مضامین و مقالات

آن لائن امام كى اقتداء ميں نماز كى ادائيگى ! از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ

چند روز سے ہندوستان ميں آن لائن عيد كى نماز كى ادائيگى كے تعلق سے ايك غير ضرورى بحث چهيڑ دى گئى ہے، انديشه ہے كه اردو زبان ميں اس موضوع پر كسى واضح تحرير كى غير موجودگى سے لوگوں ميں كنفيو ژن نه پيدا ہو، ميں نے اس مسئله پر ايك ماه پہلے انگريزى ميں ايك مفصل فتوى لكها تها، مناسب معلوم ہوا كه بر صغير كے مزاج كے مطابق كچه رد وبدل كركے اسى فتوى كو اردو ميں پيش كردوں، خدا كرے كه يه حقير كوشش موجوده بحث ميں كوئى مفيد كردار سكے :
اقتداء كى صحت كى ايك متفق عليه شرط يه ہے كه امام اور مقتدى كے ما بين زمان ومكان كا اتحاد ہو، زمان كے اتحاد كا مطلب يه ہے كه امام جس وقت ظہر كى نماز پڑها رہا ہو مقتدى بهى اسى وقت ظہر كى نماز اس كے پيچهے پڑهه رہے ہوں، اگر كسى نے امام كى نماز ركارڈ كركے بعد ميں كسى وقت اسى ريكارڈنگ كے ذريعه امام كى اقتداء كى تو نماز صحيح نہيں ہوگى، مكان كے اتحاد كا مطلب يه ہے كه اگر امام كسى جگه نماز پڑها رہا ہو تو لوگ اسى جگه اس كے پيچهے نماز پڑهيں، اگر امام ايك جگه اور مقتدى كسى اور جگه ہوں تو اقتداء صحيح نہيں ہوگى، مثلا اگر امام مسجد ميں ہو اور لوگ اپنے اپنے گهروں سے اس كى اقتداء كر رہے ہوں تو ان مقتديوں كى نماز صحيح نہيں ہوگى۔

اگر امام مسجد ميں نماز پڑہا رہا ہو اور مسجد كا مصلى اور صحن نمازيوں سے بهر گيا ہو، تو كيا لوگ مسجد كے باہر سے امام كى اقتدا كرسكتے ہيں؟ اس كا جواب يه ہے اگر وہاں تك نمازيوں كى صفيں متصل ہوں تو اقتداء درست ہوگى ، صفوں كے متصل ہونے كى شرط دو وجہوں سے ہے: 1- ايك يه كه صفيں جب متصل ہوں گى تو اسے ايك ہى جگه كہا جائے گا، اور اس سے اتحاد مكان كى شرط پر اثر نہيں پڑے گا، 2- دوسرے يه كه مقتدى كے لئے ضرورى ہے كه وه امام كے ايك عمل سے دوسرے عمل ميں منتقل ہونے كو اچهى طرح سمجهے، اس ميں امام كى آواز كا سننا كافى نہيں، كيونكه امام غلطى بهى كرسكتا ہے، مثلا ظہر كى دوسرى ركعت ميں اس نے الله أكبر كہا اور بجائے بيٹهنے كے كهڑا ہوگيا، جو لوگ صرف امام كى آواز سنيں گے وه بيٹهے ره جائيں گے اور امام كے ساته ديگر اركان كى ادائيگى نہيں كرسكيں گے، اس لئے مقتدى كے لئے ضرورى ہے كه يا تو وه امام كى نقل وحركت سے واقف ہو، يا اپنے سامنے كے مقتديوں كى نقل وحركت سے، اب اگر كوئى شخص ايسى جگه ہے جہاں سے وه نه امام كو ديكه سكتا ہے اور نه ہى مقتديوں كو تو ظاہر ہے كه وه اقتداء پر قادر نه ہوگا۔

اس مسئله ميں ايك تفصيل ايسى ہے جس ميں جزئى اختلاف ہے، وه يه ہے كه اگر صفيں متصل ہوں ليكن مجمع كى زيادتى كى وجه سے كچه مقتديوں اور سامنے كے صفوں كے درميان كوئى ندى حائل ہو، يا كوئى عام رہگزر، تو صحابۂ كرام، تابعين اور فقہاء كى اكثريت اس كى قائل ہے كه اقتداء صحيح نہيں ہے (اختلاف الأئمة العلماء لابن هبيرة 1/144، المغني لابن قدامة 2/474-475، الفقه على المذاهب الأربعة 1/357، الموسوعة الفقهية الكويتية)، كيونكه ندى كى وجه سے امام كى تكبير كا سننا اور ندى كے اس پار مقتديوں كى نقل وحركت كا سمجهنا ممكن نه ہوگا، اور يہى حال شاہراه عام كا ہے، اسى لئے ازواج مطہرات رضي الله عنهن اپنے كمروں سے جو كه مسجد كے بالكل متصل تهے امام كى اقتداء نہيں كرتى تهيں، كچه خواتين حضرت عائشه كے حجره ميں نماز پڑه رہى تهيں تو آپ رضي الله عنها نے فرمايا كه تم امام كى اقتداء نه كرو كيونكه تمہارے درميان اور امام كے درميان ديوار حائل ہے (المغني لابن قدامة 2/473) ، اس پر امام ابن قدامه تبصره كرتے ہوئے فرماتے ہيں كه غالبًا اس طرح اقتداء ممكن نہيں ہوگى۔

