مضامین و مقالات

انسانی معاشرہ میں عورت کا مقام اور ہماری ذمہ داریاں ! محمد مجتہد اعظم ندوی

محمد مجتہد اعظم ندوی
پورنیہ (بہار)
رابطہ نمبر: 7301664044

عورت معاشرہ انسانی کا ایک لازمی اور قابل احترام کردار ہے۔ روئے زمین پر نوع انسانی کی بقا کا سفر تنہا کسی ایک صنف کے دائرے اختیار سے باہر ہے یا یوں کہا جائے کہ انسانی نسل کی بقا اور معاشرت کی گاڑی جن دو پہیوں پر رواں دواں ہے ان میں ایک اہم مقام عورت کا بھی ہے۔ لہذا عورت کی اہمیت سے انکار کا کوئی جواز نہیں۔ عورت ہر روپ اور ہر رشتہ میں عزت و وقار کی علامت ، وفاداری و ایثار کا پیکر سمجھی جاتی ہے اور قانونِ فطرت کا تقاضا بھی یہی ہے کیونکہ عورت کے تصور کے بغیر اس دنیا رنگ و بو کا تصور محال ہے۔
وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے سوز سے ہے زندگی کا سوز ِ دروں
اگر ہم کسی ترقی یافتہ معاشرہ یا کسی مہذب و کامیاب شخص کی زندگی کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہر کامیاب انسان یا معاشرہ کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ گویا عورت کا وجود مایوسی کے اندھیروں میں امید کی کرن اور صبح نو کی نوید ہے۔
اسلام سے پہلے دنیا کی مختلف تہذیبوں اور مختلف معاشروں میں عورت کو کیا مقام حاصل تھا؟ اگر ہم تاریخ عالم کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اسلام سے پہلے دنیا کے مختلف ممالک میں عورت اپنے بنیادی حقوق سے بالکل محروم سمجھی جاتی تھی۔ اقوام عالم میں کوئی بھی اسے تقدس و احترام کی چادر اوڑھانے کو تیار نہ تھا بلکہ عورت معاشرہ کے ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ طبقوں تک ہر ایک کی جنسی خواہشات کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ خود ہمارے ملک ہندوستان میں اسلام کی شمع روشن ہو نے سے پہلے یعنی محمد بن قاسم کے آمد سے قبل عورتوںکے ساتھ گھٹیا سلوک روا رکھا جاتاتھا۔ قدیم ہندوستانی قوانین کے مطابق وبائیں اور موت، جہنم اور آگ اور سانپوں کا زہر عورت سے بہتر ہے اور اسے زندہ رہنے کا حق صرف خاوند کے ساتھ ہی تھا۔ اگر خاوند مر جائے اور اسے نذر آتش کر دیا جائے تو عورت کو بھی اس کے ساتھ ہی زندہ جلا دیا جاتا تھا۔
جزیرۃ العرب میں بیٹی کی پیدائش کو باعثِ عار سمجھا جاتا تھا۔ماں باپ اپنے ہاتھوں سے بیٹی کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے۔
جو ہوتی تھی پیدا کسی گھر میں دختر
تو خوفِ شماتت سے بے رحم مادر
پھرے دیکھتی جب تھے شوہر کا تیور
کہیں زندہ گاڑ آتی تھی اس کو جاکر
قرآن کریم میں اس طرز عمل کی عکاسی یوں کی گئی ہے:
’’ او ر جب ان میں سے کسی کو لڑکی کے پیدائش کی خبر سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غصہ سے بھر جاتا ہے ۔ وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے۔ اس بُری خبر کی وجہ سے جو اسے سنائی گئی ہے۔ اب یہ سوچنے لگتا کہ آیا اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ زندہ رکھا جائے یا اسے مٹی میں دبا دے، یعنی زندہ درگور کردے۔ خبردار کتنا بُرا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔ (سورۃ النحل ۵۹۔۵۸)
شارعِ اسلام نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کے جن اقدار سے انسانی معاشرہ کو نجات دلائی ان میں لڑکیوں کو زندہ دفن کردینا بھی شامل ہے۔ نو عمر بچیوں کو محض اس لئے پیوند خاک کردیا جاتا کہ ان کی ناک نہ کٹ جائے ۔ کوئی ان کا داماد نہ کہلائے۔ لیکن اسلام نے واذالمؤدۃ سئلت، بای ذنب قتلت کے جانفزا حکم کے ذریعہ اس قبیح و ظالمانہ رسم ’’دختر کشی‘‘ کا سد باب کیا اور ڈوبتی انسانیت کو حیات اور بنتِ حوا کو جینے کا حق دیا۔
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کی پرورش کی جتنی فضیلت بیان کی ہے بیٹوں کی پرورش پر اس قدر بیان نہیں فرمایا۔
حضرت ابو سعید خذری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرے ، ان کے ساتھ اچھا برتائو کرے تو اس کی بدولت وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (ترمذی)
ایک دوسری جگہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ اس کی پرورش اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرے اور ان کو تہذیب و ادب سکھائے اور ان کو کھلانے پلانے اور دیگر ضروریات کے انتظام کی تکلیف پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ اسی طرح اگر کسی کے پاس دو بیٹیاں ہوں یا صرف ایک بیٹی ہو اور اس کی بھی پرورش اسی طرح کرے تو اس کے لئے بھی جنت ہے۔ ‘‘ (حدیث)
