مضامین و مقالات

آج عید قرباں ہے : مفتی ہمایوں اقبال ندوی

ارریہ (توصیف عالم مصوریہ)
آج عید قرباں ہے۔خوشی کا دن ہے اور قربانی کادن ہے۔کس بات کی خوشی ہے اور کس بات کی قربانی ہے؟۔قرآن کی زبان میں سب سے بڑی آزمائش اور امتحان میں کامیابی پر خوشی ہے۔امتحان کاپرچہ ہےاورسوال بہت ہی مشکل ہے،اللہ اپنےجانشیں وخلیفة اللہ فی الارض کاامتحان لےرہاہے،سوال آبجیکٹیوہے،دوآپشن رکھےگئےہیں،ایک اللہ کاحکم ہے،دوسراآپشن اپنی اکلوتی اولادکی محبت ہے،ان دونوں میں ایک پرٹک کرناہے، ،خواب میں کہاگیاہےکہ قلم سےنہیں چھری سےاس پرچہ سوال کو حل کرنا ہے اسے اپنی اکلوتی اولاد کی گردن پرپیوست کردینا ہے، جبھی امتحان میں کامیابی ہے۔واہ رےانسان اوراس کی دیوانگی، چھری اپنی ہی اکلوتی اولادکی گردن پر رگڑی جارہی ہے ،خواب کو حقیقی جامہ پہنا دیا جارہا ہے ، آج کے دن کا نام یوم النحر ہوگیا ہے اور خداکا حکم اورخداکی محبت غالب ہے ،اکلوتی اولاد کی محبت ذبح ہوگئی ہے۔اس انسان کو احکم الحاکمین اپنا دوست قرار دیا ہے اور اس کی اس سنت کو قیامت تک زندگی عطا کردی ہے اور یہ اعلان کردیا ہے کہ اس امتحان میں پہلے درجے سے کامیابی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مل گئی ہے ۔ قیامت تک خدا کی محبت کوجو غالب کرے گا ہم انہیں قیامت تک زندگی عطا کریں گے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ اسماعیل جو ذبیح اللہ ہوئے انکی نسل میں آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور دین اسلام کا سکہ تاقیامت جاری وساری ہوگیا ہے

ہم اور آپ اسی بات پر خوش ہورہے ہیں اور عید منارہے ہیں،ہم حضرت ابراہیم کی اولاد ہیں، ہمارے باپ کی کامیابی ہماری کامیابی ہے، اس پر خوش ہونا یہ ہمارا واجبی حق ہے، ہم انکی قربانی کوقدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،اور ہر سال اسی کی یادمیں قربانیاں کرتے ہیں۔قربانی کی یاد قربانی سے تازہ کرتے ہیں ۔نبی آخرالزماں محمد صلی اللہ نے کی ہے اور صحابہ کرام کی بھی سنت رہی ہے ۔
سنت وشریعت کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی کہ قربانی صرف جانور کی ہی نہیں ہے بلکہ اپنی خواہشات کی بھی مقصودہے اسطوریہ قربانی کادن ہے اور عزائم لینے کا بھی دن ہے ۔مسنون دعائیں قربانی سے قبل یہی تعلیم کرتی ہیں ۔ان دعاؤں کی روشنی میں آئیے ہم یہ عزائم لیتے ہیں :
یہ چھری جو جانور کی گردن پر چلنے جارہی ہے اس سے پہلے میری چوائس وخواہش پر چل رہی ہے ۔دنیا کی محبت پر چل رہی ہے، انسانی نخوت وتکبرپر چل رہی ہے، جھوٹی شہرت پرچل رہی ہے ۔یہ جانور دراصل ایک استعارہ ہے مقصود خدائی احکام کابول بالا ہے۔

آج ہم سب یہ عزم لیتے ہیں کہ ہماری حیات وممات خدائی احکام ونظام کےنفاذ لئے ہے۔
ہم اس کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم اس پر قائم ودائم رہیں گے ۔ذاتی مفادات کو اسلام کے مفادپر قربان کریں گے، اختلاف وانتشار سے بچیں گے، خدا کی مرضیات پر چلیں گے۔ہم اتحاد کی بات کریں گے اور ہر اس بات سے احتراز کریں گے جو ملت کا شیرازہ بکھیردیتی ہے ۔ہم ملت براہیمی کے متوالے ہیں، ہم اس نار نمرود کی لپٹ کو خدائی نصرت سے گلستاں میں تبدیل کردیں گے، ہمارا کام اور مشن ایک اللہ کی عبادت کے ساتھ وحدانیت کی تعلیم وتبلیغ ہے، خدا کی جانشینی کا حق ادا کریں گے اور چپہ چپہ میں اس کے سجدے سے اس دھرتی کو گل وگلزار بنادیں گے، ہمیں نہ کوئی طاقت ڈرا سکتی ہے اور نہ ہی دھمکاسکتی ہے۔ہم ہرطرح کی قربانی کے جذبہ سے سرشار ہیں، پوری زندگی ہم اس پر گامزن رہیں گے،اللہ ہمیں استقامت نصیب کرے ،آمین یا رب العالمین ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close