مضامین و مقالات

اب کا رمضان بھی گزرا عید بھی۔۔۔۔۔مگر۔۔۔۔!!!!! سیدہ تبسم منظور ناڈکر۔(موربہ)ممبئی

رمضان شروع بھی ہوا اور ختم بھی ہوا۔ عید بھی ہوگئی۔۔۔
الحمدللہ۔۔۔۔روزے،نمازیں،عبادتیں،قیام۔۔۔ اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں قبول کرے۔ آمین

پورے ماہ سوشل میڈیا پر رمضان کے تعلق سے، عید کے تعلق سے لوگوں کی کئی پوسٹ دیکھی۔۔۔۔کئی لوگوں کو مایوس تو کئی لوگوں کو شکر کرتے ہوئے دیکھا اور پڑھا۔ہم نے اپنے ایک سر پرست کو فون کیا تھا بیچ رمضان میں تو انہوں نے کہا ،

’’بیٹی! اس شر میں بھی خیر چھپی ہے۔ غور کر تو سب صاف دیکھائی دے گا۔‘‘

اللہ رب العزت اپنے کسی بھی بندے کو تکلیف نہیں دیتا اور دیتا بھی ہے تو جتنا برداشت ہو بس اتنی ہی دیتا ہے۔۔۔ کرونا کے قہر کی وجہ سے لوگ شکوہ کرتے دیکھائی دیئے کہ نہ رمضان کی رونقیں نصیب ہوئیں اور نہ ہی عید کی وہ چہل پہل دیکھی گئی، نہ عید کی نماز عید گاہ میں ہوئی۔بلکہ اپنے اپنے گھروں میں ادا کی گئی۔ مانا کچھ پریشانیوں کا سامنا ہوا۔۔ پھر بھی اس ماہِ رمضان اور عید کے موقع پر ہم سب نے شر سے خیر نکلتے ہوے دیکھا۔

لاک ڈاؤن اور پھر ماہ رمضان کے مبارک ماہ میں ہم نے لوگوں کو خاص کر مسلمانوں کو خدمت خلق کرتے دیکھا۔۔۔روزے میں بھوک پیاس کی پرواہ کیے بغیر ۔۔۔۔اوروں کی مدد اور کھانا کھلاتے دیکھا۔۔۔راہ چلتے مسافروں کو اپنے گھروں تک پہنچاتے دیکھا۔۔۔۔۔مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے دیکھا۔۔۔ اس عمل سے تو ہم مسلمانوں نے دیگر مذاہب کے ماننے والوں پر ایک جاندار اثر چھوڑا ہے۔ ہر مومن تو صرف یہ سوچ کر بھوکوں اور بے کسوں کو کھانا کھلاتا رہا ہے کہ انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا اہم جز بھی ہے۔ امت مسلمہ نے ثابت کر دیا کہ وہ ہر حال میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔
یہ رمضان بہت ہی خاص اور انمول تھا۔۔۔۔۔ اس رمضان اللہ نےاپنے بندوں کی تربیت کا سامان مہیا کیا ۔۔۔۔ ہر گھر میں چھوٹے سے لے کر بڑوں نے قرآن کی کثرت سے تلاوت کی۔۔۔۔۔ جن لوگوں کو قرآن پڑھنا نہیں آتا تھا انہوں نے سیکھا اور ختم قرآن کیا۔۔۔۔جن لوگوں نے بس یوں ہی قرآن پڑھا تھا انہوں نے سمجھ کر پڑھا ۔۔۔۔جو کبھی نماز نہیں پڑھتے تھے۔۔۔کبھی وقت کی کمی کا بہانا۔۔۔۔کبھی کام کام کا بہانا۔۔۔۔ انہوں نے پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کی۔۔۔۔۔الحمدللہ! گھر گھر میں پانچ وقت کی نماز، تہجد۔۔۔نفل۔۔۔۔اور تراویح با جماعت ادا کی گئی۔۔۔۔ عورتوں کو بھی اب کے رمضان باجماعت تراویح ادا کرنے کا موقع ملا۔۔۔۔کچھ مجبوریوں کی وجہ سے ہم عید گاہ میں نماز نہیں ادا نہ کر سکے۔۔۔۔لیکن ہر عام و خاص نے بھی نماز پڑھنے اور پڑھانے کا طریقہ سیکھ لیا۔۔۔ اور ہر گھر میں ہر فرد نے باجماعت نماز ادا کرنے کو اپنی ذمےداری سمجھ لی۔۔۔۔ یہاں تک کے عیدالفطر کی نماز بھی گھروں میں مردوں کے ساتھ عورتوں نے بھی با جماعت ادا کی۔۔۔۔ امامت کرنا سیکھ گئے۔۔۔۔۔بچوں سے لے کر بزرگوں نے اپنا وقت عبادت میں گزارا۔۔۔۔نوجوان نسل کے دینی شعور میں اضافہ ہوا۔۔۔۔ اللہ نے ہم سب کو واپس اپنی طرف رجوع کر لیا۔۔۔۔۔ خوب عبادتیں ہوئیں ۔۔۔۔امت مسلمہ میں خدمت خلق کے جذبے کو اور پختہ کیا۔۔۔۔۔۔۔