معلوم ہوا کہ بیٹی جہنم سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ بایں طور پر کہ اگر کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہنوں کی پرورش اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرے اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے تو وہ بچی اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔ اس کے علاوہ ایک اور حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ: ’’ جس شخص کے پاس تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز میں پرورش کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ شخص جنت میں اس طرح داخل ہوں گے جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں۔ ‘‘ (ترمذی)
گویا اسلام کی آمد نے عورتوں کو سماج کے اندر جینے کا حق دیا اور عورتوں کی عظمت رفتہ بحال ہوئی ۔ آج ہم نہایت فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورتوںکو تحت الثریٰ سے نکال کر اوج ثریا تک پہنچایا اور اس کو بیٹی ، بہو ، بہن ، ماں اور بیوی ہرروپ میں عزت و سربلندی سے نوازا۔
مگر افسوس کہ آج کے جدید ترقی یافتہ اور باشعور دور میں بھی عورتوں کے ساتھ ناروا سلوک کئے جارہے ہیں، عورتوں کے مشکلات کم ہونے کے بجائے آئے دن کئی گنا بڑھتے جارہے ہیں۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی عورتوںکے ساتھ ظلم و جبر کا سلسلہ عروج پر ہے اور عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔بے حیائی ، فحاشی اور عریانیت کو فیشن کا نام دے کر آج عورتوں کے ساتھ وہ تمام ظالمانہ برتائو کئے جارہے ہیں جو قدیم مذاہب میں یا دو ر جاہلیت میں کئے جاتے تھے ۔
زمانہ جاہلیت کی دختر کشی جیسی ملعون اور قبیح رسم نے جدید پیرائے میں سر ابھار رکھا ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں اولادِ نرینہ کے خواہش مند حضرات کی الٹراسائونڈ کے ذریعہ دورانِ حمل ہی بچے جنسیت سے واقفیت کے بعد ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ کسی طبی ذرائع کے استعمال سے شکمِ مادر میں ہی دختر کشی کردی جائے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی یہ مسئلہ قومی سطح پر پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔
امریکہ میں قائم فلاحی تنظیم جینڈرسائڈ اویرنس پروجیکٹ Gendercide Awerwness Project کی بانی و صدر بیورلی ہل Beverley Hill نے اپنے سروے رپورٹ میںکہا ہے کہ خواتین کو دنیا بھر میں نسل کشی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ عام نسل کشی کی فہرست میں چین سب سے آگے ہے اور ہمارا ملک ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے۔
جنسی شرح تناسب میں آئے گراوٹ کا ذکر کرتے ہوئے ۲۰۱۵ء؁ میں عالمی سطح پر منعقد ایک نشست میں اقوام عالم کے رہنمائوں اور مشیر نے پائیدار عالمی ترقی کا لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ دنیا کو غربت اور انصاف کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ جنسی مساوات کے سنگین چیلنجیز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اترپردیش ریاستی سماجی فلاح و بہبود اور سیوا اسپتال کے مشترکہ دیہی خواتین بیداری تربیتی پروگرام میں بورڈ کے چیئر پرسن دویہ مشرا نے اس بات کا بیباک اظہار کیا ہے کہ زندگی کے ہر مسئلہ کے لئے دیوی کی پوجا کرنے والا ہندوستانی سماج لڑکی کی پیدائش کو منحوس مانتا ہے۔
ہمارے ملک کے نیتی آیوگ نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کی سترہ بڑی ریاستوں میں جنسی شرح تناسب میں زبر دست گراوٹ آئی ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو مستقبل کی مائوں کے حوالے سے خطرناک صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ حکومت ’’ بیٹی بچائو، بیٹی پڑھائو‘‘ کی تحریک چلا رکھی ہے اور اس پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ لیکن اس رپورٹ کے بعد ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا یہ پروگرام صرف نعرے کی حد تک تو کامیاب ہے کہ آپ سے ہر بس ، ہر ٹرک اور ہر ای رکشا پر لکھا ہوا دیکھ سکتے ہیں لیکن حقیقت میں اس پر کوئی عمل نہیں ہو رہاہے۔

