مضامین و مقالات

مسلمانوں کے لیے قانون کی تعلیم کیوں ضروری ہے؟ یعقوب مرتضی

علم درحقیقت چیزوں کے حقائق جاننے کا نام ہے۔ یہ ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعہ انسان اچھے اور برے، صحیح اور غلط، فسانہ اور حقیقت کے درمیان تمیز کرپاتا ہے۔ علم ہی ہے جو انسان کو یہ سمجھ عطا کرتی ہے کہ وہ زمانٔہ قدیم سے چلی آرہی ان بے بنیاد اور غیر ضروری رسم و رواج کا خاتمہ کر کے جو قوم کی اصلاح اور اس کی ترقی میں صدیوں سے رکاوٹ بن رہی ہے ‘ معاشرے کو نئی زندگی اور نئی راہ دکھائے۔
اسی لیے تعلیم کو ہر انسان کا بنیادی حق قراردیاگیا ہے تا کہ انسان علم حاصل کرکے معاشرے کو توہماتی دنیا سے نکال کر حقیقی دینا سے روشناس کرائے اور اس کے لیے خواہ وہ کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھتا ہو، اس کا حصول لازمی ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کی ترقی کا ضامن ہے، تعلیم ہی قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے اور پھر اس کی داستان لکھی جاتی ہے۔

[ads5]

علم انسان کی اصلاح اور اس متحرک دنیا کی ترقی کے لیے کتنا اہم ہے اس کا اندازہ خود اس کائنات کے خالق اللہ رب العزت کا اپنے محبوب پیغمبر محمد ﷺ کے ذریعے بنی نوع انسان کو دیے گیے پہلے انقلابی میسج ”اقرأ باسم ربک الذی خلق” سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس عالمگیر پیغام میں نہ ہی کسی کو مسلمان بنانے کی تعلیم دی گئی تھی اور نہ ہی اسلام کی تبلیغ کی کوئی ذمہ داری سونپی گئی تھی بلکہ اسلامی سوسائٹی کے قیام کے لیے جو چیز سب سے ز یادہ کارآمد اور مؤثر ثابت ہو سکتی تھی اس کا پیغام دیا گیا تھا۔ کیونکہ جس سوسائٹی میں اسلام کا کام ہونا تھا اس سوسائٹی کے لوگ جاہل تھے، ان کو صحیح اور غلط کی تمیز نہیں تھی، لہذا ضروری تھا کہ پہلے اس سوسائٹی کے مزاج کو بدلا جائے اور وہاں کے باشندوں کو تعلیم دی جائے تاکہ وہ صحیح اور غلط کے مابین خود تمیز کرنے کے قابل ہوجائیں۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو اسلام کی اشاعت ہی نہیں بلکہ اس عالمی تحریک کا آغاز بھی دشوار ہوتا اور لوگوں کا اسلام قبول کرنا بھی ناممکن تھا۔
اس پیغام کی جامعیت کو خود حضور ﷺ نے بھی سنجیدگی سے لیا اور ہر ممکن طور عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی، چنانچہ غزوہ بدر کے وہ قیدی جو فدیہ دینے کی طاقت نہیں رکھتے تھے لیکن پڑھنا لکھنا جانتے تھے، آپ صلعم نے ان کا فدیہ یہ متعین کیا کہ وہ بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھائیں۔

[ads3]

