مضامین و مقالات

پہلے جینا دشوار تھا اب مرنا دشوار ہے! سید عرفان اللہ

سید عرفان اللہ

9738380035

کورونا کے تعلق سے جو باتیں آنی تھیں جو انکشافات ہونے تھے اور اس تعلق سے عوام النساس کو جتنا بے وقوم بنانا تھا ۔ سب ہوگیا ہے۔ پہلے کورونا ہونے کی کچھ الگ ہی وجوہات بیان کئے جا رہے تھے مگر جیسے جیسے دن گذرتے گئے اور حالات ہاتھ سے بے قابو ہوتے گئے ۔ اب ڈاکٹر ہوں یا سیاست داں یا پھر ڈبلیو ۔ ہچ۔ او تمام ہی نے ہتھیار ڈال دئے ہیں۔ اب ڈبیلو ۔ ہچ ۔ او نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ کورونا ہوا سے بھی پھیلتا ہے۔ یعنی اب سے کچھ ماہ پہلے جن باتوں سے انکار کیا جا رہا تھا اب انہیں باتوں کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ جو کہ بہت ہی خطرناک ہے۔ خیر ہم عوام ہیں ہم کسی کی کہاں سنتے ہیں جب تک کہ کوئی بھی مرحلہ ہم پر نہیں گذرتا ہم کسی کی نہیں سنتے۔ ڈبلیو ۔ ہچ۔ او ہو یا پھر حکومت اور ڈاکٹر تمام نے ہمیں سماجی دوری بنائے رکھنے کی تاکید کی تھی۔ ہمیں ماسک پہننے کو کہا تھا۔ ہمیں بار بار صابن سے ہاتھ دھونے کی بات کہی تھی۔ مگر ہم تو عوام ہیں ہم کسی کی کہاں سنتے ۔ ارے جب ہم اپنے والدین کی نہیں سنتے تو پھر ان کی تو کوئی سوال ہی نہیں۔ مگر دیکھو اب حال کیا ہو گیا ہے۔ تین چار ماہ قبل جہاں ایک دن میں کورونا کے کچھ مثبت مریض سامنے آرہے تھے اور پانچ سے بھی کم ایک دن میں اموات ہو رہی تھیں۔ اب ایک دن میں صرف بنگلور میں تقریباً ہزار کے قریب پہنچ گئی ہیں اور اموات کا سلسلہ بھی بہت خطرناک ہوتا جا رہا ہے ۔ ایک ایک دن میں سو کے قریب اموات صرف بنگلور شہر میں بہت ڈرکی بات ہے۔ مگر کیا ہم خود ان سب کے لئے ذمہ دار نہیں۔ کہیں بھی جب کورونا کا کوئی مریض سامنے آجاتا ہم ان کی تصاویر لیتے ویڈیو بناکر شوسل میڈیا پر خوب وائرل کرتے۔ حکومت سے منع کرنے کے باوجود کچھ لوگوں نے تو صرف کورونا کے لئے ہی کچھ گروپ مختص کر دئے ہیں اور ہاں وہاں کورونا کے مریض اور امراض دونوں کا مذاق بھی خوب اڑایا جا رہا ہے ۔

[ads1]

