مضامین و مقالات

لداخ میں چین کی زیادتی پر ہند میں بائیکاٹ چین کی صدائیں ! محمد تفضل عالم مصباحی پورنوی

نتیجہ فکر :- محمد تفضل عالم مصباحی پورنوی
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی 9889916329

ہند چین کے مابین لداخ کے لائن آف ایکچول کنٹرول LAC پر تقریباً 48/ دنوں سے کشیدگی جاری ہے اور یہ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے. حقیقت میں لداخ کے گلوان گھاٹی میں کیا کچھ ہو رہا ہے اس کی حکومت یا فوج کی جانب سے کوئی خاص معلومات موصول نہیں ہو پا رہی ہے. حکومت ہند اور فوجی افسران اس معاملے کو لوگوں سے واضح انداز میں بیان کرنے سے گریز کر رہی ہے. ستہ پر قابض بھاجپا سرکار کی کیا مجبوری ہے کہ لوگوں کو حقیقت سے روشناس نہیں کر پا رہی ہے؟ لیکن پلوامہ، پٹھان کوٹ کے موقعے پر بھاجپا سرکار اور فوجی افسران کھل کر لمحے لمحے کی خبر سے عوام الناس کو باخبر کیا تھا.

درجنوں آیام سے تلخیاں جاری رہنے کے باوجود بھارتی عوام کو لداخ کے لائن آف ایکچول کنٹرول پر کشیدگی کی خبر سرکاری طور پر اس وقت موصول ہوئی جب 15 جون 2020 کو ہندوستان کے ایک جنرل سمیت 20 جوان چینی فوج کے ہاتھوں شہید ہو گئے اور 10/ بھارتی فوج ان کی چنگل میں پھنس گئے. آج تک حکومت ہند نہ ان شہیدوں اور چینی چنگل میں پھنسے فوجیوں کے اسماء کی لسٹ تک جاری نہیں کر رہی ہے. تعجب ہے!!

حکومت ہند سرکاری طور پر 19/ جون 2020 کو پریس کانفرنس کے ذریعے یہ اعلان کرتی ہے کہ ہمارے کوئی بھی جوان چین کے قبضے میں نہیں ہے اور چین سرکار بھی اس بات کی تصدیق کی ہے . یہ بھارت کے لئے خوشی کی بات تھی اور ساتھ ہی افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ ان کے آنے کی اطلاع دی گئی اور نہ ہی ان جوانوں کا پرجوش استقبال ہوا جیساکہ ابھی نندن کا ہوا تھا. جب پاکستان کے قبضے سے ابھی نندن کو واپس لایا گیا تو اس وقت اس کے استقبال کے لئے کڑاکے کی ٹھنڈی میں باڈر پر لوگوں کا جم غفیر تھا ہر چہار جانب کیمرہ ہی کیمرہ تھا ہر لمحے کو لائیو دیکھایا جا رہا تھا مگر جب چین کے قبضے سے 10 جوانوں کو چھوڑایا گیا تو کسی کو کانوں کان خبر نہیں. واہ واہ مودی جی تیری جرت و ہمت اور 56 انچ کا سینہ. کیا اس لئے ڈر گئے کہ ادھر پاکستان تھا اور ادھر چین؟ !!

کشیدگی کے دوران ہندوستان میں کہیں غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے تو کہیں غصہ و بدلے کی آگ پنپ رہی ہے اور سوشل میڈیا پر بائیکاٹ چین کی آواز زور پکڑتی جا رہی ہے. ٹی وی ڈیبیٹ میں کچھ لوگوں نے حکومت ہند کو مشورہ تک دے ڈالا ہے کہ چین سے موسٹ فیوریٹ نیشن کا درجہ واپس لے لیں. ساتھ ہی کسٹم ڈیوٹی بڑھا دیا جائے جس طرح پلوامہ کے موقعے پر پاکستان سے واپس لیا گیا تھا اور تمام چینی اشیاء کی خرید و فروخت ہندوستان میں بینڈ کی جائے. آئیے ذیل میں اس تعلق سے سلسلہ وار گفتگو کرتے ہیں.