امام حسن بصرى، امام مالك وغيره كے نزديك اگر اس طرح كا حائل ہے ليكن امام كى تكبير اور اس كى نقل وحركت كى اطلاع سے مانع نه ہو تو اقتداء صحيح ہو گى، امام حسن بصرى اور امام مالك وغيره كے اس قول كى وجه سے كچه مالكيه اور ان كى نقل ميں كچه اور لوگوں نے آن لائن نماز كے جواز كا فتوى ديا ہے، ان كا خيال ہے كه اگر امام نماز پڑها رہا ہو اور اس كى نماز ٹكنالوجى كى مدد سے ٹى وى، كمپيوٹر يا موبائل فون كى سكرين پر نقل ہو رہى ہے، تو يه اقتداء صحيح ہے۔
اس مضمون ميں اس كى وضاحت كى جا رہى ہے كه يه قياس غلط ہے، اور جولوگ اسكرين كى مدد سے امام كى اقتداء كر رہے ہيں ان كى نماز درست نہيں ہوگى، اس كى تين وجوه ہيں:

پہلى وجه يه ہے كه جن لوگوں نے ندى وغيره كے حائل ہونے كے باوجود نماز كى اجازت دى ہے وه اسى وقت ہے جبكه امام اور مقتدى ايك جگه ہوں، اور جگه ميں گنجائش نه ہونے كى وجه سے وه كسى حائل كے پيچهے پڑه رہے ہوں، اور ساته ہى وه امام كى نقل وحركت سے واقف ہوں (اختلاف الأئمة العلماء لابن هبيرة 1/144، والمغني 2/475، الموسوعة الفقهية الكويتية)، آن لائن امام ميں دونوں شرطيں مفقود ہيں: 1- آن لائن نماز ميں اتحاد مكان نہيں ، امام حسن بصرى اور امام مالك اس كے قائل نہيں ہيں كه كوئى بهى ندى كہيں بهى ہو اس كے دوسرى طرف نماز صحيح ہوگى، بلكه وه اس ندى كى بات كر رہے جہاں تك امام كے پيچهے نماز پڑهنے والوں كى صفيں پہنچ گئى ہيں، اور مجبورى ميں كچه لوگ دوسرى طرف نماز پڑه رہے ہيں ، 2- اگر ٹكنالوجى فيل ہوگى، تو مقتديوں كا رشته امام سے منقطع ہو جائے گا، اور اس كى پيروى نہيں كرسكيں گے، اور ٹكنالوجى خواه كتنى ہى ترقى كر جائے اس سے غلطى كے امكان يا اس كے معطل ہونے كے احتمال كو نظر انداز نہيں كيا جا سكتا۔
يه بات ياد ركهيں كه امام كا تصور (image) امام كا قائمقام نہيں ہوسكتا، انسان اور ٹكنالوجى ميں بہت بڑا فرق ہے، كسى انسان كى جسمانى موجودگى اور اور سكرين پر اس كا تصور دونوں دو الگ الگ چيزيں ہيں، جب كسى انسان سے آپ قرآن كريم سنتے ہيں تو آپ كے احساسات اور آپ كى ذہنى وقلبى حالت اس سے مختلف ہوتى ہے جب كسى اميج سے اس كو سنتے ہيں، اگر اميج كى اقتداء ميں نماز ہو سكتى تو پهر يه مسئله بے معنى ہوجاتا ہے كه كهڑا شخص ليٹے ہوئے امام كى اقتداء كرسكتا ہے كه نہيں، كيونكه ليٹا شخص بهى قرآن پڑه سكتا ہے اور تكبيريں كه سكتا ہے، بلكه اس كى حيثيت ايك اميج سے بہت زياده ہے، صحيح نه ہونے كى وجه يہى كه اس كى نقل وحركت مقتديويں كى سمجه ميں نہيں آئے گى، اور اميج كا دار ومدار چونكه ٹكنالوجى پر ہے اس لئے يہاں اشتباه كئى گنا بڑه جاتا ہے، اسى طرح اگر سكرين پر امام كا اميج امام كے قائمقام ہوتو صف اول كى فضيلت بے معنى ہو جاتى ہے۔

