مضامین و مقالات

آج اس طرز کے مدارس کی بھی سخت ضرورت ہے! محمد قمرالزماں ندوی

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

دار العلوم دیوبند کے سب سے پہلے طالب علم اور اس نظام مدارس کے عظیم معمار *شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رح* ان حضرات میں سے تھے جو صاف ستھرے اور "اپنے ماحول میں؛؛ عصری تعلیم کی ضرورت کو بھی بہت شدت سے محسوس کرتے تھے، چناچہ انہوں نے ۲۹/اکتوبر /۱۹۲۰ کو "علی گڑھ کالج؛؛ کی مسجد میں ایک نئے ادارے کے قیام کے موقع پر اپنے خطبہ افتتاحیہ میں کہا تھا :”مسلمانوں کی تعلیم مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو، اور اغیار کے اثر سے مطلقا آزاد ،کیا باعتبار عقائد و خیالات اور کیا باعتبار اخلاق و اعمال ،ہم غیروں کے اثرات سے پاک ہوں ،ہماری عظیم الشان قومیت کا اب یہ فیصلہ نہ ہونا چاھئے کہ ہم اپنے کالجوں سے بہت سستے غلام پیدا کرتے رہیں ،بلکہ ہمارے کالج نمونہ ہونے چاہئیں "بغداد ؛؛اور قرطبہ؛ ؛کی یونیورسٹیوں کے، اور عظیم الشان مدارس کے جنہوں نے یورپ کو اپنا شاگرد بنایا ،اس سے پیشتر کہ ہم ان کو اپنا استاد بناتے ؛؛-
قدیم نظام تعلیم و تربیت کے ایک اور شاندار نمونہ *مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رح* نے ایک جگہ لکھا ہے :
:میرے نزدیک اسلامی ممالک میں صحیح زندگی کی بنیاد عوام میں صحیح اور طاقتور دینی شعور کا وجود ہے —اور دوسری مضبوط بنیاد صحیح نظام تعلیم اور وحی نبوت کے ذریعے آئے ہوئے اس علم کو ،خو ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے اور جو ہر دور کا علم اور ہر صالح تہذیب کی بنیاد و اساس ہے، ان طبعی علوم ،عصری معلومات، اور ان تجربوں اور ایجادات و انکشافات کے ساتھ جمع کرنا ہے جن میں مغرب فوقیت لے گیا ہے ؛؛-
*ہندوستان* کے ان دو عظیم ہستیوں اور اسکالرز کے ان اقتباس کو غور سے پڑھیے اور پھر تجزیہ کیجئے کہ آج مسلمانوں کو کیسے علمی اداروں اور مدرسوں کی ضروت ہے اور علم اور تعلیم کے میدان میں کس منصوبہ بندی اور پلانگ کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ اور اس کے لئے اہل علم اور دانشورران امت کو کس قدر سنجیدگی کے ساتھ اس مہم کو آگے بڑھانا چاہیے ۔
*مدارس* کی ضرورت و اہمیت اور افادیت سے کس کو انکار ہے ؟
لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہم مدارس کے لوگ نصاب تعلیم کو اپٹوڈیت کرنے کے اعتبار سے اور جدید آلات اور اسباب و وسائل سے استفادہ اور شرعی علوم کے حصول میں اس سے معاونت کے اعتبار سے بہت پیچھے نہیں ہیں؟ ۔