کرناٹک میں جب سے لاک ڈائون کھول دیا گیا۔ تب سے ہر روز نئے اعداد و شمار سامنے آرہے ہیں۔ اور ہر روز عوام الناس کی مشکلات میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ حکومت سے کئی فلاحی اسکیموں کا اعلان تو ہو رہا ہے مگر نہ جانے وہ کاغذات سے نکل کر کون سے بندھ کنواںمیں جارہے ہیں۔ میں یہاں غیر سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی حالت کے تعلق سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ غیر سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی اتنی ابتر حالت اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ ان کا کوئی پرشانِ حال ہی نہیں۔ وہ اپنا رونا آخر روئیں تو بھی کس کے آگے روئیں کوئی تو ہو جو ان کے درد ان کی تکالیف کو سمجھیں۔کئی اساتذہ تو اس دورِ کورونا میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ہیں۔ اب کورونا کے بعد اسکول تو کھولنے کی امید ہے مگر اب وہ اساتذہ جو پہلے اس اسکول میں اپنے طلبہ کے درمیان ہوا کرتے تھے وہ نہیں ہوں گے۔ پہلے ان کے گھر کسی بہانہ چولہا جل جایا کرتا تھا مگر ان کے گذر جانے کے بعد ان کے اہلِ خانہ کہ یہاں چولہا ہی ختم ہو چکا ہے۔ اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں ہونا چاہئے کہ غیر سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی تنخواہیں کیا ہیں اور اسکول چلانے والے والدین سے کیسی فیس اور کس کس انداز سے حاصل کر تے ہیں۔ لائبری فیس، کمپیوٹر فیس، اسپورٹس فیس، مینتینس فیس، امتحان کے لئے فیس وغیرہ وغیرہ ۔ یہ اسکول والے 20 20- سالوں سے اسکول چلا رہے ہیں مگر اس وباء کے دور میں اساتذہ کو 3 ماہ سے تنخواہ بھی نہیں دئے ہیں۔ ہمیں تو یہاں تک معلوم ہوا ہے کہ ہر سال یہ اسکول والے والدین سے پورے 12 ماہ کی فیس اینٹھ لیتے ہیں مگر ان اساتذہ کو 2 ماہ کی فیس سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اور اس سال تو کورونا اور والدین سے فیس نہ ملنے کے بہانے کے ساتھ کہیں کہیں 1 ماہ کا تو کہیں کہیں 3 ماہ سے کوئی تنخواہ ہی نہیں ملی ہے اور کہیں کہیں پر صرف ایک ہی بار وہ بھی آدھے ماہ کی تنخواہ ملی ہے۔ ہمارے شہر بنگلور کے کئی بڑے تعلیمی اداروں کی بھی یہی حالت ہے۔ کہنے کو تو ان اداروں کے ذمہ داران اچھے پیسہ والے ہیں اور خود کو ملت کا بڑا ہمدارد کہتے نہیں تھکتے ہیں مگر ان کے یہاں بھی یہی حالت ہے۔ اور ان اداروں کے اساتذہ بھوک مری میں زندگی گذار نے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ایک واقعہ سنتے چلیں۔ ایک غیر سرکاری اسکول جو مسلم مینجمنٹ کے ماتحت کئی سالوں سے اپنی خدمت انجام دے رہا ہے اور یہاں اردو میں تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کے اساتذہ کو 3 ماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی جب ان اساتذہ میں سے ایک نے ان ذمہ داروں سے رابطہ کیاتو وہ اس اساتذہ کے ساتھ بہت ہی بے رخی کے ساتھ برتائو کئے ۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو تمام اپنا حال سنایا ۔ مگر ان اساتذہ میں اب دو اساتذہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ اور اب ان کے اہلِ خانہ مساجد کے باہر اور بازاروں میں بھیک مانگتے مجھے نظر آئے۔ یقین مانیں مجھے اللہ کو جواب دینا ہے اور میں نے اپنے دوستوں کے ذریعہ اور واٹس ایپ پر پیغام دے کر جو رقم حاصل ہوئی الحمد اللہ کچھ اساتذہ کی مدد کی کامیاب کوشش کی ہے۔ مگر میں نے صرف ایک استاد کے گھر کا حال دیکھا اور کچھ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان تمام کا سوچیں جو 3 ماہ سے گھروں میں قید ہیں ۔ ان تمام اساتذہ کی فکر کریں جو غیرت کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے ۔ کسی کو اپنا حال بیان نہیں کرتے مگر ان غیور اساتذہ کے جانے کے بعد ان کے اہلِ خانہ کون سی مسجد کون سے بازار میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے نظر آتے ہوں گے۔ کتنا ہی خوفناک منظر تھا آج بھی یاد کرتا ہوں تو رونگتے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک منظر مجھے رمضان کے ماہ میں ایک شاعر کا دیکھنے کو ملا تھا۔ یہ تو ان لوگوں کا حال ہے جو ہماری نگاہوں کے سامنے آجاتے ہیں مگر ان کا کیا جو اپنے گھروں میں بھوکوں مرنا پسند کرتے ہیں مگر کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے نہیں جاتے۔ ہمیں ان تمام کا جتنا ہماری حیثیت ہے اس کے مطابق ہی صحیح مدد کرنی ہے۔ کیوںکہ ہمارے غیر سرکاری اردو اساتذہ کی حالت تو بس اللہ ہی خیر کرے۔ اس لئے دوستوں جب تک آنکھ کھلی ہے اپنے ہاتھ کھول کر رکھیں مٹھی بند ہوجانے کے بعد یاد رہے آپ چاہ کر بھی کسی کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے آخرت میں لوگ کہیں گے ’’ کاش مجھے ایک موقع اور مل جائے اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہو جائوں‘‘۔ حدیث نبویؐ ہے کہ ’’انسان کے مرنے کے بعد بھی کوئی ایک عمل جو اس نے زندگی میں کیا ہو اس کو مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچائے تو اس عمل میں صدقہ جاریہ بھی شامل ہے‘‘ یعنی جو انسان زندگی میں ہی کسی کو فائدہ پہنچا دیا ہو تو ان شا اللہ مرنے کے بعد بھی اس کو اس نیک کاز کا فائدہ پہنچتا رہے گا۔