ہند چین کے مابین آپسی تعلقات بہت بہتر ہیں مگر سانحہ لداخ کی وجہ سے دونوں ممالک کے رشتے میں کھٹاس اور تلخیاں نظر آ رہی ہیں. ہندوستان چین کا ایک ایسا پروسی ملک ہے جہاں چین کے لئے شاندار اور بڑا Business Hub ہے وہیں ہندوستان کا اندرونی مارکیٹ چینی اشیاء کی برآمدات پر کافی حد تک منحصر ہے. ہندوستان ہر سال جتنا امپورٹ چین سے کرتا ہے اتنا امریکہ، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات جیسے ممالک سے نہیں کرتا. تقریباً ہندوستان سالانہ 317 ارب ملین امریکی ڈالر سے زائد کا چین کے ساتھ لین دین کرتی ہے. اگر پرسینٹیز کے مطابق دیکھیں تو چین ہندوستان سے 3٪ سامان امپورٹ کرتا ہے اور ہندوستان چین سے تقریباً 60 ٪ سامان خور و نوش، آلات و حربات وغیرہ کی برآمدات کرتی ہے. اس کے علاوہ چین انڈیا میں تقریباً 6/ ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کر رکھی ہے. مودی سرکار کی بنائی ہوئی start up india, make in india, digital india, stand up India, اور skill India جیسی اسکیموں کی سرمایہ کاری میں بھی چین شامل ہے. ہندوستان کی درجنوں کمپنیوں میں چینی شراکت داری جگ ظاہر ہے.

انڈیا کے ہر باورچی خانے، گھر، اور بیڈروم میں ائیر کنڈیشنر، مکسر، ٹی وی، ائیر پیوریفائر، ڈیجٹل والٹ، ٹیوب لائٹ، ایل ای ڈی لائٹ، ٹارچ، ہنڈ واش، کسی نہ کسی شکل میں چین موجود ہے۔ یہاں تک نہانے کے لیے استعمال ہونے والی بالٹیاں بھی بعض اوقعات چین کی ہوتی ہیں. مختلف قسم کے سسٹم سے لیس لیپ ٹاپ، کیبل، ٹیلی-فون سیٹ، سیلور نیٹورک، ڈیٹا پروسیسنگ مشین، مقناطیسی ریڈرز وغیرہ اور موبائل فون جیسے ایم آئی ، وی وؤ، ذیمومی، اوپو، ذولو، وغیرہ جو ہمارے ہاتھوں میں ہے سب کے سب چین کا تیار کردہ ہیں ساتھ ہی موبائل میں جو ایپ استعمال کیا جاتا ہے جیسے سویگی، پے ٹی ایم، ویگو ویڈیو، بیگو لائیو، وی چیٹ، شئر ایٹ، زینڈر، یو سی بروزر، بیوٹی پلس بائٹ ڈانس’ ٹک ٹاک وغیرہ چین کا تیار کردہ ہمارے پاس موجود ہیں جس کے بغیر کچھ انسانی زندگی ادھوری ہے.

