مضامین و مقالات

جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ ادب کی تدریس : از نوک : تبسسم آراء

آج کے دور کو جدید کہاجاتا ہے اس دور جدید میں
سائنس و ٹکنالوجی ترقی کی راہ می ی ایک اہم کردار ادا کرہی ہے۔
سے ایاtechno+logy انگریزی میی یہ لفظ یونانی زبان
ہے۔جس کے معنی کسی فن یا تکنیک منظم مطالعہ کے ہیی۔ٹیکنالوجی کی تعریف یوں کی جاسکتی ہیکہ کسی میکانیکی علم یا کسی فن کاتوصیفی مطالعہ یا ٹیکنالوجی علم سائنس اور .انجینیر دونوں کا احاطہ کرتی ہے
اکیسوی صدی میں جدید ٹکنالوجی زندگی کے ہر شعبہ میی داخل ہوگئ ہے اور ٹکنالوجی کا استعمال اپنے کام کو بہتر بنانے میں
لازمی تصور کیا جارہا ہے.آج کا دور انفارمیشن کا دور ہے۔ جہاں علمی معشیت کا تصور حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔اور مربوط دنیا میی انفارمیشن ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کرہے ہیی۔ اس دورمیی انٹر نیٹ کی موجودگی ,قوموں ,اداروں اور افراد کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔نت نئے رحجانات کے جنم لینے سے معیاری اداروں کے ذریعہ ائ ٹی کی تعلیم فراہم کرنے کی ضرورت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے

جدید ترین ٹکنالوجی کو جب ہم ارد و ادب کے نقطہ نظر سےتو ٹکنالوجی اردو زبان سے ہم اہنگ ہیی۔ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین نے اپنے مقالہ عہد حاضر میی ٹکنالوجی کی اہمیت "جو اردو
کے حوالے سے ہے ۔ لکھتے ہیکہ ",اکثر اردو زبان کے بارے
میی یہ کہا جاتا ہیکہ اردو زبان مررہی ہے۔ اور اس کی ترقی ممکن نہی۔لیکن یہاں میی بی بی سی کی ایک رپورٹ پیش کرنا چاہتاہوں۔بی بی سی کا ایک خود مختار ادارہ ہے۔جو سب رسانی کے سبب پوری دنیا میی اپنی شناخت رکھتاہے۔اس کے سائٹس کی .پر ہےurdu learnering سہولت بھی موجود
ہندوستان میی بار باریہ بات کہی جاتی ہیکہ اردو زبان ختم ہورہی
ہے۔ اوراس کا مستبل روشن نہی ہے .ایک تازہ ترین کے مطابق
دنیا میی انگریزی کےبعد جس زبان نے وسیع وسیع علاقوں میی ہجرت کی ہے۔وہ اردو ہے۔ یعنی عالمی سطح پر اردو کو اس .اعتبار سے دوسرامقام حاصل ہے
انٹرنیٹ نےزندگی کےہر شعبہ کو متاثر کیا ہے۔جس کی وجہہ سے انسانی معاشرہ میی ترسیل و ابلاغ کے ایک بلکل نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ترسیل کے اس نئے زاویہ سے دنیا کے ایک کنارےپر بیٹھا شخص دنیا کے دوسرے کنارے پر رہنا والا انسان .سے ہمکلام ہونے لگا

