مضامین و مقالات

اندھا، بہرا ، گونگا سیمانچل : محمد رضی احمد مصباحی

زمانہ قدیم کا بنگال واڑیسہ اور نیپال کاکچھ قدیم علاقہ جو اب بہار کے مشرقی شمالی میں شامل ہے جسے عرف عام میں سیمانچل کہاجاتاہے ، سیمانچل کہے جانے کی اہم وجہ یہ ہے کہ یہ علاقہ اپنے دواطراف میں دو بین الاقوامی سیماءوں کو ٹچ کرتاہے ، پہلا بارڈر جہاں بڑی آسانی سے ایک دوسرے ملک سے انسانی "آواجاہی” کا تبادلہ ہوتاہے وہ نیپال ہے دوسرا بارڈر جو بڑا حساس ماناجاتا ہے بنگلہ دیش ہے ۔ "رینو” کی دھرتی ، حقانی کی جنم بھومی ، ندیوں اور ہرے بھرے علاقوں اور خوبصورت جنگلی پھولوں سے لدا ہوایہ علاقہ پہلی نظر میں اپنی معصومیت کا نظارہ پیش کرتاہے ۔

[ads1]

سیمانچل کی خاص پہچان یہاں کی آبادی اور یہاں کا ملاجلاکلچر ہے ، جس میں بہار کی خوشبو، بنگالی کی مہک ، نیپال کی رنگارنگی اور پورے ملک کا علمی پھریرا لہراتاہے ۔ کسان سیمانچل کے اور تاجرپورے ملک سے ۔میں اپنے اس دعوی میں کتنا سچاہوں مجھے پتہ نہیں ہے لیکن یہ ایک سچائ ہے جس کا کوئ انکار نہیں کرسکتا۔ وہ یہ کہ دنیا کا یہ واحد خطہ ہے جہاں” دنیاکی سب سے زیادہ بولی ” بولی جاتی ہے اور دنیا کی سب سے زیادہ زبانوں پر لٹریچر اس خطے کے خستہ حال مجاہدین ادب تیار کرتے ہیں ۔ بنگالی ، میتھلی ، سنتھالی ، کل ھیائ ، نیپالی، شیخیائ ، سرجاپوری،بادیائ ، آدی واسیائ ، بھوجپوری ، اردو ، ہندی ، انگلش عربی اور فارسی اس چھوٹے سے خطے میں اتنی زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں ۔ خاص کر اردو ، ہندی ، بنگلہ ، انگلش ، فارسی اور عربی لٹریچر کے لیے یہ علاقہ اپنی خاص شناخت رکھتاہے ۔لمبے زمانے تک بلکہ ہم نے اپنے بچپنے تک فارسی کو لکھنے پڑھنے میں پہلے مقام پر دیکھا ہے ۔ دینی تعلیم کے میدان میں بھی اس علاقے نے پورے ملک میں اپنی بیش بہا خدمات پیش کی ہیں ۔ مسلمانوں کی اکثریت ہونے کی وجہ سے ہر مکاتیب فکر کو سب سے زیادہ طلبہ یہیں سے میسر آتے تھے ۔ لیکن آزادی کے بعد ان ہونہار طلبہ کا مذہب کے لیے جیسا استعمال ہونا چاہیے تھا مدارس کے فرسودہ نظام کی وجہ سے ان افراد سے وہ فوائد حاصل نہیں کئے جاسکے ۔

[ads2]

سیمانچل کا کلچر

سیمانچل میں بھانت بھانت کی بولی ، اور ہر مذاہب کے انسانوں کی آبادی ہونے کی وجہ سے ” کنگا جمنی تہذیب "سیمانچلی کلچر کی خاص پہچان ہے ، سارے مذاہب کے لوگ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں ۔خاص کر مسلمان اپنے ارد گرد رہنے والوں کے ساتھ محبت کا خاص برتاءو کرتے ہیں ۔ کسی زمانے میں اردو ذریعہ تعلیم تھی اور ہر سماج ومذہب کے افراد اردو سے شغف رکھتے تھے ، مسلمانوں میں آج بھی مدرسوں میں اپنے بچوں کو پڑھانے کا رواج ہے لیکن تعلیم وکردار کی وہ پرانی سی کہانی غائب ہوگئی ہے ۔مسلمانوں کو پنڈت کے ساتھ ، راج پوت کو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر یہاں کھاناکھاتے دیکھاجاتاہے ۔ ایک دوسرے کے تہوار میں شرکت کرنا ، مبارک باد دینا ، بدھائ قبول کرنا ۔ شادی میں شریک ہونا ، بیٹی کو ایک ساتھ رخصت کرنا یہاں کے کلچر کی خاصہ ہے ۔ یہ سب مستقل موضوع ہیں اس پر تفصیل سے پھر کبھی اپنے ڈھب سے بات کی جائے گی ۔