بعد کے زمانے میں مسلمان جب تک تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے رہے تب تک وہ پوری دنیا پہ حکمرانی کرتے رہے؛ لیکن بدقسمتی سے کچھ ایسا ہوا کہ علم کی تفریق کردی گئی (۱) دینی علوم (۲) دنیاوی علوم – جو کہ بے بنیاد اور لغو تقسیم تھی اور ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے ” علم الانسان ما لم یعلم ” سے یہ بات پہلے ہی دن واضح کردی تھی کہ انسان بالکل جاہل ہے، اس کے پاس جو کچھ بھی علم ہے وہ خدا کا عطاء کردہ ہے۔ اب انسانوں کے پاس جو کچھ علم ہے سب خدا ہی کا عطاء کردہ ہے۔ لہذا اس تقسیم کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی ہے۔ لیکن اس بے بنیاد تقسیم کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان جدید علوم سے دور ہونے لگے اور بالآخر سائنسی میدان میں ان کا تعاون صفر کے برابر رہ گیا ہے۔ دوسرے کی ایجادات و اختراعات خریدنے اور استعمال کرنے تک ہی ان کی روزمرہ کی زندگی محدود ہوکر رہ گئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس مقابلہ جاتی زمانے میں برق رفتاری سے ترقی کرتی ہوئی دنیا میں وہ خود حاشیے پر پہونچ گیے ہیں۔
جب کہ اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ مسلمان کبھی بھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے؛ بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں ان میں سے زیادہ ترکے بانی مسلمان ہی ہیں۔ ابن سینا، یعقوب الکندی، جابر بن حیان اور ان جیسی ہزاروں ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے سائنس اور دیگر علوم میں نمایاں کردار ادا کیا اور دنیا جن کی مرہونِ منت آج بھی ہے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی؛ لیکن جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقع سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔ لہذا ضروری ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو جمود و تعطل سے نکالے، خیالاتی دنیا میں زندگی گزارنے سے اجتناب کرے اور حقیقی دنیا میں اپنے وجود کی بقاء کے لیے علمی، تحقیقی اور سائنسی میدانوں میں اپنا کھویا ہوا بلند مقام ومرتبہ پھر سے حاصل کرے۔ اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب مسلمان اپنی سوچ بدلیں گے، نئی ترقی کا خواب دیکھیں گے اور جس طرح دینی علوم جیسے قرآن و حدیث کی تعلیم کو زندگی کے لیے اہم اور ضروری سمجھتے ہیں ویسے ہی دیگر علوم جیسے سائنس، ٹکنالوجی، صحافت اور خاص کر قانون کی تعلیم کو وقت کی ضرورت اور زندگی کے لیے لازمی سمجھیں، تب جا کر انقلاب کی آمد ممکن ہوپائے گی۔
آج جو موجودہ صورتحال ہے وہ بہت ہی ناگفتہ بہ ہے، مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی اور مذہبی امور حتی کہ ان کی زندگی بھی محفوظ نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قیمت سمجھی جا رہی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان کے وجود کو بھی خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ مذہبی شناخت سے لوگوں کی پہچان کی جانے لگی ہے، اور اسی باعث اب مذہبی شناخت کا اختیار کرنا بھی ان کے لیے جانی و مالی نقصان کی وجہ بن رہا ہے اور ماضی قریب میں موب لینچنگ اور فرقہ وارانہ فسادات کا شکار ہوکر ظاہری مذہبی شناخت سے پہچان کی وجہ بہت سی بے قصور جانیں بھی گئی ہیں، کئی لوگوں کی جائداد کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور بہت سے لوگوں کو بہت بڑی مقدار میں مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔ وہ بے قصور لوگ جن کی جانیں گئیں، جن کا مالی نقصان کیا گیا، اور جن کی جائدادوں کو تباہ و برباد کر دیا گیا ان کو کب انصاف ملے گا؟ مجرموں کو کب سزا ملے گی؟ اور کتنی سزا ملے گی؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مظلوم کو انصاف ملے گا بھی یا نہیں؟ اس کی کوئی گارینٹی بھی ہے یا وہ صرف انصاف کی امید ہی لگائے رکھیں؟ کون ان کے حقوق کی لڑائی لڑے گا؟ اور ان کو اپنے حقوق کی لڑائی کتنے سال لڑنی پڑیگی؟ کیا وہ اپنی اس لڑائی میں جیتیں گے یا ہاریں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے بارے میں حتمی طور پہ کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

[ads2]

