نہیں کی ہے۔

مسلمانوں اپنی آنکھیں کھولوں ایمان کی بصیرت بھری نگاہوں سے دیکھوں جس منافقوں سے تم خیر کی امید رکھتے ہیں وہ کبھی بھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ اس لیے اب ملک میں حقوق کی جنگ سے زیادہ اہم اپنے وجود اور بقا کی جنگ لڑنا ہے۔ اور تبھی ممکن ہے جب ہم سیاسی طور پر مضبوط ہوگے۔ اگر ایسے ہی گزشتہ ستر سالوں سے نام نہاد جھوٹے سیکولر پارٹیوں اور لیڈران پر اعتماد کرتے رہے تو یہ تمہیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دے گے۔۔ تمہیں احساس تک نہیں ہونے دے گے۔

اس لیے آج سے ہی اپنی قیادت کو مضبوط کیجیے ۔
مسلکی اور جماعتی فرقہ بندیوں کو پس پشت ڈال کر اختلافات کو ختم کیجیے تمام فرقہ بندیوں سے بالا تر ہوکر متحد ہوجائیے اور ایک طویل مدتی لائحہ عمل تیار کیجیے ایک دوسرے پر تکیہ کیے بغیر اپنی ذمہ داری کو سمجھے مسلمانوں اور اسلام کی سر بلندی کیلے کچھ وقت روزانہ ملی فلاحی کاموں کیلے وقف کیجیے اور یہ کام مسلسل کیا جائے جب تک ملک میں ہم فرقہ پرستوں کو یہ بات کا احساس نہ دلا دے کہ ملک کی تقدیر کے بنیادی فیصلے مسلمانوں کے بغیر ادھورے ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close