مضامین و مقالات

ظلم پر خاموشی بظاہر ظالم کی مدد۔۔۔ڈاکٹر محمد صلاح الدین

آج کے سلگتے ماحول میں انسانیت کی آہ و بکاہم سب محب وطن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اور ایسے ماحول میں بھی کچھ باشعور لوگ ہیں جو صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنےکو اپنا دھرم اور ایمان سمجھتے ہیں==
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن==
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے==
شاید عوام یہ سوچ کر خاموش ہے کہ یہ سب ہم لوگوں کی بھلائی کے لیے ہو رہا ہے۔۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ دن کو رات ثابت کرنے کے لئے پوری سرکاری مشینری لگا دی گئی ہے ۔ اس کا ثبوت ان سماجی کارکنان کی گرفتاریاں جو پچھلے دنوں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف عوامی تحریک میں حصہ لیا تھا۔۔ اپنے جمہوری حق کا آئینہ دکھایا تھا ۔۔اور حکومت کو یہ باور کرایا تھا کہ ملک کے عوام مذہبی تفریق پر کسی قانون کو برداشت نہیں کرینگے۔ملک میں لوک ڈاؤن اور حکومت چن چن کر عوامی نمائندوں کی گرفتاریاں کروا رہی ہیں۔ اور محب وطن کی زبان و قلم خاموش ۔۔۔
مآب لنچنگ کا معاملہ شروع ہوا تھا جو آج بھی قائم اور دائم ہے ۔ اور ہمارے محب وطن کی زبان و قلم خاموش۔
اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں==
ظلم کرنا گناہ ہے لیکن ظلم سہنا بڑا گناہ ہے۔
ظلم کہتے ہیں کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹا دینے کو جیسے ٹوپی پیر کے نیچے اور چپل کو سر کے اوپر رکھنے کو ظلم کہا جائے گا۔ بندے کا شرک کرنا سراسر ظلم ہے۔ اس سے اللہ تعالی کا حق مارا جاتا ہے اور اللہ تعالی کاحق یہ ہے کہ اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کیا جائے۔اور کسی کمزور پر کسی طرح کا ظلم۔ گالی دینا۔ مارنا پیٹنا ۔ برا بھلا کہنا یہ سب ظلم کے دائرے میں آتا ہے۔
ظلم خواہ کسی دوسرے شخص پر کیوں نہ ہو۔آپ کا اس سے کچھ بھی لینا دینا نہ ہو۔ پھر بھی اپنے زبان و قلم کو بند کر لینا یہ سب سے بڑا ظلم ہے۔
لوگ غیرت کے نام پر ۔شرافت کے نام پر ۔کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں کہ ہم لوگ شریف آدمی ہیں کہاں اس بوال میں پھنسے؟
یہی تو سب سے بڑا ظلم ھے۔
ظلم کے خلاف نہ بولنے والو ایک دن تم بھی ستائے جاؤ گے ۔دیکھۓ اترپردیش کے تھانے میں پچیس پچیس پولیس والوں کے سامنے کسی نیتا جی کا قتل ہوتا ہے ۔اور سب کے سب گواہی دینے سے انکار کر جاتے ہیں۔ اسی کا انجام ہے کہ آٹھ آٹھ پولیس والوں کا انکاؤنٹر کرنے والا آج بھی آزادی کے اس مقام پر ھے کہ اس کو کوئی آتنک وادی نہ کہے؟
پھر بھی ہندوستانیوں کی زبان و قلم خاموش ہے۔ وہ اگر کوئی مسلمان ہوتا پھر دیکھتے کیا تماشہ بنایا جاتا ۔آرے بھائی یہاں تو غیر مسلم اگر داڑھی رکھ لے وہ بھی مسلمان سمجھ کر ستایا جاتا ہے۔ اور جب پتہ چلتا ہےکہ یہ تو غیر مسلم ہے تو معافی مانگی جاتی ہے؟
اور بیچارے مسلمان چاہے جتنا ہمدردی کرتے ہوں وہ اپنی قوم کا چاہے جتنا بڑاخدمت گزار ہو اس کو آتنک وادی کہا جاتا ہے ۔اب آپ دیکھ لیجئے جناب ڈاکٹر کفیل صاحب کو زبردستی جھوٹا کیس بنا بنا کر جیل میں سڑایا جارہا ہے۔
لوک ڈاؤن میں جس قدر مسلمانوں نے غریب مسافر ولا چار بے یارومددگار کی مدد کی اس کی مثال نہیں ملتی۔ لیکن یہ مدد اجتماعی تھی کسی ایک کی نمایا کارکردگی ہوتی تو کب کا آتنک وادی ہو گیا ہوتا۔
آخر ہم لوگ کب تک تماشائی بنے رہیں گے۔ ظلم کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کب کریں گے۔ کیا ڈاکٹر کفیل کی بیوجہ گرفتاری پر بھی ہماری زبان و قلم خاموش ہی رہے گی۔
سماجوادی پارٹی کے بڑے لیڈر جناب اعظم خاں کی شان و شوکت کو تار تارکرکےاس کی یونیورسٹی کے لائبریری سے لیکر مین گیٹ تک جو کھیل کھیلا گیا اس پر بھی زبان و قلم خاموش ہی رہے گی۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کے ساتھ کیا ہوا یہ قد آور شخصیتیں ہیں پارٹی وپولٹکس سے گہرارشتہ ناطہ ہے۔ پھر بھی یہ حشرہو رہا ہے ۔ اور عام لوگوں کا کیا حال ہوگا۔ یہ لوگ قومی آواز بن کر سامنے آیا کرتے تھے لیکن آج قید خانے کی زینت بنے ہوئے ہیں۔
اب تو ہم لوگ اپنی شرافت کو شریفانہ انداز میں یہ بتائیں کہ حق کے لئےاور انصاف کے لئے ہم سب متحد ہیں۔ اپنے اپنے قلم کو جنبش دیں۔ اپنی اپنی زبان کو کھولیں۔ اور اپنے وطن کی حفاظت کریں ۔
مادر وطن پر چوطرفہ کالے بادل چھاتےجا رہے ہیں ۔اب بھی وقت نہیں آیا ۔ ہم تو یہی آپ لوگوں سے عرض کریں گے کہ
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے۔
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے۔
اللہ تعالی ہم سب کو اپنی بھلائی کے ساتھ ساتھ قومی و عوامی بھلائی کرنے کی توفیق ورفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔۔
محتاج دعا
ڈاکٹر محمد صلاح الدین صدر مدرس مدرسہ حبیبیہ دار البنات نیا بازار چھپرہ سارن بہار

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close