مضامین و مقالات

عورتوں کی دینی تعلیم : اہمیت و ضرورت ! مولانا محمد جاوید توثیق القاسمی حیدرآباد

اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو اعلی اقدار کا حامل ہے ۔جس نے اپنے ماننے والوں کو اصول و ضوابط اور قوانین کی شکل میں ایک ایسا نظام حیات عطا کیا ہے جو ان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے تعمیر و ترقی اور فوز و فلاح کا ضامن ہے ۔تعلیم انسانی زندگی میں ایک زینہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ایسا زینہ جس کے بغیر ایک انسان نہ تو دنیاوی اعتبار سے ترقی کے منازل طے کر سکتا ہے اور نہ ہی اخروی انعامات سے سرفراز ہو سکتا ہے بلکہ وہ خود کو ذاتی طور پر بھی قابل اعتبار اور قابل تقلید شخصیت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش نہیں کرسکتا اورنہ ہی اس کی زندگی مثالی زندگی ثابت ہو سکتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بلا صنفی امتیاز و فرق کے اپنے ماننے والوں کو پہلے ہی دن سے علم پر زوردیا اور علم کی عظمت و اہمیت سے واقف کرایا۔مذہب اسلام کا یہ ایک ایسا امتیازی وصف ہے جس سے دیگر مذاہب و ادیان خالی ہیں ۔چنانچہ قرآن مجید جو آسمانی ہدایت کی آخری و ابدی کتاب ہے اس کے پہلے پیغام ہی میں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔اقراء باسم ربک الذی خلق ۔خلق الا انسان من علق ۔أقرأ وربک الاکرم ۔الذی علم بالقلم ۔علم الانسان مالم یعلم(سورۂ علق)اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنے رب کے نام سے پڑھئے جس نے پیدا کیا ۔جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ۔آپ پڑھئے آپ کا رب بڑا کریم ہے ۔جس نے قلم سے تعلیم دی انسان کو ان چیزوں کی جو وہ نہ جانتا تھا ۔حدیث شریف میں حصول علم کو دیگر فرائض کی طرح ایک فریضہ قرار دیا گیا ہے ۔طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم(ابن ماجہ )علم کا حصول ہر مرد پر فرض ہے ۔یہ بات واضح ہے کہ جس طرح دیگر فرائض نماز ۔روزہ ۔حج ۔زکوۃ وغیرہ کے مکلف مرد ہیں اسی طرح خواتین بھی فرائض الہی کی ادائیگی پر مامور ہیں ۔اسلام کا یہ ایک امتیازی شان ہے کہ اس نے عورتوں کو وہ تمام حقوق عطا کئے جو ایک مرد کو حاصل ہے اور مردوں کی طرح عورتوں کو بھی علم حاصل کرنے کا حق دیا ۔تاریخ کے اوراق میں ایسی بے شمار عورتوں کے نام سنہرے حروف سے لکھے ہوئے ہیں جو علم و عمل ۔فضل و کمال میں فائق اور ممتاز تھیں ۔اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ عہد نبوی میں جہاں مردوں کی تعلیم پر زوردیا گیا تھا وہیں عورتوں کی تعلیم کا بھی مکمل انتظام تھا صحیحین کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہفتہ میں ایک دن کسی مخصوص جگہ پر عورتوں کو تعلیم دیا کرتے تھے ۔لڑکیوں کی تعلیم کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر فکر تھی جس کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے باندیوں تک کو علم سکھانے کی ترغیب دی ۔صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ جو اپنی باندی اچھی تربیت کرے اور بہتر تعلیم دے پھر اسے آزاد کر ے اور اس سے نکاح کر لے اس کو دہرا آجر ملیگا (بخاری ج ۱ص ۲۰)عورتوں کی اس غیر معمولی اہتمام اور ترغیب کا نتیجہ یہ ہوا کہ دور اول میں مردوں کی طرح عورتوں نے بھی اسلام کی گراں قدر خدمات انجام دیں اور انہوں نے زہد و قناعت ۔عبادت و ریاضت ۔فضل و کمال میں اس مقام تک رسائی حاصل کی جہاں ایک مرد بعض دفعہ بڑی مشکل سے پہنچتا ہے ۔تاریخ شاہد ہے کہ خواتین اسلام نے ہر دور میں اپنے علمی جوہر دکھائے ہیں اور اسلامی حدود میں رہ کر ایسے کا رہائے نمایاں انجام دیئے ہیں جن کے نقوش رہتی دنیا تک قائم رہیں گے ۔آ ج جبکہ فتنہ و فساد عروج پر ہے ۔دین سے دوری ۔خدا بیزاری کا عام ماحول ہے ۔