مضامین و مقالات

رمضان المبارک کے بعد زندگی کیسے گزاریں؟ ازقلم مفتی محمد نوراللہ قاسمی دربھنگوی

رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ جلوہ فگن ہوا اوربڑی تیزی سے ہمارے درمیان سے رخصت بھی ہو گیا، یہ مہینہ ایک مسلمان کو ایمانی اور عملی طور پر عروج اور بلندی عطا کرتا ہے ،ان میں وہ یقین اور ایمان پیدا کرتا ہے جومسلمانوں کا عظیم سرمایہ ہے اور جو اسلام میں مطلوب اور مقصود ہے ۔عملی طور پر بھی ان میں وہ اسپرٹ پیدا کی جاتی ہے کہ اگر رمضان کے بعد بھی اسی رفتار سے سفر جاری رکھا جائے تو آخرت کی منزل آسان ہو جائیگی اور ہمیشہ ہمیش کی زندگی میں وہ راحت نصیب ہوگی جس کا آج تصور بھی نہیں کیا جا سکتالیکن یہ ہمارا المیہ ہے کہ رمضان المبارک میں جو عمل کیا جاتا ہے اس کی رفتار بعد میں سست پڑ جاتی ہے ۔
مسجدیں ویران ہوجاتی ہیں ،چٹائیاں لپیٹ کر رکھ دی جاتی ہیں ، اور اب پرانے نمازیوں کی وہی ایک دوصف باقی رہ جاتی ہے حالانکہ رمضان اس لئے دیا گیا تھا تاکہ اس میں مسلمانوں کی ایمانی وعملی لو تیز ہو سکے اور مسلمان رمضان کے بعد چلتا پھرتا قرآن نظر آئیں ،ان کی زندگی قرآنی تعلیمات کے سانچے میں اس طرح ڈھل جائے کہ ان کو دیکھ کر لوگ شریعتِ اسلامی کو سمجھ سکیں ،قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے روزوں کو فرض کرنے کی حکمت تقویٰ کے ساتھ متصف ہونا بیان کیا ہے یعنی انسان کا دل‘سوچ ‘سمجھ‘انداز اور اخلاق وکردار سب کچھ اس طرح بدل جائیں کہ رمضان کے بعد ایک نئی اور صالح زندگی کا حامل بن جائے اور زندگی میں ایک طرح کا انقلاب برپا ہوجائے کہ اگر وہ رمضان سے قبل سودی معاملات کا کاروبار کرتا تھا تو اب وہ توبہ کرلے اور اس کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے۔خدا نخواستہ اگر وہ شراب نوشی میں ملوث تھا تو اب اس سے نفرت پیدا ہو جائے۔دھوکہ دہی ‘کذب بیانی ‘ظلم وزیادتی ‘حسد ‘غیبت اور دوسرے منکرات سے توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے آپ کو پاک و صاف کرلے اور دوبارہ ایسی معصیت کا ارتکاب ہرگز نہ کرے فرائض و نوافل کا ایسا خوگربن جائے کہ ان کے بغیر رات میں نیند آئے اور نہ دن میں چین و سکون کا احساس ہو ۔
اگر یہ کیفیات دل میں پیدا ہو گئیں اور زندگی میں ایسا تغیر رونما ہو گیا تو سمجھنا چاہئے کہ رمضان کا مقصد حاصل ہوا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو پالیا ورنہ بظاہر رمضان کا مہینہ ہم نے پایا اور کچھ اس سے حاصل کئے بغیر وہ ہم سے رخصت ہوگیا جو اہل ایمان کے لئے سب سے بڑی مایوسی کا ذریعہ اور محرومی کا سبب ہے ۔ رمضان المبارک میں ایک روزہ دار کو اللہ تعالیٰ کے وجود کا احساس پختہ ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ سخت دھوپ اور گرمی میں جبکہ پیاس سے زبان خشک ہوجاتی ہے اس وقت بھی تنہائی میں پانی پینے کی غلطی نہیں کرتا ۔عمل کے اعتبار سے جیسا بھی ہومگر روزہ کی حالت میں صبح سے شام تک بھوک اور پیاس کو بڑی بشاشت کے ساتھ برداشت کرتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔
اگر میں نے تنہائی میں بھی کچھ کھا پی لیا تو اگرچہ انسان کی نظر سے بچا جاسکتا ہے مگر میں اپنے رب کی نظر سے نہیں بچ سکتا ۔یہی وہ احساس ہے جو اسے کھانے پینے سے روکتا ہے اور بھوک و پیاس برداشت کرنا اس کیلئے آسان ہوجاتا ہے۔ رمضان المبارک کا یہ پیغام ہے کہ جس طرح اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کے وجود کا احساس تھا اور چلتے پھرتے اُس کا ڈر دل میں بسا ہواتھا اسی طرح رمضان کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے وجود کا احساس اور اس کی گرفت کا ڈر دل میں موجود ہوکہ روزہ در حقیقت اسی کیفیت کو پختہ کرنے کا ایک نصاب ہے ۔