آج ضرورت ہے کہ کچھ مدارس اس انداز کے بھی ہوں کہ ان کا اصل مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہو جس کے اندر دو خوبیاں ہوں ایک طرف تو ان کے اندر تقوی و طہارت اخلاص و للہیت علم کی گہرائ اور عمل کی پاکیزگی ہو اور اس سلسلہ میں وہ اسلاف کا نمونہ ہوں، اور ان کے ذوق و مزاج کے وارث ہوں وہ عالم و داعی بنکر دین کی خدمت کریں تو دوسری طرف یہ کوشش کی بھی کی جارہی ہو کہ ان کے اندر عصری اور ماڈرن تعلیم اتنی دے دی جائے اور اتنی صلاحیت اور لیاقت پیدا کر دی جائے کہ اگر وہ قانون، انتظامیہ، سول سروسیز، صحت ،تعلیم، سائنس، صنعت و حرفت اور تجارت کے میدان میں اگر آگے جانا چاہیں تو ان کو کوئ دقت نہ اور وہاں جاکر اپنے دائرہ عمل میں وہ اسلام کی نمائندگی کریں اور اس بہانے خدمت خلق اور دعوت دین کا کام ان ماڈرن طبقے میں آسانی سے ہو سکے ۔
اس کے لئے ایسے مدارس میں نصاب تعلیم کے ساتھ چوبیس گھنٹے کا نظام الاوقات کھیل کود اور خورد و نوش وغیرہ کا انتظام اعلی پیمانے پر کرنا ہوگا ۔اور خوب سے خوب تر کی تلاش کا عمل بھی جاری رکھنا ہوگا ۔
اور پھر ان جدرید طرز کے مدارس کے سامنے یہ ہدف بھی ہو کہ دینی تعلیم کا حصول صرف غریب نادار اور دیہاتی گھرانوں کے بچوں کا فرض نہیں ہے ۔خوش حال اور روشن دماغ گھرانوں کے بچوں کو بھی قرآن و حدیث کے علم سے اپنے دل و دماغ کو منور و تابندہ کرتا چاہیے ۔
مدارس میں اہل ثروت اور مالداروں کے بچے کے نہ آنے کی وجہ مدارس اسلامیہ کا بندھا ٹکہ اور فرسودہ نظام اور نصاب بھی ہے۔ تربیت کی کمی بھی ہے، رہن سہن اور خورد و نوش و رہائش کا صحیح انتظام نہ ہونا بھی ہے۔ تنبیہ اور مارپیٹ اور سخت نگرانی ہے بھی ہے جو موجودہ اصول تربیت کے خلاف ہے۔
اگر مدارس اسلامیہ تمام نہیں بعض بھی اپنے نظام تعلیم و تربیت کو درست کرلیں تعلیم کا معیار حالات کی رفتار کیساتھ کرلیں۔ خورد و نوش زیب و زینت،لباس و پوشاگ اور رہائش و تربیت کا اعلی نظام مرتب کرلیں کہ مالدار گھرانے کے بچوں کو وہاں وحشت و اجنبت نہ ہو، وہ اس ماحول میں اپنے آپ ایڈیجیسٹ کرلیں اور مانوس ہوجائیں، ان کو نگران و اساتذہ کی طرف سے ایسی کسی سختی کا سامنا نہ کرنا پڑے جو اس کو مدارس کے ماحول سے متنفر کردے تو بعید نہیں کہ مالدار گھرانے کے بچے بھی مدارس اسلامیہ کا حصہ بن جائیں اور جب خود کفیل اور مالدار گھرانے کے بچے فارغ ہوکر نکلیں گے تو وہ امت کے لیے بعض اعتبار سے مفید زیادہ ہوں گے اور ان کے اندر حق گوئی، جرآت ، اور بے باکی زیادہ ہوگی، وہ علی الاعلان حق بات کہہ سکیں گے، کسی سے متاثر اور مرعوب نہیں ہوں گے۔ اور فکر معاش سے بھی بہت حد تک فارغ البال ہوں گے۔
آج حال یہ ہے کہ مدارس میں اسی فیصد بچے غریب اور پسماندہ گھرانے کے ہوتے ہیں، مالدار گھرانے کے وہ بچے زیادہ تر مدارس میں آتے ہیں جو زیادہ تر ذھنانت کے اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں یا والدین ان سے تنگ آجاتے ہیں ، اصلاح سے ناامید ہوجاتے ہیں تو مدارس کے اساتذہ کے حوالے دین داری کا لبادہ دکھا کر کردیتے ہیں۔ الحمدللہ ان بچوں پر محنت کی جاتی ہے اور بھی لائق بن جاتے ہیں۔ میری نظر میں اگر مدارس اسلامیہ غریب مسلمان بچوں کو مفت تعلیم دے کر ان کو کسی لائق بنا دیتے ہیں تو یہ خود ان کا بہت بڑا معجزہ اور کارنامہ ہے۔ لیکن اگر مدارس اسلامیہ سے مالدار گھرانے کے بچے بھی فارغ ہو کر ایک بڑی تعداد میں نکلنے لگیں تو نور علی نور ہوجائے اور دعوت اسلامی کے کاموں کی رفتار بڑھ جائے اور خود دار علماء کی تعداد میں زبردست اضافہ ہو جائے۔

*آج* دعوت اسلامی کے ایک نئے مرحلے اور دور میں داخل ہونے کی وجہ سے ایسے علماء کی سخت ضرورت ہے جو انگریزی اور دوسری علاقئی اور بین الاقوامی زبانوں پر عبور رکھتے ہوں اور شریعت اسلامی کے گہرے علم کے ساتھ جدید مسائل سے بھی بخوبی واقف ہوں ۔
الحمد بعض مدارس اس طرز کے بھی قائم ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں لیکن ان کی تعداد ابھی بہت کم ہے ۔
الحمد ہم لوگوں نے بھی اس سمت کوشش کی ہے، کچھ پیش رفت ہوئی ہے جس کا مفید نتیجہ بھی سامنے آنے لگا ہے۔ جس کی تفصیلات ہم کسی اور موقع پر لکھیں گے۔
نوٹ یہ وہ مضمون نہیں ہے جس کا ہم نے وعدہ کیا ہے، بس عجلت میں آج کچھ باتیں لکھ دی ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close