مضامین و مقالات

مسلمانوں کے شاندار ماضی کی یادگار : بھارت کی عالیشان تاریخی مسجدیں : تحریر:غوث سیوانی، نئی دہلی

تحریر:غوث سیوانی، نئی دہلی
Email:ghaussiwani@gmail.com
Ghaus Siwani ki Mahfil/Facebook

بھارت ایک قدیم تاریخی ملک ہے اور اسلام کی تاریخ یہاں جتنی پرانی ہے،اتنی ہے قدیم ہے یہاں مسجدوں کی تاریخ۔ بھارت اور عرب کے رشتے عہد اسلامی سے بھی پرانے ہیں اور تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اسلام کی کرنیں یہاں پہنچنے لگی تھیں اور اسی دور میں یہاں پہلی مسجد بھی تعمیر ہوچکی تھی۔برصغیر میں اسلامی سلطنتوں کا قیام بھی عہدبنوامیہ میں ہوچکا تھا مگر بھارت کے اندرونی حصوں میں اسلام کی اشاعت بعد کے دور میں ہوئی۔ یہاں مسلم حکمرانوں نے ایک طویل مدت تک حکومت کی اور اس دور کی یادگار شاندار تاریخی مساجد ہیں،جو وسیع وعریض ہونے کے ساتھ ساتھ فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہیں۔ آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمان گوناگوں مسائل سے دورچار رہے، کبھی فرقہ وارانہ فسادات نے ان کا جینا دوبھر کئے رکھا تو کبھی ان کے سامنے اقتصادی مسائل سر اٹھائے کھڑے رہے، اس کے باوجود ان کے اندر دینی بیداری آتی رہی اور ان کی آبادی کے ساتھ ساتھ مسجدوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا رہا مگر ان مسجدوں میں کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جسے ملیشیا کی شاندار مساجد کے مدمقابل رکھا جائے یا جس کا موازنہ پاکستان کی فیصل مسجد سے کیا جاسکے، البتہ تاریخی لحاظ سے جتنی عالیشان مساجد بھارت میں ہیں کسی دوسرے ملک میں شاید ہی ملیں۔ یہ مسجدیں بھارت میں مسلمانوں کے شاندار ماضی کی یادتازہ کرتی ہیں۔ کیرل کی چیرومن پیرومل مسجد کو اس خطے کی پہلی مسجد ہونے کا شرف حاصل ہے تو دلی کی مسجد قوت الاسلام نے بھارت کے قلب میں اسلام کے جاں گزیں ہونے کو پیش کیا۔ حالانکہ آج اس مسجد کی کچھ دیواریں ہی باقی بچی ہیں مگر اس کا شاندارمئذنہ ’’قطب مینار‘‘ مسلم بھارت کی ناقابل فراموش یادگار کی طرح آج بھی ماضی کی داستان بیان کر رہاہے۔

[ads1]

چیرامن پیرومل مسجد
چیرامن پیرومل مسجد کو بھارت کی پہلی مسجد کہا جاتا ہے۔مشہور ہے کہ یہ مسجد پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہی کیرالہ کے کوڈنگلور علاقے میں بن گئی تھی۔حالانکہ اس مسجد کی کئی بار تعمیر ہوچکی ہے اور اس کی پرانی شکل وصورت قائم نہیں رہی ۔مختلف تاریخی شواہد اور مقامی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ کیرل کے انصاف پسند راجہ چیرامن پیرومل نے اسلام قبول کر لیا تھا اور راجہ کے ہی حکم سے یہ مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ واضح ہوکہ مالابار سے عربوں کا تجارتی رشتہ بہت پرانا ہے۔ اس کی تاریخ، اسلام سے بہت آگے تک جاتی ہے۔ یہاں عرب تاجر قدیم زمانے سے آتے رہے ہیں،اسی کے ساتھ اس خطے میں یہودی اور عیسائی بھی آتے جاتے رہے ہیں اور اسلام کی طرح یہودیت وعیسائیت کی آمد بھی اسی خطے میں سب سے پہلے ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں سب سے پہلے سینگاگ اور چرچ بھی اسی علاقے میں بنے تھے۔ چیرامن پیرومل مسجد، اسلام کے وسیع نظریے کو آج بھی قائم رکھے ہوئے ہیں اور جس طرح یہاں مسلمان مردآسکتے ہیں اسی طرح خواتین بھی آسکتی ہیں۔ اس مسجد کے دروازے غیر مسلموں کے لئے بھی کھلے ہیں اور ان کی بڑی تعداد یہاں آمدورفت کرتی ہے۔ یہاں کچھ غیر مسلم بچے امام مسجد سے پڑھنے آتے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے ان بچوں کو بزرگوں کا آشیرواد ملے گا۔ ملک کی دیگر مساجد کے برخلاف اس مسجد کی عمارت میں گنبدومینار نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی عمارت فن تعمیر کے لحاظ سے اہم ہے مگر یہ تاریخی لحاظ سے بے حد اہم ہے۔