[ads4]

آئے دن کورونا سے اموات کی شرح میں جو تیزی آئی ہے۔ اس میں ہم لوگوں کی بھی پوری غلطی ہے۔ میں یہاں کچھ باتیں اسی تعلق سے بتانا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے تو ہمیں کورونا کے علاوہ اور بھی بیماریوں کے تعلق سے جو مریض ہیں ان کا حال بھی معلوم کرتے رہنا ہے۔ اور ان کے لئے جو مسائل درپیش ہیں ان کے حل کی تلاش کرنی ہے۔ کسی کا پیر زخمی ہے تو کسی کی زچگی ہونی ہے کسی کا سوگر لیول بڑھ گیا ہے کسی کو بخار ہوگیا ہے وغیرہ ہمیں ان لوگوں کے لئے ڈاکٹر کی ایک ٹیم ہر شہر، ہر محلہ اور ہو سکے تو ہر گلی میں ایک ایک ٹیم تیار کرنی ہوگی جو ایسے مریضوں کے لئے کبھی بھی دستیاب ہوں۔ اتنا تو سمجھ آ ہی گیا ہے کہ حکومتیں پوری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ اور وہ اتنا گھبرائے ہوئے ہیں کہ ہر ہسپتال کو کورونا سینٹر بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ چاہے سرکاری ہسپتال ہوں یا غیر سرکاری چاہے ذاتی املاک ہوں یا اوقافی حکومت ہر جگہ بیڈ کا انتظام کئے جا رہے ہیں۔ گویا دنیا میں تمام بیماریوں نے کورونا کے ڈر سے خود دم توڑ دیا ہو اور اب ہمیں صرف اور صرف کورونا سے ہی لڑنا ہے۔ مگر ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ دوسری بات ہمیں ڈرنا نہیں لڑنا ہے۔ اب اس کا کیا مطلب ؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ موت تو برحق ہے ۔ اور ہمیں موت سے ڈرنا نہیں ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہمیں موت سے بے خوف ہو کر جینا ہے۔ مگر ہمیں احتیاتی تدابیر پر پورا عمل پیر ہونا پڑے گے۔ اب یہاں چوں چرا نہیں چلنے والا۔ گھروں سے بالکل نہیں نکلنا ہے اگر بہت ہی ضرورت ہو تو پورے احتیاط کے ساتھ گھروں سے نکلیں۔ بچے اور بڑھوں کو کسی بھی تقاریب میں شامل نہ کریں خاص کر جہاں بھیڑ ہونے کی گنجائش ہو وہاں تو بالکل ہی پرہیز کریں۔ بچوں کو گھروں سے کسی بھی بہانے نہ لیں جائیں اور نہ ہی کچھ لینے کے لئے دکانوں میں بھیجیں۔ جن کے یہاں مجبوری ہو یا پھر کوئی اور نہ ہو تو اس وقت پوری احتیاط کے ساتھ بچے کو پوری تاکید کے ساتھ بھیجیں۔

