مضامین و مقالات

قربانی رسم نہیں خلیلی شعار اور مذھبی فریضہ ہے! محمد قمر الزماں ندوی

محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

قربانی اسلام کے دیگر اہم عبادت کی طرح ایک مہتم بالشان عبادت ہے، جو در اصل حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی یاد گار اور ملت اسلامیہ کا اہم شعار ہے۔۔ اللہ تعالی نے خواب میں ان کو دکھایا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں، حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے حضرت اسمعیل(علیہ السلام) سے خواب بیان کرکے ان کی مرضی معلوم کی، مطیع و فرماں بردرار بیٹے نے حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور یہ اشارہ دے دیا کہ
سر تسلیم خم جو مزاج یار میں آیے

کیا نبوی تربیت تھی، کیا دینی روحانی اور عرفانی ماحول تھا ، کیا اطاعت و فرمانبرداری کی اس سے اعلی مثال اور نمونہ دنیا میں کہیں اور مل سکتی ہے؟

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمعیل کو آداب فرزندی

باپ نے بیٹے کو لٹا کر گردن پر چھری چلانے کا ارادہ کیا تو رحمت الہی نے یہ کہتے ہوئے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کا ہاتھ تھام لیا کہ تم نے خواب پورا کر دیا، امتحان ختم ہوگیا، مقصد آزمائش تھی۔ حضرت اسمعیل کی شہادت نہیں تھی۔۔ اور ان کو اس کی جگہ میڈھا ذبح کرنے کا حکم دیا۔۔ یہی سنت ابراہیمی آج تک مسلمانوں کے دینی شوق، ذوق و جذبہ کی رہنمائی کر رہی ہے۔ قرآن مجید میں اس عظیم قربانی کا پس منظر یوں بیان کیا گیا ہے، فلما اسلما و تلہ للجبین و نادیناہ ان یا ابراھیم قد صدقت الروئیا انا کذلک نجزی المحسنین۔ ان ھذا لھو البلاء المبین۔ و فدیناہ بذبح عظیم۔ و ترکنا علیہ فی آلاخرین۔ سلم علی ابراہیم ( الصفافات ٩۔ ١٠٣)
جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور ابراہیم نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرادیا۔ اور ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں، یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیہ میں دے کر اسے چھڑا لیا۔ سلام ہو ابراہیم پر۔۔۔۔
قربانی تقرب الہی کی نشان اور علامت ہے، جس میں مومن بندہ یہ ظاہر اور باور کراتا ہے کہ وہ خدائے واحد کے آگے سر جھکا نے اور اس کے حکم پر اپنے نفس کو قربان کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔

قربانی اللہ تبارک وتعالی کی بارگاہ میں تقرب و بلندی اور مقام و مرتبہ حاصل کرنے، اور جان و مال کا نذرانہ پیش کرنے کا بہترین اور موثر ذریعہ ہے، قربانی کا اجر و ثواب بے حد و حساب ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اللہ کو پسند نہیں۔ ان دنوں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے۔ اور قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اللہ کے پاس مقبول ہوجاتا ہے تو خوب خوشی اور دل کھول کر قربانی کیا کرو۔ ایک ضعیف روایت میں ہے کہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کے جانوروں کو کھلا پلا کر خوب قوی کیا کرو کیونکہ پل صراط پر وہ تمہاری سواری ہوں گے۔
جب تک دل میں خوف اور خشیت نہ ہو اور اللہ کی مرضی پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ نہ ہو اس وقت تک قربانی قبول نہیں ہوتی، رسم ادا ہوسکتی ہے۔ سنت ادا نہیں ہوتی۔۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے؛ لن ینال اللہ لحومھا و لا دماءھا و لکن ینالہ التقوی منکم الخ ۔( الحج ٣٧)
جانور کا گوشت اور خون اللہ کو نہیں پہنچتا مگر اسے تمہارا تقوی خلوص پہنچتا ہے، اس نے جانوروں کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ اس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اس کی تکبیر کرو۔ اور اے نبی نیکو کاروں کو خوشخبری دے دو۔۔ قربانی کرنے والا عید الاضحی کی پہلے نماز ادا کرے پھر قربانی کرے، یہی سنت رسول ہے۔ قربانی کرتے وقت اپنے دل کی کیفیت پر اور جانوروں کی صحت پر نظر رکھنی چاہیے، دل میں تقوی ہو، اور جانور صحت مند ہو، مومن دینی و اخلاقی عیب سے پاک ہو اور جانور جسمانی عیوب سے پاک ہو تو ان شاءاللہ قربانی مقبول ہوگی۔۔۔
قربانی کا پیغام اور روح یہ ہے کہ اس عمل کے بعد ہمارے اندر قربانی ایثار اور ترجیح کا جذبہ پیدا ہو، ہم اپنی ذاتی مفاد کو ملت کی مفاد کی خاطر قربان کردیں۔ ہم اپنی انا کو فنا کر دیں، کبر، غرور، نخوت اور تعلی کو ختم کردیں۔ اپنی خواہشات اور چاہتوں کو دین کے مفاد کے لیے قربان کردیں۔

اللہ تعالی قربانی کے اس پیغام کو سمجھنے اس پر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close