انڈین میں دوا کے لئے خام مال جیسے ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس ( اے پی آئی ) کہتے ہیں چین سے آتا ہے ۔ اس کے علاوہ کروسین کے لیے درکار اے پی آئی پیراسٹامول بھی چین سے دریافت کیا جاتا ہے. پارلیمنٹ میں حکومت کے ایک بیان کے مطابق بھارت کی دوا بنانے والی کمپنیاں 70 فی صد اے پی آئی چین سے درآمد کرتی ہیں ۔ 19-2018 کے مالی برس میں ملک کی ادویات بنانے والی کمپنیوں نے چین سے 2.4 ارب ڈالر کی قیمت کی ادویات اور اے پی آئی در آمد کی ہیں. چین سے ادویات کی برآمدات کے حوالے سے انڈیا کا شمار اہم ممالک میں ہوتا ہے ۔ 19-2018 کے مالی برس میں ملک ادویات کی برآمدات 11 فی صد بڑھ کر 2 ۔ 19 ارب ڈالر ہوگیا ہے ۔ انڈیا چین کے خام مال کو ترجیج دیتا ہے کیونکہ بے حد سستا ہے اور آسانی سے مہیا بھی ہوجاتا ہے ۔ سچوان یونیورسٹی اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے پروفیسر ہوآنگ ينسانگ نے کہا ہے ، ” چین میں خام مال مہیا کرانے والی کمپنیاں بھارت کی ادویات بنانے والی کمپنیوں کے بغیر چل نہیں پائیں گی”.

چینی اشیاء کی موجودگی آپ نے اپنے گھروں میں ملاحظہ کیا کہ کس طرح چین ہمارے پاس کس کس شکل میں موجود ہے. آپ خود غور و فکر کریں کہ سرحدی تلخی کی وجہ سے چین اور چینی اشیاء کا بائیکاٹ کریں تو نقصان کس کا ہے؟. ہندوستان کی معاشی صورتحال ایسے ہی تنزلی کی راہ پر گامزن ہے. اگر چینی برآمدات بینڈ ہوتا ہے تو ہندوستان میں مہنگائی اپنے شباب پر ہوگی. ترقیاتی شرح میں کافی گراوٹ نظر آئے گی.

ہندوستان چین سے کثیر تعداد میں سامان اس لئے در آمد کرتی ہے کہ چینی پروڈکٹ انڈین پروڈکٹ سے بہت سستا اور مضبوط ہوتا ہے اور آسانی سے مارکیٹ میں دستیاب بھی ہو جاتا ہے. بصورت دیگر بینڈ ہوتا ہے تو سستا سامان بازار سے کالعدم ہو جائے گا.

کچھ لوگ جو کہتے ہیں کہ چین سے موسٹ فیوریٹ نیشن کا درجہ واپس لے لیا جائے اور کسٹم ڈیوٹی بڑھا دی جاے اس معاملے پر آپ غور کریں ہم چین سے تقریباً 60٪ سے زیادہ سامان امپورٹ کرتے ہیں اور چین ہم سے 3٪ سامان امپورٹ کرتا ہے بتائیں نقصان کس کا ہے کف دست کسے ملنا پڑے گا ہاں پاکستان سے اس لئے لیا گیا تھا کہ وہاں ہم زیادہ ایکسپورٹ کرتے تھے. حالانکہ چینی سرکار اس تعلق سے کوئی بات نہیں کی ہے جب وہ کچھ نہیں کر رہا ہے تو ہم کیوں نقصان کو گلے کا پھندا بنانے کے فراق میں سرگردہ ہیں. ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہندوستان میں اتنی قابلیت ہے کہ ان تمام اشیاء کی پیداوار کر سکتی ہے مگر نیت صاف نہیں ہے. سرکاریں مذہب، ذات برادری کے نام پر سیاست کرنا جانتی ہے کام کرنا نہیں جانتی. سیاسی جملوں کی بن موسم برسات کرنا جانتی ہے مگر تعمیر و ترقی پر بحث و مباحثہ نہیں کرنا جانتی. بائیکاٹ چین پاک کر سکتی ہے مگر اس کے دور بین بری نتائج سے خود کو محفوظ رکھنے کی تیاری نہیں کر سکتی. یہ ایک حقیقت ہے کہ بائیکاٹ کسی معاملے کا حل نہیں ہے اور یہ بائیکاٹ کے جو نعرے لگا رہے ہیں اس میں بھی کوئی خاص دم نہیں ہے اور نہ حکومت ہند اس پر غور و فکر کر رہی ہے.

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close