دوسرى وجه يه ہے كه نماز اسلام كا سب سے مقدس فريضه ہے، يه بنده اور اس كے مولى كے درميان ہمكلامى ہے، اس ميں جسم، عقل اور قلب كا سكون (قنوت)، اور خدا كے سامنے كهڑے ہونے كى ہيبت (خشوع) كا ہونا ضرورى ہے، اگر خدا اور اس كے بندے كے درميان ٹكنالوجى آگئى تو توجه نماز پر نہيں ہوگى، خدا سے ہمكلامى كے آداب سے محرومى ہوگى، اور قنوت وخشوع متاثر ہوگا، مسلمانوں كو چاہئے كه ايسى كوشش كريں جس ميں خشوع وقنوت كامل سے كامل تر ہو، نه يه كه وه كسى ايسى چيز كو گوارا كريں جو نماز كى روح كو متاثر كردے۔

ٹكنالوجى كا حائل ہونا شاہراه عام يا ندى وغيره كے حائل ہونے سے شديد تر ہے، امام حسن بصرى اور امام مالك كے قول پر ٹكنالوجى كا قياس فاسد ترين قياس اور واضح سفسطه ہے، كيونكه يہاں صرف ديواريں، شاہراہيں اور ندى اور دريا حائل نہيں، بلكه ٹكنالوجى حائل ہے، يه تاثر دينا كه آن لائن نماز امام حسن بصرى اور امام مالك كے قول كے مطابق ہے يه افترا پردازى ہے كيونكه يه ٹكنالوجى ان كے زمانه ميں تهى ہى نہيں، اور اس حائل كو ندى اور روڈ پر قياس كرنا تسفيه عقول كے ہم معنى ہے۔

تيسرى وجه يه ہے كه ہمارا رب رحمن رحيم ہے، اس كے فرائض كى حيثيت بينكوں كے قرض كى نہيں كه جيسے تيسے مرمر كر ادا كرنا ہے، اس كے فرائض اس كى رحمت كا مظہر اتم ہيں، جب كوئى چيز خير كثير كا ذريعه ہو تو اس كى ايك مقدار وه بندوں پر فرض كرديتا ہے تاكه اس خير كثير سے وه محروم نه ہونے پائيں، روزوں ميں كس قدر خير ہے، اور خاص كر رمضان كے مہينه كے روزوں ميں، اور اگر وه انہيں فرض نه كرتا تو ہم ميں سے بہت سے لوگ روزه نه ركهتے اور اتنى بڑى بركت سے محروم رہتے، اس كے احكام اس كى رحمت كا مظہر ہيں، اسى طرح اس كى رحمت كا يه بهى مظہر ہے كه مشقت كى وجه سے اپنے بندوں كو وه بعض احكامات سے مستثنى كرديتا ہے يا ان احكام ميں تخفيف كرديتا ہے، مثلا سفر ميں ظہر كى نماز دو ركعت كردى، ہم جب اس كے احكام كى پيروى كرتے ہيں تو اس كى رحمت كے مستحق ہوتے ہيں اور جب اس كى رخصتوں پر عمل كرتے ہيں تب بهى اس كى رحمتوں كے مستحق ہوتے ہيں۔

عيد اور جمعه كى نمازيں امت كى اجتماعيت كا مظہر ہيں، اگر كسى وجه سے اس اجتماعيت كا مظاہره ممكن نه ہو تو جمعه كى جگه ظہر پڑهى جائے گى كيونكه ظہر كى نماز اصل تهى، اور عيد صرف اجتماعيت كے لئے ہے، يه كسى نماز كى جگه نہيں آئى، اس لئے اس جگه كوئى نماز نہيں ہوگى، اور عيد كى نماز نه پڑهنے سے آپ كسى كوتاہى كے مرتكب نہيں ہوں گے، آپ اس وقت دوسرى عبادتيں كرسكتے ہيں، قرآن كريم ميں تدبر كرسكتے ہيں، اپنے گهر والوں كے ساته خوشياں مناسكتے ہيں ، ذكر كر سكتے ہيں، اور خير كے دوسرے كاموں ميں مشغول ہو سكتے ہيں۔

آپ سے گزارش ہے كه اس دين كى حقيقت كو سمجهيں، عبادت كا ثبوت صرف وحى سے ہوتا ہے، اس ميں عقل انسانى اور قياس كا كوئى دخل نہين، محض عقل ورائے سے مسلمانوں پر كوئى چيز فرض كرنا يا اسے ان كے دين كا حصه قرار دينا ظلم عظيم ہے "ومن أظلم ممن افترى على الله كذبا” (سورة الأنعام 21)، اور دين كے اندر اپنى خواہش سے كوئى بات داخل كرنا بدعت اور احداث في الدين ہے، اور اس بنا پر مردود ہے، حضرت عائشة رضي الله عنها نے نبى اكرم صلى الله عليه وسلم كا ارشاد نقل كيا ہے "من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد”. (صحيح بخارى اور صحيح مسلم)۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close