سطور بالا سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایام جاہلیت میں عورت کو ہیچ نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔ سماج اور معاشرہ کی تشکیل میں اس کا کوئی نمایاں کردار نہیں مانا جاتا تھا ۔ بدقسمتی سے آج بھی معاشرے کے اندر خصوصاً مغربی معاشرے میں عورتوں کے تئیں نہایت گھٹیا رویہ اختیار کیا جارہا ہے ۔ انہیں صرف عیش و عشرت کا سامان اور جسمانی تلذذ اور جنسی بھوک مٹانے کا ذریعہ تصور کر لیا گیا ہے۔ صنعتی ممالک میں عورت کے وجود کو تجارتی اشیاء کی خرید و فروخت کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ تجارتی تشہیر کے نام پر اس کے کپڑے تک اتروا دیا گیا ہے۔ تجارتی اشیاء کی تشہیر کے نام پر عورت کو برہنہ جسم کر کے صارفین کے سامنے پیش کیا جارہا ہے تاکہ مرد حضرات تجارتی کمپنیوں کے اس دامِ فریب میں پھنس کر اس سے سامان خریدنے پر مجبور ہوسکے۔

اگر ہم اپنے موجودہ معاشرہ کا جائزہ لیں تو یہ دیکھنے کو ملے گا کہ عورتوں کو آج بھی حقارت آمیز نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے۔ راہ چلتے عورتوںپر نازیبا اور غیر اخلاقی الفاظ کا استعمال ہمارا روز کا معمول بن چکا ہے۔ ہمارے معاشرے کے اندر غلیظ ترین گالیوں میں بھی صرف عورتوں کے نام اور رشتوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو نہایت تشویشناک بات ہے جس پر قدغن لگانا نہایت ضروری ہے۔

لہذا آج کے اس تعلیم یافتہ دور کا تقاضہ ہے کہ ہم معاشرے کے اندر سے مردو عورت کے فرق کو سرے سے ختم کریں اور عورتوں پر ہورہے بے جا مظالم کو نہ صرف روکنے کی کوشش کریں بلکہ مثبت اور مستحکم اقدام کرتے ہوئے معاشرے کو صنفی امتیاز سے پاک کریں اور عورتوں کو اس کے اصل مقام اور عزت سے نوازنے کی کوشش کریں۔ خالقِ کائنات نے عورتوںکے تئیں جو حقوق بتائے ہیں اس کو نافذ کریں اور معاشرے میں باعزت اور قابل ِ احترام صنف بن کر زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کریں۔ عورتوں کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کے آہنی کردار کو تسلیم کریں نیز خواتین پر ہورہے ان تمام نازیبا حرکات کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کریں جس سے نہ صرف ہمارا ملک بلکہ اسلام بھی بدنام ہورہاہے۔ اسلامی تعلیمات اور حکومت کے ذریعہ بتائے گئے ہدایات پر سنجیدگی سے عمل کریں اور دوسرے کو بھی عمل کرنے کی ترغیب دیں اور انہیں مکمل تحفظ فراہم کریںتاکہ معاشرے کے اندر زندہ رہنے میں وہ خود کو باعثِ عار نہ سمجھے ۔

اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو انشاء اللہ العزیز بہت جلد ہم عورتوں کو ان کا حقیقی مقام دے سکتے ہیں اور معاشرے کو دختر کشی اور عورتوں کے تئیں ناروا سلوک جیسے ملعون و مبغوض حرکات سے باز رکھ سکتے ہیں۔ وما التوفیق الا باللہ

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close