اگر یہ کیفیت دل میں پیدا ہوجائے تو حرام وحلال کی تمیز دل میں پیدا ہوگی ،کسی پر ظلم کرنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوگا۔شراب نوشی ‘زناکاری ‘دھوکہ دہی ‘کذب بیانی وغیرہ سے زندگی پاک و صاف ہوگی ۔سودی لین دین سے وہ آدمی توبہ کرلے گا اور کسی ایسے کام کی طرف اس کا ذہن نہیں جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے ۔ ہر وقت اس کے دل ودماغ میں اللہ تعالیٰ کے دیکھنے کا احساس ہوگا جس سے وہ تمام منکرات سے محفوظ رہے گا جیسا کہ صحابۂ کرامؓ میں یہ احساس جاگزیں تھا ،اس کے سبب ان کا مقام اتنا بلند ہوا کہ پوری امت ان کی بلندیوں پر رشک کرتی ہے ۔رسول اکرم کی تمام محنتوں کا خلاصہ بھی یہی تھا کہ ہر انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے ،وہ عرش کا مالک ہے اس کا کوئی ثانی اور نظیر نہیں ‘اس کی گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا ‘اس کی بندگی میں ہی دنیا وآخرت کی بھلائی پوشیدہ ہے ۔رمضان المبارک کا بھی یہی مقصد قرآن نے سورہ البقرہ ،آیت 183میں بیان کیا ہے روزہ دار نے اگر اس مقصد کو پالیا تو گویا شریعت کے اصل مقصد کو اس نے پالیا اور اب وہ گمراہی سے محفوظ ہوگیا۔ ایک شخص روزے کی حالت میں اُن تمام چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیتا ہے جن کو شریعت نے وقتی طور پر ممنوع قرار دیا ہے ۔
یہ در اصل اس بات کی مشق کرائی جاتی ہے کہ جس طرح رمضان میں ان چیزوں سے رکے رہے اور شریعت کی پابندی کی، ویسے ہی رمضان کے بعد ان تمام چیزوں سے رکے رہنا ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے جن کو شریعت نے مستقل طور پر حرام قرار دیا ہے ۔اہل ایمان کو چاہئے کہ ممنوعات سے مکمل گریز کریں اور شریعت کا پاس و لحاظ رکھیں ۔وہ چیزیں جن پر صرف صبح سے شام تک پابندی تھی جب ان پر اس قدر سختی سے عمل کیا گیا اور پورا مہینہ اس پر مشق ہوتا رہا تو جن پر ہمیشہ ہمیش کے لئے بندش عائد کی گئی ہے ان پر کس قدر ہمیں سختی سے عمل کرنا چاہئے ۔
ایک مسلمان کو حرام اور ممنوع عمل کرتے ہوے فوراً اس بات کی طرف ذہن کو لے جانا چاہئے کہ رمضان میں جس طرح ممنوعات سے رکے رہے اسی طرح غیر رمضان میں بھی مجھے تمام نا جائزکاموں سے رکنا چاہئے ایسا تو نہیں ہوسکتاکہ رمضان میں ہی رکنا میرے لئے ضروری تھا اور بعد میں نہیں۔جب بھی مقصد اپنے رب کو راضی کرنا تھا اور اب بھی وہی مقصدہے ،پھر حرام اور ممنوع چیزیں غیر رمضان میں کیسے جائز ہوسکتی ہیں؟ اسی طرح رمضان المبارک کا ایک خاص تحفہ اور سوغات قرآن مجید کی تلاوت اور اس میں غور وتدبر کرناہے ۔قرآن مجید اسی مہینے میں لوح محفوظ سے سمائے دنیا پر ناز ل کیا گیا اسی لئے اس مہینے کو اللہ تعالیٰ نے بڑا شرف وعزت عطا کیا اور اس کو تمام مہینوں پر فضیلت دی گئی ۔اس طرح قرآن کریم کو اس مہینے سے خاص مناسبت حاصل ہے ،یہی وجہ ہے کہ رمضان کی ایک خاص عبادت تراویح کو قرار دیا گیا جس میں پورا قرآن سنا یا پڑھا جاتا ہے۔صحابۂ کرامؓ کا یہی معمول تھا اور قرن اول سے آج تک یہ معمول منتقل ہوتے ہوے آرہاہے ۔مسلمان بڑے ذوق و شوق سے قرآن پورا مہینہ سنتے ہیں اور اس کیلئے بڑا جتن کرتے ہیں ۔
اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ رمضان کے بعد بھی قرآن کریم کی تلاوت کو اپنا معمول بنالیں اور اس سے تعلق باقی رکھیں ،قرآن کریم کی تلاوت صرف رمضان کے لئے خاص نہیں بلکہ رمضان میں کثرت سے تلاوت در اصل اپنی طبیعت کو عادی بنانے کے لئے ہے تاکہ غیر رمضان میں بھی یہ عادت باقی رہے اور ہر صبح وشام قرآنی آیات کا ورد زبان پر جاری رہے یاکم سے کم فجر کی نماز کے بعد ایک خاص مقدار میں تلاوت قرآن کو اپنا معمول بنا لیا جائے پھر اس کے بعد اپنے کام کا آغاز کیا جائے۔ انشاء اللہ اس سے کام میں برکت پیدا ہوگی اور پورا دن مصائب ومشکلات سے محفوظ رہینگے۔