[ads2]

جامع مسجد، دہلی
دہلی کی جامع مسجد بھارت کی سب سے بڑی اور سب سے پرانی مسجدوں میں سے ایک ہے۔ اس عالیشان مسجد کو مغل بادشاہ، شاہ جہاں نے سرخ پتھروں سے تعمیر کرایا تھا۔یہ مسجد مغل عہد میں تعمیر شدہ سب سے خوبصورت اور وسیع مسجد ہے۔ اس کی عمارت انتہائی دلکش اور فنکارانہ انداز میں بنی ہوئی ہے۔ اس مسجد کی تعمیر 1650 سے 1656 کے درمیان ہوئی۔پرانی دہلی میںلال قلعہ سے محض 500 میٹرکے فاصلے پر جامع مسجد واقع ہے۔ اسے بننے میں 6 سال کا وقت اور 10 لاکھ روپئے لگے تھے۔بلوا پتھر اور سفید سنگ مرمر سے تعمیر اس مسجد میں تین بلند وبالا دروازے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مشرقی دروازہ، جس کا نام شاہجہاں گیٹ ہے، کا استعمال بادشاہ کیا کرتا تھا۔مسجد میں گیارہ محرابیں ہیں اوردرمیان والی محراب دوسری محرابوں سے کچھ بڑی ہے۔ اس کے اوپر بنے گنبد وںکو سفیدسنگ مرمرسے بنایا گیا ہے اور سیاہ سنگ موسیٰ کی دھاریوں سے سجایا گیا ہے جن کی تعداد تین ہے۔ عمارت کی دونوں جانب دو اونچے اونچے مینار ہیں۔ مسجد ایک بلند پہاڑی پر بنائی گئی ہے لہٰذا دور سے نظر آتی ہے۔

تاج المساجد،بھوپال
تاج المساجد ،بھوپال کا اہم لینڈ مارک مانی جاتی ہے۔یہ مسجد، بھارت کی پرانی مسجدوں میں سے ایک ہے۔ اسے ملک کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ اس عالیشان مسجد کی ساخت انتہائی پرکشش اور خوبصورت ہے۔ یہ مسجد گلابی رنگ کی ہے اور اس کے گنبد سفید رنگ کے ہیں۔ اس مسجد کو اس لئے بھی یاد کیا جاتا ہے کہ یہاں تبلیغی جماعت کا عالمی اجتماع ہوتا ہے۔

[ads5]

مکہ مسجد
مکہ مسجد حیدرآباد کی سب سے پرانی مسجدوں میں سے ایک ہے بلکہ اسے ملک کی سب سے بڑی مساجد میں شمار کیا جاتا ہے۔یہاں کے حکمراں اور حیدرآباد شہر کے بانی محمد قلی قطب شاہ نے اس مسجد کی تعمیر کروائی تھی۔ 16 ویں صدی کی اس مسجد کو دیکھ کرآج بھی ہندوستانیوں کاسر فخرسے بلند ہوجاتا ہے۔مکہ مسجد کی تعمیر کا کام 1617 میں شروع ہوااور 1694 میں مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دور میں مکمل ہوا۔ کہتے ہیں کہ اس کے بنانے میں تقریبا 8000 لوگوں نے کام کیا اور 77 سال لگے۔