دوسری طرف اگر ہم ملک بھر کے جیلوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ جیلوں میں مسلمان قیدیوں کا تناسب، ملک کی آبادی میں مسلم تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔ این سی آر بی کی ۵۱۰۲ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ۲۱ فیصد مسلمان جیلوں کے اندر ہے جبکہ آبادی میں انکا تناسب 14.2فیصدہے۔ کچھ ریاستوں میں یہ تناسب اور بڑھ جاتا ہے جیسے مہاراشٹر، اور تاملناڈو میں وہاں کی آبادی سے تین گنا زیادہ مسلمان وہاں کے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ ایسا ہی کچھ حال دلّی، گجرات اور اترپردیش کا ہے جہاں کے جیلوں میں مسلم قیدی، وہاں کی آبادی میں مسلم تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے علاوہ دیگر ریاستوں کا حال بھی کوئی بہتر نہیں ہے۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہیں صرف شک کی بنیاد پر قید کرلیا گیا اور دو دہائی تک ان کو رہائی نہیں دی گیں۔ جبکہ پولیس یا کورٹ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہی کہ یہ کسی جرم میں ملوث رہے ہوں۔ پھر بھی صرف شک کی بنیاد پر انکو جیلوں میں رکھا جاتا ہے اور جب وہ اپنی زندگی میں کسی قابل نہیں بچتے ہیں تب ان کو رہائی دے دی جاتی ہے۔
اس کا دوسرا پہلو جو قابل غور ہے وہ ہے اصل مجرم کے قیدوبند کا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں جن کے پاس پیسہ ہے یا جن کے انتظامیہ سے کچھ سانٹھ گانٹھ ہوتے ہیں، وہ کئی ایک کیسز میں اصل مجرم ہونے کے باوجود بھی جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے نہیں رکھے جاتے بلکہ سماج میں ایک معصوم شہری کی طرح بے خوف و خطر زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی ہے اور اگر ہوتی بھی ہے تو وہ اپنے خلاف ہونے والے کسی بھی عدالتی کاروائی سے خوفزدہ نہیں ہوتے ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ قانون کے سایہ تلے زندگی کی صبح وشام گزار رہے ہوں۔
ایسی سنگین صورتحال میں اگر کوئی قانون کی تعلیم حاصل کرے اور اس نیت کے ساتھ حاصل کرے کہ وہ فراغت کے بعد بے گناہ قیدیوں کی رہائی کے لیے کوششیں کریگا، ایک ذمہ دار شہری کا فریضہ انجام دیتے ہوئے بلا تفریق مسلک و مذہب ان تمام لوگوں کے لیے قانونی لڑائی لڑیگا جنہیں صرف شک کی بنیاد پے قید کیا گیا اور کئی کئی دہائی تک ان کی غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال نہیں کی گئی تو یہ ایک قابل قدر کوشش ہوگی، اور اس طرح وہ کمزوروں، غریبوں اور سماج کے مظلوم طبقے کی آواز بنیں گے، ان کے لیے امید اور ایک ابدی سہارا بنیں گے، ان کے انسانی اور بنیادی حقوق کی کامیابی لڑائی لڑیں گے تو کیا اس وکیل کا یہ بے لوث عمل ان کو ” من احیاھا فکأنما احیا الناس جمیعا ” کا حقیقی مصداق نہیں بناتا ہے؟ کیا وہ اللہ کی خاص مدد اور اس کے رحم و کرم کا حقدار نہیں ہے؟ کیا وہ اپنے اس مخلص قربانی کے لیے داد و تحسین اور سپورٹ کا مستحق نہیں ہے؟ کیا ان بیگناہ قیدیوں کو رہائی دلانا ایک غلام کو اللہ کی دی ہوئی آزادی دلانے کے مترادف نہیں ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غیر معمولی انسانیت کا کام ہوگا۔ اور اگر میں یہ کہوں کہ بے گناہ قیدیوں کے لیے قانونی لڑائی لڑنا کسی حد تک غلام آزاد کرنے جیسا ہے تو میرا یہ کہنا بیجا نہیں ہوگا۔ کیونکہ اسلام کی آمد نے جہاں بہت ساری سماجی ناانصافیوں اور استحصال کا خاتمہ کیا وہیں اسلام نے خواتین کو سماج کا ایک لازمی حصہ بنانے اور غلاموں کی آزادی پے خاص توجہ دی۔ اسی لیے اسلام کے بیشتر احکام میں سزا کے طور پر جہاں بہت ساری چیزوں کا حکم دیا گیا وہیں ساتھ میں غلام آزاد کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ خواتین کی حصہ داری اور غلام کی آزادی پے خاص توجہ دینے کی ایک وجہ مجھے یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ان دونوں قسم کے لوگوں کو اللہ کی دی ہوئی آزادی سے محروم کر دیا گیا تھا۔ ان کے ہی جیسے ہم شکل انسان ان کو اپنا ماتحت اور غلام بنائے ہوئے تھے۔ لہذا اسلام نے سزا کے طور پے ان کی آزادی کا حکم دیکر غلاموں کو ابدی غلامی کے چنگل سے آزاد کرایا اور اللہ کی عطا کردہ آزادی سے سرفراز کیا۔
لہذا جو لوگ اس غیر معمولی پروفیشنل کورس کی اہمیت کو یہ کہہ کر گھٹانا چاہتے ہیں کہ اس پیشہ سے تعلق رکھنے والے لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور حرام کھاتے ہیں اور اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے اکبر الہٰ آبادی کے ایک خاص نظری کے تحت کہے گئے شعر:
پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گیے
کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کو پہلے خود اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔
دوسری بات یہ کہ آج اگر اکبر الہٰ آبادی ہوتے توشاید وہ بھی اپنے اس نظریہ کو بدل لیے ہوتے جیسا کہ انہوں نے اپنا نظریہ سر سید احمد خان اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بارے اپنی حیات میں ہی بدل لیا تھا۔ جب سر سید علیہ الرحمہ نے پہلی بار ان کو علی گڑھ آنے کی دعوت دی تو انہوں نے اپنی اس زیارت کے بعد بطور طنز سر سید کے کام کو یہ شعر کہا کہ:

[ads3]

تم شوق سے کالج میں پھلو،پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں میں اڑو،چرخ پہ جھولو
پر ایک سخن بندۂ عاجز کی رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نا بھولو
لیکن اکبر الہٰ آبادی صاحب اپنے آخری عمر میں یہ کہہ کر سر سید کے کاموں کو سراہا کے ” ہم تو صرف کہتے تھے اور سر سید کام کرتا تھا”
لہذا مسلمانوں کو اس طرح کی بے بنیاد باتوں کو خاطرمیں نہیں لانا چاہیے اور قانون کی تعلیم کو وقت کی اہم ضرورت سمجھ کر اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دینی چاہیے تب جا کر مسلمان کا وجود بھی محفوظ رہے گا، ان کے حقوق کی لڑائی لڑنے والا بھی رہے گا اور خاص کر جہاں ایک طرف ان کی سماجی، سیاسی تعلیمی اور معاشی اصلاح ہوگی وہیں ان سب میدانوں میں ان کی ترقی بھی ہوگی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close