اسی طرح قرآن کریم کے معانی ومفہوم پر غوروتدبر کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے کیونکہ یہی دراصل قرآن کے نزول کا مقصد ہے ۔ بلا شبہ یہ کتاب اصولِ حیات اور تمام قوانین کا منبع اور سرچشمہ ہے اور جب تک اس کے ترجمہ اور معانی ومفہوم پر ہم غور نہ کریں اس وقت تک اس کے اصولِ حیات ہونے اور اس کی شا نِ رفعت کا علم نہیں ہوسکتا اس لئے موجودہ تراجم وتفاسیر کی مددسے اس بات کی کوشش کی جانی چاہئے کہ اپنے رب کے مقصود کو ہم پائیں اور اس پر عمل کرنے کے لئے اپنے نفس کو آمادہ کریں ۔یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ بہت سے مسلمان رمضان کے بعد پورے سال قرآن پر ہاتھ بھی نہیں لگاتے بلکہ بہت سے لوگ قرآن پڑھنا بھی نہیں جانتے اور نہ اس کی کوشش کرتے ہیں، یہ قرآن سے بے اعتنائی اور مجرمانہ غفلت کی بات ہے ۔
رمضان المبارک کا مہینہ ہمدردی وغمخواری کا بھی ہے ۔عام طور پر مسلمان اس میں محتاجوں ‘مسکینوں اور غریبوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں ۔ان کو اپنے افطار وسحر میں شامل رکھتے ہیں ‘انکی دعوت کرتے ہیں اور حتی الامکان ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں ۔ ہمدردی کا یہ جذبہ رمضان کے بعد بھی باقی رہنا چاہئے ۔ایک مسلمان پاس پڑوس کے محتاجوں اور بیکسوں کی خبر گیری رکھے اوراس کی کوشش رہے کہ کوئی شخص پڑ و س میں بھوکا نہ سونے پائے ،اگر کوئی محتاج ہے تو اپنی بساط کے مطابق اس کی مدد کرے ‘اپنے کھانے میں سے کچھ حصہ اس کے پاس بھیج دے تاکہ وہ بھی اپنی یا اولاد کی بھوک مٹا سکے یہ بہت بڑا صدقہ اور خیر و بھلائی کا کام ہے ۔
اسی طرح اگر کوئی شخص بیمار ہے اور اس کے پاس دوا و علاج کے پیسے نہیں تو پڑوس اور دور کے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کا دوا وعلاج کا انتظام کریں یا کم از کم علاج و معالجہ میں ہاتھ بٹائیں اور بقدر وسعت اس میں حصہ لیں ، آج کتنے لوگ ہیں جو پارٹی میں بڑی شان و شوکت سے حصہ لیتے ہیں لیکن ان کے گھر کے پڑوس میں کوئی غریب بیمار ہے، اپاہج ہے جس کے پاس علاج جاری رکھنے کی طاقت نہیں وہ ایک ایک پیسے کا محتاج ہے مگر اس شخص کو اس کی خبر بھی نہیں ،اگر اس کے پاس کبھی اس کی اطلاع بھی آئی تو اس نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اور نہ اس کے زخم پر مرہم رکھنے کی کو شش کی ،کیا یہ سمجھتے ہیں کہ رمضان میں چند لوگوں کو افطار کرادینے سے ہمدردی کا حق ادا ہوجائے گااور دعوت افطار سے ان کے سارے گناہ دھل جائیں گے ؟اصل تو ان محتاجوں کے احتیاج کو دور کرنا ہے جو دوسروں تک نہیں پہنچ سکتے اور آپ کو ان کا علم ہے ‘ان بیکسوں کی بیکسی کو دور کرنا ہے جن کی نظریں آپ کی طرف اٹھی ہوئی ہیں، آپ کی ذمہ داری ہے کہ خاموشی کے ساتھ ان افراد کی مدد کریں اور ان کے ساتھ ہمدردی وغمخواری کا اظہار کریں۔بہت سے لوگ ناگہانی مصائب کے شکار ہوجاتے ہیں ان کو دیکھ کر دل میں غمخواری کے جذبات کا پیدا ہونا رمضان کا اہم پیغام ہے ،غرض رمضان گزر جانے کے بعد بھی خلق خدا پر شفقت ‘غرباء پر ترس اور پریشان حال لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی کو شش رہے اور یہ مزاج کبھی ختم نہ ہو۔
رمضان کے بعد آدمی فرائض و نوافل کا ایسا خوگربن جائے کہ ان کے بغیر رات میں نیند آئے نہ دن میں چین و سکون کا احساس ہو۔
یہ چند وہ اہم چیزیں ہیں جن کا رمضان کے بعد بھی اہتمام کرنا چاہئے درحقیقت یہی رمضان المبارک کی قد

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close