جامع مسجد،سری نگر
جامع مسجد سری نگر (کشمیر) ،سری نگر کی سب سے پرانی اور سب سے بڑی مسجدوں میں سے ایک ہے ۔اس مسجد کی طرز تعمیر میں برطانوی فن تعمیر کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔یہاں آنے والے اس کی خوبصورتی دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔ مسجد کا بڑا ہال جس میں نماز ادا کی جاتی ہے، بے حد وسیع وعریض ہے۔ 370 کھمبوں پر کھڑی یہ مسجد اتنی بڑی ہے کہ اس کے اندر تقریبا 30ہزار لوگ ایک ساتھ نماز ادا کر سکتے ہیں۔

آگرہ کی جامع مسجد
مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی سب سے پیاری بیٹی جہاں آرا بیگم کی یاد میں آگرہ کی اس مسجد کو بنوایا تھا، جو 1648 میں تعمیر کی گئی تھی۔اسے آگرہ کے اہم اور پرکشش تاریخی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس مسجد کو لال بلوا پتھر اور سفید سنگ مرمر سے سجایا گیا ہے۔یہ بھی بھارت کی سب سے بڑی مساجد میں سے ایک ہے۔ یہ اپنے مینار،منبر اور خاص قسم کے گنبد کے لیے جانی جاتی ہے۔

[ads4]

جامع مسجد فتح پوری سیکری
جامع مسجد فتح پور سیکری کی تعمیر 1571 میں مغل بادشاہ اکبر کے دور حکومت میں ہوئی تھی۔ اسی کے زمانے میں یہ شہر بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ سرخ پتھروں سے تعمیر شدہ یہ شہر زیادہ دن آباد نہیں رہا مگر تعمیری نکتہ نظر سے یہ اتنا خاص تھا کہ سیاح آج بھی اسے دیکھنے آتے ہیں۔ شہر کے آثار آج بھی شاندار لگتے ہیں۔شاہی عمارتوں سے متصل ہی جامع مسجد ہے اور یہیں مشہور صوفی حضرت شیخ سلیم چشتی کی درگاہ بھی ہے۔ یہ شاندار مسجد ہے۔ وسیع وعریض ہونے کے ساتھ ساتھ طرز تعمیر کے لحاظ سے بھی خاص ہے۔ایک بلند پہاڑی کے اوپر ایک بڑے سے احاطے میں یہ مسجد واقع ہے۔مسجد کا برآمدہ بہت بڑا ہے اور اس کی دونوں جانب جماعت خانہ ہے۔ جامع مسجد میں کھڑے ہوکر شیخ سلیم چشتی کی مزار پر نظر پڑتی ہے جو کلاکاری کا حیرت انگیز نمونہ ہے۔ پوری جامع مسجد خوبصورت نقاشی اور رنگا رنگ پتھروںسے سجی ہوئی ہے۔ بلند دروازے سے ہوتے ہوئے جامع مسجد تک پہنچا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ یہاں بادشاہی دروازہ بھی ہے۔ ان دروازوںکی خوبصورتی بھی دیکھتے بنتی ہے۔

مسجد ِعمر
حالیہ دور میں جو عالیشان مسجدیں تعمیر ہوئی ہیں ان میں ایک رام پور مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی مسجدعمر بھی ہے۔اس کی تعمیر اتر پردیش کے سابق وزیر شہری ترقیات محمد اعظم خاں نے کرائی ہے اور اب تک اس کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ مسجد مکمل ہونے کے بعد اس میں ایک لاکھ لوگ ایک ساتھ نماز ادا کرسکیں گے۔ محمد علی جوہر یونیورسٹی، اعظم خاں کا ڈریم پروجیکٹ ہے اور اسی کے احاطے میں ریاست کی سب سے بڑی اور خوبصورت مسجد بن رہی ہے۔ اس میں دنیا کی دیگر خوبصورت مساجد کی طرز پر کام چل رہا ہے۔ یہ کوسی ندی کے کنارے پر واقع ہے۔ مسجد عمر دو منزلہ ہے۔ مسجد کی مینار 125 فٹ اونچی ہے۔مسجد میں لفٹ بھی لگے گی۔ عمارت بن چکی ہے، مگرفرش اور دیواروں پر سفید پتھر لگانے کا کام چل رہا ہے۔ دیواروں پر قرآن کی آیتیں نقش کی جا رہی ہیں۔اس کا گنبد کو ترکی اور ایران کی مساجد کی مثل بنایا جارہاہے۔اس کے باہر لان کے ساتھ ہی باغ بھی بنائے جا رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close