مضامین و مقالات

شوال کے چھ روزہ کی فضیلت : از قلم : محمد حماد الکریمی

رمضان المبارک کامہینہ ختم ہو تے ہی جو مہینہ شرو ع ہوتا ہے وہ شوال المکرم ہے شوال کے چھ روزے ان نفلی اعمال میں سے ہے جنکی ادائیگی پر بے انتہا اجرو ثواب ہو تا ہے۔
اور رسول اللہﷺ اس روزہ کےرکھنے کے سلسلے میں بے انتہا ترغیب فرمایا کرتے تھے۔
حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سےمنقول ہے:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِﷺ یَقُوْلُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَکَأَنَّمَا صَامَ السَّنَۃَ کُلَّھَا۰ (مسند احمد)
ترجمہ :ـمیں نے رسول اللہ ﷺکویہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے رمضان کے روزہ کے ساتھ ساتھ شوال کا چھ روزہ رکھا گویا اس نے پورے سال روزہ رکھا ۔
ایک دوسری حدیث میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ ہٰی سے روایت ہے،فرماتے ہیں: اَنَّ رَسُوْلَ اللہِﷺقال:مَنْ صَامَ رَمَضَان،ثُمَ أَتْبَعَہٗ سِتًّامِنْ شَوَّالٍ کَانَ کَصِیَامِ الدَّھَرِ(صحیح مسلم)
ترجمہ:۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس شخص نےرمضان کا روزہ رکھنے کے بعد شوال کا چھ روزہ رکھا گویا اس نے زندگی بھرروزہ رکھا۔
پہلی حدیث میں رمضان کے ساتھ ساتھ شوال کے چھ روزہ رکھنے والے کو سال بھر روزہ رکھنے والے کے مانند قرار دیا گیا ہے۔
جسکی وجہ یہ ہےکہ امت محمدیہ جب ایک نیکی کرتی ہے تو اس کو دس نیکی کا ثواب ملتا ہے ؛ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَـﺔِ فَلَـﻪٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا (سورہ انعام)
لہٰذا ایک مہینہ کا روزہ دس مہینہ کے برابر ہوگااور چھ دن کا روزہ ساٹھ دن کے برابر ہوگا ا۔اس سےپہلی حدیث کا مطلب بالکل واضح سمجھ میں آتا ہے۔
نیزاگر مسلمان کی زندگی کا یہی معمول بن جائے کہ وہ رمضان کے ساتھ ساتھ شوال کے روزہ کو مستقل رکھتا رہےتو یہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے زندگی بھر روزہ رکھا اس توجیہ سے دوسرے حدیث کا مطلب بالکل واضح ہوتا ہے۔
اسلئےمسلمانوں کو اس فضیلت کو حاصل کرنے کی کو شش کرنی چاہیے لیکن اگر کسی کے ذمہ رمضان کا روزہ باقی ہو تو احتیاطاًوہ رمضان کا روزہ پہلے ادا کرے پھربعد میں شوال کا روزہ رکھے۔
شوال کے چھ روزہ عید کے فورًا بعد رکھنا ضروری نہی ہے ۔لیکن اس بات کا اہتمام کیا جائےکہ شوال کے اندر ہی مکمل ہونی چاہیے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close