[ads3]

سر دست سیمانچل کی اس خصوصیات کا ذکر کرنا ہے کہ ” سیمانچل پردیس ” اپنے مہمان کی قدر کرتاہے ۔ اگر معلوم ہوجائے کہ سامنے والا ہمارا مہمان ہے تو ہر شخص اپنے طور پر اسے خوش کرنے کا خواہاں ہوتاہے ۔ مہمان نوازی سیمانچل پردیس کے روح میں بسیرا کرتی ہے ۔مہمان آجائے تو سارے کام بند ، آپس کی شکوہ شکایتیں غائب ، پڑوسی کی ناچاقی ختم بس مہمان ہی سب کچھ ہوتاہے ۔ قسم قسم کے کھانے بنائے جاتے ہیں اور ہر آدمی کی کوشش ہوتی ہے کہ مہمان اتنا کھالے کہ یہاں سے جاہی نہ سکے ۔کھلانے کا انداز بھی سیمانچل پردیس کی مہمان نوازی تہذیب کا حصہ ہے ۔ایسے لوگ یقینا دل کے بڑے سادہ ، زبان کے سچے اور یقین کے پختہ ہوتے ہیں ۔ہر آنے والے پر بھروسہ کرلینا ان کی عادت ثانیہ ہوتی ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ اپنی ساری پروپرٹی کسی پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے حوالے کردیتے ہیں اگر واپس مل جائے تو فبہا نہ ملے تو یہ کہ کر تسلی کرلی جاتی ہے کہ ” ہماری قسمت تھوڑی لے گیا ہے ” سیمانچل اپنے علاقے کے دوغلے سیاست کی وجہ سے ہمیشہ پریشانی کا شکار رہاہے ۔ جو بھی لیڈر بنا اس نے اپنے خاندان ، حواری جواری اور رشتہ دار کے علاوہ کبھی علاقے کی فلاح کا کام نہیں کیا ۔

[ads4]