باطل طاقتیں منظم طریقے سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے ایسے نازک ترین دور میں ہمارا دینی ۔مذہبی فریضہ بنتا ہے کہ ہم بچوں کے ساتھ بچیوں کی دینی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دیں اور لڑ کوں کے مدارس کی طرح لڑکیوں کے مدارس کا قیام عمل میں لا ئیں ۔اس لئے کہ دینی تعلیم ہی ہمارا ایسا ہتھیار جس کے ذریعے ہم دشمنان اسلام کو ان کے مقصد میں ناکام بنا سکتے ہیں ۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ غیر تو ہماری خواتین کو طلاق ثلاثہ ۔حلالہ ۔تعدد ازدواج وغیرہ مسائل میں الجھا کر اپنے ناپاک عزائم میں کامیابی کی کوشش کر رہی ہیں اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔بلکہ امت کا ایک بڑا طبقہ اب بھی خواتین کو دینی اعلی تعلیم دلانے کے حق میں نہیں ہے ۔جس کا اثر یہ ہورہا ہے کہ شریعت سے عدم واقفیت کی بنا پر خواتین اپنے عائلی مسائل کو اپنے لئے ناکافی سمجھ رہی ہیں یا پھر موجودہ حالات کے اعتبار سے اس میں ترمیم کے خواہاں ہیں جو امت مسلمہ کے لئے ایک بڑا المیہ ہے ۔لڑکیوں کی دینی تعلیم کی ضرورت جہاں اس بنا پر بھی ہے کہ وہ بھی مردوں کی طرح احکام شرع کی پابند ہیں دینی مسائل کے بغیر ان کی زندگی کا بھی ایک لمحہ خالی نہیں ہے ۔بچوں کی پیدائش سے لے کر اپنے فرائض زندگی کی ادائیگی میں وہ بھی مردوں کی طرح اسلامی تعلیمات کی محتاج ہیں ۔وہیں ایک اہم وجہ اسلامی اور صالح معاشرہ کی تشکیل ہے جس کا تصور عورتوں کی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں اس لئے کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ گھر ۔خاندان کی تعمیر میں عورتوں کا ایک اہم رول ہوتا ہے اور ایک شریعت سے ناواقف عورت بسا اوقات نہ تو خود اپنے آپ کو گمراہی سے بچا سکتی ہے اور نہ ہی اپنی آغوش میں پرورش پانے والی اولاد کی صحیح اسلامی نہج پر تربیت کرسکتی ہے ۔معاشرت اعتبار سے فتنہ و فساد کا پیدا ہونا یقینا قیامت کے آثار میں سے ہیں ۔بدلتے حالات اور جدت پسندی نے مردوں کے ساتھ عورتوں کے ذہن و دماغ پر ایک گہرا اثر چھوڑا ہے ۔نئی نسل پر مغربیت اس قدر غالب ہو چکی ہے کہ وہ اب مشرقیت کی پابندی اور اسلامی نظام حیات کو اپنے لئے نہ صرف قید و بند سمجھ رہی ہیں بلکہ وہ اسے اپنی تنزلی ۔پسماندگی کا ایک اہم ذریعہ بھی تصور کرتی ہیں ۔جبکہ حقیقت تو یہ ہیکہ دینی تعلیم کسی کو بھی اس راستے پر چلنے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتا جس کا انجام تباہی و بربادی ہو اور سماج و معاشرہ میں بدنامی و ذلت کا سبب بنتا ہو اور ایک عورت قبل از وقت اپنی عفت و عصمت کی دولت کو زائل کرتی ہوئی نظر آنے۔یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عورتوں کی اس قدر بے حیائی ۔بے حجابی نے مردوں کی آنکھوں سے شرم و حیا زائل کردیا ہے اور ان کی آ آنکھوں سے حیا کا آب چھین لیا ہے ۔جس کا ظہور معاشرتی سطح پر مقدس رشتوں کی پامالی کی شکل میں ہوتا ہے ۔ایسے حالات میں امت کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچیوں کو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں تاکہ وہ ایک اچھی دختر ۔خواہر زوجہ کی شکل میں ملک و سماج کی بہترین خدمات انجام دے سکیں ۔عصری تعلیم کا حصول بھی وقت کا اہم تقاضہ ہے جس کی طرف ہمیں اسلامی دائرے میں رہ کر قدم بڑھا نے کی ضرورت ہے ۔یقینا پرآشوب دور میں بھی ایک عورت اسلامی حدود میں باحجاب رہ کر بھی دنیاوی اعتبار سے ترقی کے منازل طے کر سکتی ہے اور معاشرتی سطح پر بہتر خدمت انجام دے سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا محمد جاوید توثیق القاسمی ۔استاد حدیث جامعہ بستان خدیجہ حیدر آباد و جنرل سکریٹری کل ہند تحریک اصلاح معاشرہ ۔8008594432.

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close