مضامین و مقالات

بکھرے توہم زمانے کی ٹھوکر میں آگئے ! فیاض قریشی

فیاض قریشی
9448785860

یہ ایک حقیقت ہے کہ سنہ 1947میں ملک کے بٹوارے کے بعد صدیوں سے آباد مسلمان جنہوں نے اپنے آبائی وطن کو اپنا وطن سمجھا اور مہاجر بننے سے انکار کردیا وہ مسلمان بٹوارے کے فوراًبعد اپنے ہی وطن میں ڈرے ڈرے اور سہمے سہمے سے رہنے لگے، مگر اس ڈر اور خور کی کیفیت ان کے اندر زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہی وہ جلد ہی اس فصاسے باہر نکل آئے اور ببانگ دہل کہا کہ ہم اس ملک کے ایسے ہی شہری ہیں جیسا کہ یہاں بسے ہوئے دوسرے شہری ہیں اور ہم اس ملک کی ایسی ہی قوم ہیں جیسی کہ یہاں کی دیگر اقوام جو کہ صدیوں سے یہاں بسی چلی آرہی ہیں اور اپنی شناخت کو اجاگر کرنے کے لئے قائدین ملّت نے مسلمانوں کو ایک نعرہ بھی دیا وہ یہ کہ ’’فخرسے کہو ہم مسلمان ہیں‘‘ جبکہ اسلام مسلمانوں کے سروں کو دیکھ کر یا پھر نعروں کی تکرار اور گونج سے نہیں پہچاناجاتا بلکہ پہچاناجاتا ہے تو صرف اور صرف ان کے کردار، عمل اور اعمال کو دیکھ کر پہچاناجاتا ہے۔ ڈاکٹرعلامہ اقبالؒ نے اپنے ایک شعر کے دوسرے مصرعہ کے ذریعہ مسلمانوں سے پوچھا تھا ’’تم سبھی کچھ ہو، بتائو مسلمان بھی ہو؟‘‘ گوکہ اس سوال پر ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے، مگر آج بھی علامہؒ کا سوال مسلمانوں کے لئے جوں کا توں باقی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ بحیثیت ملّت اس ملک میں قرآن حکیم کے احکامات اور سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر اچھے اور باکردار اور باعمل امّت بن کر جینے کی ہم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی۔ اور اگر کی ہوتی تو یقینا ہم ایسی خطرناک صورتِ حال سے ہرگزہرگز دوچار نہیں ہوتے جیسا کہ آج ہوچکے ہیں۔

کلمہ طیّبہ پر ایمان لانے کے بعد مسلمانوں سے اسلام کا الین تقاضہ ہے کہ وہ متحد رہیں، سرخرورئی اور کامیابی کے لئے اتحاد ان کا بہترین ہتھیار ہے۔ مگر اس کا کیا کیاجائے کہ اسلام کے اس تقاضہ کو ہم نے بُری طرح نظرانداز کردیا اور اس ہتھیار کو اس قدرکند، ناکارہ اور زنگ آلود کردیا کہ اب یہ ہتھیار ہمارے لئے کسی کام کا نہیں رہا۔ اس کے برعکس نفاق ہماری زندگیوں میں جڑپکڑگیا اور ہماری زندگیوں کا وطیرہ بن گیا۔ جہاں ہم مذہب کے نام پر عقیدوں، مسلکوں اور فرقوں میں بٹ کر نہ صرف ایک دوسرے سے دور ہوگئے بلکہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تک بن گئے۔ یہاں تک کہ ہماری مسجدیں بھی نفرتوں کی زد میں آگئیں۔ اب مسجدیں مسلمانوں کے لئے اللہ کا گھر نہیں رہیں بلکہ عقیدوں، مسلکوں اور فرقوں کے قلعے بن گئیں۔ جہاں سے ایک دوسرے کو للکارہ جاتا ہے۔ جہاں سے ایک دوسر پر حملہ کیا جاتا ہے کفر اور شرک کے فتوے مسلمانوں کے لئے جاری ہوتے ہیں، مسلمانوں کو جہنمی کہا جاتا ہے۔ (سوال یہ ہے کہ جب مسلمان ہی کافر ہیں، مشرک ہیں اور جہنمی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے جنت کس کے لئے بنائی ہے؟) غرض مسجدیں جو کہ اللہ کا گھر ہوا کرتی ہیں جہاں سے مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لئے خیراور محبت کا پیغام پہنچناچاہئے تھا جب وہاں سے شر اور فساد پھوٹنے لگااور مسلمان ایک دوسرے کا گریباں پکڑنے لگے (یادرہے جب مسجدضرارسے فتنے برپاہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجدکو آگ لگوادی تھی) تو شاید اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت ناگوار گذری ہوگی اور غضب ناک ہوکر ہمارے مذہبی قائدین اور واعظین کو تنبیہ (Warning) دیتے ہوئے عارضی طورپر مسجدوں کو مقفل کروادیاہوگا تاکہ اس کے گھر (مساجد) مسلمانوں کے لئے لڑائی، جھگڑے کے قلعے نہ بن پائیں، اور ہمارے قائدین اور واعظین سنبھل جائیں۔ کیا ہمارے قائدین اور واعظین سنبھل پائیںگے اس کا جواب تو وہی دے سکتے ہیں۔ ساتھ ہی کہوں کہ مذہب کے نام پر مسلمانوں میں انتشار ہی کیا کم تھا کہ ملک کی سیاست نے سیاسی اعتبار سے مزیدبکھیرڈالا اور مسلمانوں کا یہ بکھرناملک میں مسلمانوں کے لئے جلتی کولتھی پر تیل کا کام کیا اور مسلمانوں کی حالت نہ خداہی ملا نہ وصالِ صنم کی سی ہوگئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس ملک کے شاطر سیاست دانوں کے درمیان مسلمان فٹ بال بن کر رہ گئے جو کبھی ایک کھلاڑی کی ٹھوکر میں نہیں رہتا۔

افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ ملک گیر سطح پر مسلمان بحیثیت امّت مذہبی اور سیاسی اعتبار سے قرآن حکیم اور سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر رہنمائی سے محروم ہوگئے جس کی وجہ سے مذہب اور سیاست کے نام پر ملک کے مسلمانوں کی رہنمائی گلی کوچوں میں ابھر آئی اور مسلمان جس کی لاٹھی اس کے بھینس کے مصداق ہانکے جانے لگے۔

اب آئیے مذہب اور سیاست کے محاذ پر قیادت کی ناکامیوں کے بعد ایک اور محاذ جو کہ مسلمانوں کے معاشی اور اقتصادی حالات سے جُڑا ہوا ہے اس کی ناکامیوں کا بھی جائزہ لے لیں۔ اس بات سے ہرکوئی واقف ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کی خوشحالی اور شاندارمستقبل کی خاطر ہمارے بزرگوں نے جو ملک بھر میں جائدادیں وقف کی ہیں یہ جائدادیں ملک کی ریلوے جائدادوں کے بعد سب سے بڑی جائدادیں ہیں جو کہ اربوں اور کھربوں روپیوں پر مشتمل ہیں۔ ان جائدادوں کو ہم اللہ تعالیٰ کی امانت مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس امانت کے ہم کس قدرامین اور محافظ بنے ہوئے ہیں۔ اس سے پیشتر کہ اس پر روشنی ڈالوں کہناچاہوںگا کہ ہم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں جنہوں نے اپنے تو اپنے دشمنوں کی امانتوں کو تک جو ان کے پاس محفوظ رکھی گئی تھیں ان امانتوں کو مکہ سے مدینہ، ہجرت کرنے سے پیشتر ان کے مالکوں تک پہنچانے کے لئے مکمل انتظام کردیا اور ہجرت کے لئے نکل پڑے تھے۔ ایسے نبیؐ کے امتی اللہ کی امانت کے کس قدر امین اور محافظ بنے ہوئے ہیں اگر آپ اس کا جائزہ لیں تودیکھیںگے کہ ان امینوں اور محافظوں سے خیانت ہی خیانت ہوئی ہے جبکہ اقلیتی وزارت بہبودسے لے کر ملک بھر میں بنائے گئے ہروقف بورڈ کے ذمہ دار کلمہ گوحضرات ہی ہیں۔ ان حضرات کے ہوتے ہوئے رہتے ہوئے ملک بھر میں وقف کردہ ان گنت جائدادیں کہیں سرکاری قبضہ میں چلی گئیں تو کہیں غیروں کے قبضے میں تو کہیں ہمارے ہی لوگ ان جائدادوں پر قابض ہوگئے تو کہیں بلاضرورت فروخت کردی گئیں۔ اس طرح اربوں کھربوں روپیوں پر مشتمل جائدادیں ہمارے قبضے سے نکل گئیں اور تو اور ملک بھر میں بیشتر جائدادوں کو لے کر عدالتوں کے فیصلے وقف بورڈس کے حق میں ہوئے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ فیصلے اپنے حق میں ہونے کے باوجود وقف بورڈس ان جائدادوںکو اپنے قبضے میں لینے سے قاصررہے کیوںقاصررہے اور کیوں قاصرہیںاس کا جواب وقف جائدادوں کے امین اور محافظین ہی دے سکتے ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ نام نہاد ملّت کے قائدین، واعظین اور محافظین نے اپنی ناکام قیادت کی وجہ سے ملک میں مسلمانوں کو بارود کے ڈھیروں پر بٹھادیا ہے اور فرقہ پرست ان ڈھیروں کو بڑی بے دردی کے ساتھ آگ لگارہے ہیں اور اس آگ میں مسلمان جھلس رہے ہیں۔ صاف طور پر کہاجاسکتا ہے کہ ملک میں مسلمانوں کو فرقہ پرستوں کی فرقہ پرستی سے اس قدرنقصان نہیں پہنچ رہا ہے جس قدر کہ مسلمانوں کے قائدین، واعظین اور محافظین کی خودپرستی سے پہنچ رہا ہے۔