مگر پھر بھی نہ جانے کیوں کچھ کمی سی ہے۔۔۔۔۔کہیں نہ کہیں خالی پن ہے۔۔۔۔ایک خلش ہے۔۔۔۔ایک درد ہے۔جس کا مداوا ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔
ہماری عبادت گاہوں پر تالے لگے ہیں۔ بیت الحرم میں سناٹا ہے۔مسجد نبوی ﷺ میں خاموشی چھائی ہے۔دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔اورعید بھی ہوگئی۔۔۔۔۔
عید کا دن مسلمانوں کے لیے خوشیوں اور مسرتوں کا دن ہے۔اللہ کی طرف سے انعام کا دن ہے جو ہمیں اپنے پروردگار کی طرف سے دیا گیا ہے۔ عید کے دن مسرت کی ہوائیں جھوم اٹھتی ہیں۔ عید کا دن ہمیں خدا پرستی، الفت و محبت، ہمدردی، خیر خواہی اور بھائی چارے کی پاکیزہ روح سے منور کرتا ہے۔

ہم ہر سال پندرہ لیٹر کا شیر خرمہ بناتے ہیں وہ اب کے صرف تین لیٹر کا بنایا۔۔ ۔ ۔ باقی پکوان تو کچھ نہ بنے۔۔۔سوچا خوشی خوشی عید منا لیتے ہیں۔۔۔لیکن عید!!!!۔۔۔۔۔ یہ کیسی عید تھی؟؟کیسی عید منائی بس اپنے اپنے گھروں میں نماز ادا کی اور بیٹھ گئے۔۔۔ ۔ ۔یا پھر سو گئے۔۔۔۔نہ گھر کوئی آیا نہ کسی کے گھر کوئی گیا۔۔۔۔نہ کسی سے مصافحہ کیا۔۔۔۔نہ گلے ملے۔۔۔۔بس فون پر مبارک بعد دے دی ۔۔۔۔ میسج کر لیا۔ کیا سچ میں عید تھی؟؟؟ نہ نئے کپڑے خریدے۔۔۔۔نہ جوتے چپل۔۔۔نہ جھمکا بالی۔۔۔نہ گجرے۔۔۔۔ننھی منی بچیوں سے لے بڑی لڑکیاں۔۔۔۔۔ نہ گلی محلے میں ہاتھوں میں مہندی لگا کر گلے میں پرس لٹکا کر چہکتی نظر آئیں۔۔۔۔نہ محلے میں چہل پہل تھی۔۔۔۔.نہ غبارے والا، نہ بانسری والاآیا۔۔۔۔ نہ کھیل کھلونے والاآیا۔۔۔۔۔نہ گولے والاآیا۔۔۔۔نہ جھولے والا آیا۔۔۔۔نہ گھوڑے والاآیا۔۔۔۔یہاں تک کہ کوئی فقیر فطرہ لینے بھی نہیں آیا۔۔۔۔اور نہ بچے عیدی لینے آئے۔۔۔جگہ جگہ میلے جیسا ماحول ہوتا تھا۔۔۔ اب کے بس ہر طرف سناٹا ہی سناٹا چھایا رہا۔ خاموشی کے ساتھ ہر کسی نے اپنے پرانے کپڑے نکال کر پہن لیے۔۔۔ فضا پر بھی یاس چھائی تھی۔۔۔۔ چرند پرند بھی خاموش تھے۔۔ دل اداس آنکھیں ویران تھی۔۔۔۔ایک خوف سا طاری تھا۔۔۔۔ہر طرف پولیس کا پہرہ تھا۔۔۔۔یہ کیسی عید تھی؟؟؟

پھر بھی الحمدللہ! رمضان بہت خیر وبرکت والارہا۔۔۔جب اللہ تعالی اپنے بندوں کی آزمائش لیتا ہے تو ایسی مشکلیں تو آتی ہے۔۔۔۔۔آزمائشیں تو زندگی میں آتی ہی ہیں اور آتی رہیں گی مگر ان سے گذر کر ہی تو کمال حاصل ہوتا ہے اوریہ حوصلوں کو بلند رکھنے کا ایک ذریعہ بنتی ہیں۔ان حالات سے قوموں کی تربیت ہوتی ہے۔۔۔۔جس طرح سونا تپ کر کندن بن جاتا ہے۔۔۔۔جس طرح چندن کو گھسنے کے بعد خوشبو آتی ہے اسی طرح یہ امت مسلمہ ہر طرف اپنی خوشبو بکھیر دیگی۔ اللہ تعالیٰ تمام امت مسلمہ کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائےاور ہر مشکل سے آسانیاں پیدا کرے۔۔ہماری تمام عبادتیں قبول فرمائے۔ آمین۔

سیدہ تبسم منظور ناڈکر۔(موربہ)ممبئی
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال ہندوستان اردو ٹائمز
9870971871

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close