اس طرح سے ٹکنالوجی کی اس انقلابی دنیا کو سائبر اسپیس کا نام دیا گیاہے۔ زبان اور ادب کا تعلق اسی معاشرہ سے ہے۔ اور ان پر بھی اس تبدیلی کا موجودہ دور میی ٹکنالوجی شناسی اور اردو
تحخیق میی اس کی اہمیت جدید ٹکنالوجی کے استعمال سے اردو اکتساب اور تحخیق و تدریس کو اسان تر اور موثر بناتا
جدید الات کااردو لرننگ اور ٹیچنگ میی استعمال ویسا ہی اثر ہوا
جیسا کہ زندگی کہ دوسرے شعبوں پر ہوا۔ ادب نے جب ڈیجیٹل اوتار لیا۔ اور برقی تاروں مصنوعی سیاروں کے دور درازکا سفر طئے کرتے ہوءے اپنی ایک الگ ڈیجیٹل دنیا تشکیل دی تو اسے .ادبی سائبر اسپیس کا نام دیا گیا
اج جبکہ جدید ٹکنالوجی گلوبل گاوں اور افاقی سماج کی بنیاد ڈالی ہے۔ادب اس سے کیسے الگ رہ سکتا ہے۔ ادب بھی برقی لہروں کے ساتھ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر طئے کرہاہے۔ایسے میی ضرورت اس بات کی ہیکہ اردو جدید ترین
رحجانات کو اپنانے کی اپنی قدیم ترین روایت پرقائم رہے۔ اور جدید ٹکنالوجی کو اپنے وسیع دامن میی جگہ دے۔کیونکہ اب مسئلہ یہ نہی کے ایا ہمارے اندر اس سےہم اہنگ ہونے کی صلاحیت ہے یا نہی۔اب وقت اگیا ہیکہ ادب اپنے قاری تک پہنچنے تک وسائل کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔اس کے لیے ضروی ہیکہ اس معاشرہ کو
سمجھنا جس میی ہم رہ رہے ہیی۔اور اج کامعاشر ہ صرفیت زدہ
معاشرہ ہے ۔عہد حاضر کو ہم تشحیری اور برقی یا ڈیجیٹل دورکہہ .سکتے ہیی
اس دورمیی وہی قومیی ,نسلیں اور وہی تہذیب و تمدن ترقی
کرینگے ۔جو وقت کے تقاضہ اورمطالبہ کو اپنائنگے۔ اس لئے ضرورت ہم نہ صرف کمپیوٹر کو اپنے نصاب تعلیم کا حصہ بناےbasic tools ۔بلکہ اسے ایک سبجیکٹ کی حیثئت دے۔ کیونکہ یہ اج کی دور کی بڑی ضرورت اور اردو زبان کو فروغ دینے میی .اس کا بڑا رول ہوسکتا ہے
تعلیمی مواد کے لئے۔اڈیو۔ویڈیو۔اور ڈیجیٹل مصنوعات ۔تعلیمی
ویب سائٹ وغیرہ
ابتدائ تعلیم میی ریڈیو اور ٹیلی ویثرن کا استعمال ہورہا ہے۔روزانہ کی بنیاد پراسباق نشر کرتے ہیی خاص موضوعات پر مخصوص لیول کی نشان دہی کرتے ہوءےمخصوص لیولس پر ٹیچرس کی مدد فراہم کرنے والے ریڈیو اسباق سے تدریس کے معیار میی
اضافہ اور درس تدریس میی بھی اضافہ ہوگا.اس طرح کے بلراست کلاسس ٹیچنگ اسکول براڈ کاسٹنگ جہاں ابتدائ تعلیم .کے پروگرام فراہم کیے جاتے ہیی
"اج اس بات کی ضرورت ہیکہ مروجہ تدریسی نظام وقتا "فوقتا
جدید تکنیکی و تخلیقی تبدیلیاں عمل میی لائ جائے تاکہ اساتذہ اپنے کام و پیشہ لطف اندوزہونے کے ساتھ زمانہ کی رفتار کا ساتھ .دےسکیں
ادب کی کی درس تدریس پر جدید تحقیقات کی روشنی میی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیی۔ خاص طور پر اساتذہ جو تدریس اور
معلومات اور ترسیل کے اہم ستون مانے جاتے ہیی.اج جدید معلومات سے تدریسی و سائنس سے ہم اہنگ ہوکر”اکتساب برائے تدریس۔ )سیکھو,سکھانے کے لیے اور سکھاو سیکھنے کے لیے( کے نظریہ پر عمل پئرا ہیی۔ learn to teach .teach to learn. درس و تدریس کو موثر و مفید بنانے کے یےچند ایسے شعبہ ہیی
جس پر خاص توجہہ مرکوز کرنے کیا اشد ضرورت ہے تاکہ ایک
ایسا نظام تشکیل دیا جاسکے جو موجودہ نظام کو موثر,مربوط اور
منظم بناسکے۔ تدریس کا دائرے کار نہایت وسیع ہے۔جسمیی
موثرتدریس کے لیے بہتر طریقہ ہائے تدریس سے اگاہی ۔تعلیمی
منصوبہ بندی ,مضمون اور سبق کی منصوبہ بندی ,منظم انداز
میی منصوبہ پر عمل پیرائ ,طلبہ کے رویوں اور برتاو میی
بہتری کے لیے خاص حکمت عملی کو اختیار کرنا ,طلبہ کی ترقی
کی مناسب جانچ و نگرانی کے لیے تعین قدر )امتحان(کی عالمانہ عبور ,پیشہ وارانہ صلاحیتوں میی اضافہ اور بہتری کےلیے سعی .و جستجو وغیرہ جیسے عناصر شامل ہے
ادب میی بہتر درس و تدریس کے ذرائع جیسے ای کلاس روم ,اسمارٹ کلاس ,اور ہیڈ پروجیکٹر ,کمپیوٹر,سی ڈیز ,ٹیابلیٹ, لیاپ ٹیاپ وغیرہ شامل ہیی۔جن کی مدد سے عصر حاضر کا استاد .تعلیم کو بہتر بناسکتا ہے

Tabassum ara phd research scholar osmania university
9014782069

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close