اب آئیے ملک میں مسلمانوں کے حالات کا سرسری جائزہ لینے کے بعد دیکھیں کہ جب کوئی قوم اپنے حالات کو سدھارنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو کس طرح معرکوں کو سرکرتے ہوئے کامیاب ہوجاتی ہے، اس کی ایک مثال ملک کی وہ دلت قوم ہے جو صدیوں سے پچھڑی ہوئی تھی، ظلم و ستم کا شکار تھی۔ جس کے پاس اپنے حالات کو سدھارنے کے لئے نہ کوئی ذریعہ تھا نہ کوئی وسیلہ تھا نہ ہی جائدادوں کے انبارتھے اور نہ ہی ان کے پاس قرآنِ حکیم کے احکامات اور سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح رہنمائی تھی۔ یہ سب کچھ نہ ہونے کے باوجود ملک کی آزادی کے تہتر(۷۳) سال کے اندر اندر وہ قوم ملک کی طاقتور قوم بن کر ابھرتی ہے اور ایسے ابھرتی ہے کہ کہیں حکمران بنی تو کہیں حکومت میں ساجھے دار بن گئی۔ اگر آپ سنجیدگی کے ساتھ اس کا جائزہ لیں تو جان پائیںگے ان کے درمیان اتحاد ایک ناقابل شکست ہتھیار بن گیا۔ اس ہتھیار کے ساتھ ان کے لئے پر خلوص اور بے لوث رہنمائی اور جدوجہد نے اس پر سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔ تو دوسری طرف دیکھئے کہ مسلمان جنہوں نے اس ملک پرکئی صدیوں تک حکومت کی مگر آزادی کے صرف تہتر(۷۳) سال کے اندر اندر نفاق کی وجہ سے ملک کی کمزور ترین قوم بن کر ملک کی پچھڑی ہوئی قوم کے شمارمیں آگئی۔ کیا یہ صورتِ حال ہمارے قائدین چاہے ملّی زندگی کے کسی بھی شعبۂ حیات سے تعلق رکھتے ہوں اپنی آنکھیں کھولنے اور نوشتۂ دیوار کو غورسے پڑھنے کے لئے کافی نہیں ہے اور اگر نہیں ہے تو جان لیں کہ ملک میں آج جو بھی فیصلے مسلمانوں کے حق میں ہورہے ہیں وہ فیصلے مٹی کے تیل سے آگ کو بجھانے کے سے ہیں کیا یہ آگ بجھ پائے گی؟ بقول علامہ اقبالؒ (ترمیم کے ساتھ) ’’ملّت کی فکرکرنادان مصیبت آنے والی ہے‘‘ مگر میں کہوںگا کہ مصیبت آچکی ہے اور گھیربھی چکی ہے۔بہت کھوچکے، بہت گنواچکے، بہت دیر ہوچکی، محض دبی دبی، سہمی سہمی، خالی خولی بے جان چیخ و پکار اور نعروں سے کچھ نہیں ہوگا۔ امت مسلمہ کے قائدین، واعظین اور محافظین ہونے کے ناطے اب توسنبھل جائیں۔ ہاتھ سے ہاتھ ہی نہیں دل سے دل ملاکرپُر خلوص ہوکراور نیک نیتی کے ساتھ اس ملک میں امت مسلمہ کو سنبھالنے اور اسے ملک کی ایک مضبوط اور طاقتور قوم بنانے کے لئے جٹ جائیں جو کہ ملک میں ہمارے تمام مسائل کا واحدحل ہے، برادرانِ وطن کی ایک بڑی آبادی ہمارے لئے فکرمند ہے اس آبادی کو اپنے ساتھ لیں۔ اس آبادی کے نمائندوں کے ساتھ مل بیٹھ کر حالات پر قابوپانے کے لئے لائحہ عمل تیار کریں، منصوبے بنائیں اور ان منصوبوں پر عمل آوری کے لئے اقدام کریں۔ اس کے علاوہ حالات پر قابوپانے اورمصیبتوں سے باہرنکلنے کے لئے کوئی اور ذریعہ اور راستہ نہیں ہے۔ یادرہے ہم اس نبیؐ کے امتی ہیں جنہوں نے ہر موقع پر حالات کے پیش نظر حکمت عملی سے کام لیا تھاہمیں بھی ویسی ہی حکمتِ عملی سے کام لینا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو وارث انبیاء کے مقدس اعزاز سے نوازہ ہے اس اعزاز کی لاج رکھ لیں۔ واعظین اور محافظین کا بلند و بالا رُتبہ اور مقام عطاکیا ہے اس رتبہ اور مقام کا حق اداکریں۔ ایک درمندشاعر نے کیاخوب کہا اس شعر کی سچائی اور صداقت پر غورکریں:

ہم متحد رہے تو زمانے پہ چھاگئے
بکھرے تو ہم زمانے کی ٹھوکر میں آگئے
٭٭٭

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close