"سیمانچل کی ذرائع آمدنی
سیمانچل کی ذرائع آمدنی ” کاشت کاری ” ہے ، بیس سال پہلے تک یہاں کا پٹ سن پوری دنیا میں اپنی مثال آپ تھا ، گیہوں ، دھان ، مونگ ، مسور ، ارہڑ ، مکئی مشوم یہاں کی خاص پیداوار ہیں ۔ آج بھی بانس کی کھیتی کے لیے یہ علاقہ اپنی خاص پہچان رکھتاہے ۔ آبادی کے حساب سے کھیت بہت ہیں اور اچھی کاشت بھی ہوتی لیکن اکثر دھان کی فصل سیلاب کے ستم کا شکارہوجاتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں سے سیمانچل کے کسانوں نے ” مکئی یا مکا” کی فصل لگانی شروع کی ، زمین اچھی اور کسان کی محنت نے جرسی گائے کی طرح مکئی کی پیداوار دینا شروع کردیا ۔ پھر کیا تھا بنیوں کے وارے نیارے ہوگئے ۔ مکئی کی فصل میں کسان اتنی ہی محنت کرتاہے جتنی ” ماں اپنے پہلے بچے کی پرورش” میں کرتی ہے ۔ایک ایک بالشت میں ایک ایک دانہ زمین میں ڈالنا ، بیسوں دن پودھے کے نکلنے کا انتظار کرنا ، ہر پودھے کی جڑ میں سائڈ سے مٹی چڑھانا ، پھر ہر پندرہ دن اور ہفتے بعد پانی دینا ، دوائ چھڑکنا ، جب پودھا بڑا ہوجائے تو سب کی جڑ میں کھاد ڈالنا ، پانچ مہنے تک اس طرح کی سخت محنت کرنی ہوتی ہے ۔ کسان کی آدھی جان کھیت میں ہوتی اور آدھی اس کے ساتھ ۔فصل پک جائے تو ایک ایک بھٹا توڑنا ،اسے سکھانا ،پھر تیاری کرنا پھر سکھانا پھر اس کے بعد بھی بنیوں کی من مانی ۔
مکئی کی فصل جب تیار ہوجاتی ہے تو اسے فروخت کرنا بڑا مسئلہ ہوتاہے ۔ بنیامن مانی ریٹ طے کرتاہے ، مکئی نقد یا ادھار اٹھالیاجاتاہے اس کے مہینوں بعد رقم دی جاتی ہے وہ بھی روزانہ دوڑتے رہنے کے بعد ۔ اس وقت سیمانچل میں مکئی کے بیوپاری نو900/ سے گیارہ سو تک میں کسان سے مکئی خرید رہے ہیں حالانکہ اس کی اصل ریٹ کچھ اور ہی ہے ۔ اس سال بارش زیادہ ہونے اور وقت سے پہلے ہونے کی وجہ سے بڑے برے کسان تباہ ہوگئے لیکن اس کی نہ کوئ خبر بنی اور نہ ہی ان کسانوں کی بھلائ کے لیے کہیں سے کوئ آواز اٹھی ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سیمانچل کی سیاست مکمل طور سے برہمن کے قبضے میں ہے (سیاست کو برہمن قبضے میں بتانا ایک باریک نکتہ ہے جو آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا ۔ سیاست کا ظاہر کچھ ہے باطن کچھ ہے ) ۔سیمانچل پردیس میں چاہے جس قدر تباہی آجائے حکومت کی اس طرف کوئ توجہ نہیں ہوتی گویااس معاملے میں حکومت بہری، گونگی اور اندھی ہے اسی طرح سیمانچل پردیس کی لیڈری اندھی بہری اور گونگی ہے ۔بے چاری عوام تو خیر کیا کہنا ہر دکھ جھیل کر بھی کبھی شکایت کے دو بول نہیں بولتی ۔سیمانچل میں کسان یونین نہیں ہے ، سیمانچل میں کھیتوں کو بجل نہیں ملتی ، ڈیزل انجن سے آب پاشی کا کام آج تک لیاجاتاہے ۔سیمانچل کے کسانوں کا خون بہت سستاہے ۔ آزادی سے پہلے نواب اور راجے مہاراجے چوستے تھے اب بیوپاری اور نیتاجی صاحبان چوس رہے ہیں ۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ سیمانچل کے کسانوں کے مسائل پر کبھی کسی سیمانچلی لیڈرنے بات کی ہو ۔ اب آئیے مکئی کی سرکاری قیمت جان لیں تاکہ یہ اندازہ ہوجائے کہ گلاب باغ میں بیٹھے ہوئے انسانی جونک مرواڑی اور بنیا کس طرح سے سیمانچل کا خون چوستے ہیں ۔

[ads5]

اس وقت ملک کے کچھ حصے میں مکئی کی اصل قیمت کیا ہے آپ گوگل کرکے دیکھ سکتے ہیں ۔ مکئی اپنی قوالیٹی کے حساب سے کم سے کم چودہ 14/ روپے اور زیادہ سے زیادہ 42/ روپے تک ہے ۔لیکن مارکیٹ ریٹ کیا ہے اسے بھی ایک نظر دیکھنا ضروری ہے ۔ پنجاب 1775, ویسٹ بنگال 1800, دہلی 1800, مہاراشٹرا 1750/ 1659, گجرات 1750,/1650, اترپردیش 1710/1775, نوکچھیا1600, کولکتہ ، 1750/ 1800مل ڈلیوری ، گلاب باغ پورنیہ 1550/ 1600 ، بلٹی پرائز ، کھگڑیا1600, ۔ ایک مرتبہ غور سے ان پرائز کا مطالعہ کریں اور خود سے سوال پوچھیں کہ پانچ مہینہ محنت کرنے کے بعد کسان کو کیا ملا اور کانٹا، ڈنڈی استعمال کرنے کے بعد مرواڑی اور بنیے نے کتنا فائدہ اٹھایا ۔ یہاں بہت سا لوچاہے جسے میں کسی اور موقع کے لیے اٹھاچھوڑتاہوں ۔سیمانچل کے پڑھے لکھے صاحبان قلم اندھے بہرے اور گونگے سے ایک گزارش ہے کہ آپ کب بولیں گے ؟ اور کتنی نسل برباد کرنی ہے اپنی غلامی کی فکری زنجیر توڑنے کے لیے ۔ ؟ جواب مل جائے تو اٹھ کھڑے ہوں اگر نہ ملے تو ایک بار خود کو مخاطب کرکے کہیں کہ ” تم سیمانچلی بہرے ، گونگے اور اندھے ہو”۔یہ آواز وہاں تک پہونچائیں جہاں تک پہونچنے سے سیمانچل کا بھلا ہوسکتاہے ۔

محمد رضی احمد مصباحی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close