[ads4]

ایک مشورہ یوں بھی ہے کہ کیوں نہ ہم تمام اپنے مساجد یا مدرسوں میں وقتی ہاسپتال کا نظام قائم کریں ۔ جہاں مریضوں کا علاج مفت نہ صحیح مگر رعایتی داموں پر کیا جائے۔ اس سے یہ ہوگا کہ مساجد میں غیر مسلم عوام بھی آئیںگے اور غرباء و ضرورت مندوں کو باآسانی علاج مل جائے گا۔ہمارے علاقہ کے مقامی ڈاکٹر بھی مسجد کے حفظ و امان میں رہیں گے اور کورونا کے علاوہ جو مریض ہیں جو بروقت علاج نہ ملنے اور ہسپتالوں میں داخلہ نہ ملنے سے بے موت مارے جا رہے ہیں ان کا بھی علاج ہو جائے گا۔ مریض کو لئے کئی ایمبولینس ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال مارے مارے پھر رہے ہیں اور آخر میں مریض میت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ان حادثوں سے بھی کچھ حد تک رحت مل سکتی ہے۔ آج کل شادیوں کا موسم ہے۔ الحمد اللہ کافی لوگ حکومت کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے نکاح کو بالکل آسانی کے ساتھ پورا کر رہے ہیں۔ مگر ایسے ماحول میں بھی غریب بچیوں کی شادیوں کے مسئلہ اپنی جگہ ہیں۔ ہمیں اس طرف بھی دھیان دینا ہے۔ گھروں سے بنا نکلے جہاں جہاں بھی ہم امداد پہنچا سکتے ہوں ایسے تدابیر کی کھوج کریں۔ آج کل تو آن لائن پیمنٹ کا زمانہ ہے۔ اس کا خوب استعمال کریں۔ اور کورونا سے انتقال فرمانے والوں کے لئے دعائوں کا اہتمام کریں مگر ان کی تصاویر اور ویڈیو بالکل نہ بنائیں اور نہ ہی کہیں پوسٹ کریں۔ ان تصاویر اور ویڈیو سے لوگوں میں دہشت پھیلتی جا رہی ہے اور یہ بھی موت کی بڑی وجہ بنتی جا رہی ہے۔ کورونا مریض کے انتقال کے بعد اس کی تدفین وغیرہ کے تعلق سے جو ویڈیو وئرل ہو رہے ہیں ان سے لوگوں میں کافی ڈر بیٹھ گیا ہے۔ پہلے لوگ جینے سے ڈرتے تھے مگر اب لوگ مرنے سے ڈر رہے ہیں۔ اور اسی ڈپریشن میں کئی لوگ داعی اجل کو لبیک کہہ جا رہے ہیں۔ ہمیں ہمارے گھروں میں خوش اسلوبی کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں ہمارے آس پاس جو بزرگ ہیں ان تک صرف خوشی کی باتیں ہی پہنچانی ہوگی۔ ان کو ہر حال میں خوش رکھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اور ان کو ایسے کاموں میں مصروف کروانا ہوگا جس سے وہ مصروف بھی رہیں اور ان کا دل بھی لگا رہے ۔ بس اتنا ہی کہ کورونا سے ڈرنا نہیں ہے مگر احتیاط کے ساتھ جینا ہے۔


Syed Irfanulla Mohd
9738380035

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close