مضامین و مقالات

سیاست نے سب کچھ برباد کردیا ہے : ہمایوں اقبال ندوی ،ارریہ

ایک ماں کے دل میں اپنے بیٹے کے لئے بڑی جگہ ہواکرتی ہے۔بیٹانیکوکارہویاخطارماں کاآنچل دونوں کےلئےوسیع ہے۔گورا ہو یا کالا، ماں کے لئے لاڈلاہے شاعر نے کیاخوب کہا ہے؛
ع __اسے وہ چاند سا ہوگا بھلے ہی سانولا ہوگا ۔

[ads5]

گینگیسٹر وکاوس دوبے کے لئے اس کی ماں کا اپنے دل میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔اسی لئے وہ کہتی ہے کہ اسے مارڈالو! اس نے برا کیا ہے ۔آگے یہ بھی کہتی ہے کہ "سیاست نے سب کچھ برباد کردیا ہے” ۔یہ بیان بدنام زمانہ مجرم وکاس دوبے کی ماں کا ہےاور اخبارات میں شائع ہوا ہے ۔یہ وہی وکاس ہے جس کی پولس کو تلاش ہے ۔اسی تلاش میں آٹھ پولس اہلکار کی جانیں گئی ہیں اور کم بیش اتنے ہی زخمی ہیں اور وکاس کا دور دور تک پتہ نہیں ہے ۔
آج کی تاریخ میں وکاس دوبےکےگھر پر بلڈوزر چل گیا ہے،مکانات زمیں بوس ہو چکے ہیں،اسباب زندگی وآرائش کے سامان خاک آلودہوگئے ہیں۔انتظامیہ کے ذریعے گھر پر موجود گاڑیوں وسواریوں کے پرخچے اڑادئے گئے ہیں، اس ایک وکاس کی خاطر پورے گھر کامکمل وناش ہوچکا ہے،اس کا ذمہ دار وکاس کی ماں سیاست کو مانتی ہے اسی لئے وہ بے ساختہ کہ رہی ہے کہ سیاست نے سب کچھ برباد کردیا ہے ۔

[ads1]

سیاست کیا ہے؟
یہ خالص عربی کالفظ ہے جس کے معنی دیکھ بھال کرنے اور امورکی تدبیر وانجام دہی کا نام ہے ۔شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے سیاست کو کسی بھی ملک اور کسی بھی قوم کے لئے ناگزیر کہا ہے ۔اپنی معرکةالآراءتصنیف حجةاللہ البالغہ میں اس عنوان پرقلم توڑدیاہے۔”باب سیاسة اهل المدینہ” کےعنوان پر پولس عملہ سے لیکر( خلیفہ )اقوام متحدہ کا تصور بھی پیش کیا ہے ۔جو شخص شہر کے امور ونظم سے وابستہ ہو اسے اس کتاب میں سائس المدینہ کےنام سےموسوم کیا ہے ۔اس طرح ہم جب نظر کرتے ہیں تو سیاست ضروری چیز معلوم ہوتی ہے اور دیکھتے ہیں تویہ درحقیقت انتظام وانصرام اورتدبیرمملکت ہی کا اصل نام سیاست ہے ۔معاشرہ کی بھلائی اور ملکی ترقی کا راز اسمیں پنہاں ہے۔لیکن یہ کیا ہوا ہے کہ یہی سیاست ایک انسان کو قانون وانتظامیہ کا قاتل بنا دیا ہے۔اور وہ ملک کی سالمیت کے لئے بھی خطرہ بن گیا ہے، اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اب سیاست کی نئی تشریح ہورہی ہے جس کی وجہ کر جرائم کا نیا دروازہ بھی واہوگیا ہے ۔یہ سیاست نئے دروازے سے ہورہی ہے ۔

[ads3]

پہلے نظم وضبط کا نام اب بدنظمی واخلاقی انارکی کا نام سیاست ہے۔پہلےتدبیرمملکت سیاست تھی اب تدمیروتخریب کا نام سیاست ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مجرمین کی ایک نئی قسم پیدا ہونے لگی ہے ۔کسی زمانے میں غربت سے تنگ آکر لوگ جرم کی دنیا میں قدم رکھتے اب توخوشحالی میں مجرم بننےلگے ہیں۔یہ اسی نئی تشریح کا نتیجہ ہے ۔ہر روز کچھ نیا کرنے کا مزاج اور اشتہارات میں بنے رہنے کا خیال آج کی سیاست میں درآئی ہے۔اس نئی سیاست کی گنگا الٹی بہتی ہے۔
خوشحال گھرانے کے تعلیم یافتہ لوگ ہیں جو اپنی سیاست چمکانے کے لئے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خوب واہ واہی حاصل کرلیتے ہیں۔اس سیاست میں سکھ پہچانا شرط نہیں ہے دکھ پہچانا لیکن ضروری ہے ۔جانوروں کا یہاں احترام ہے البتہ انسان اور اس کی جان کی کچھ بھی قیمت نہیں ہے ۔ہاتھی مرجائے تو ہنگامہ کرنا ہے اور انسان بھوک سے مرجائے تو اس پر بولنا گناہ ہے ۔وکاس دوبےکی ماں سرلادیوی شاید اسی سیاست کو اپنی بربادی کا ذریعہ مانتی ہے ،درحقیقت اسی سے پورا ملک برباد ہورہا ہے ۔اگر اس غلط سمت پر چلتے سیاست کے رتھ اوراس کےپہیےکو نہ روکا گیا تو پھر نام تو وکاس ہوگا مگر کام بربادی کا ،بربادیاں سامنے ہوں گی اور وکاس کا کوئی اتا پتہ نہیں ملے گا ۔۔۔۔

ہمایوں اقبال ندوی ،ارریہ
رابطہ, 9973722710

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close