مضامین و مقالات

جب اللہ کا کرم ہوا : ( تشکر نامہ) از قلم: مبارک صدیقی متعلم دارالعلوم دیوبند

جب اللہ کا کرم ہوا
( تشکر نامہ)
از قلم: مبارک صدیقی/متعلم دارالعلوم دیوبند
۲۸/ رمضان ۱۴۴۱ھ بہ مطابق ۲۲/ مئی ۲۰۲۰ء
ارریہ( توصیف عالم مصوریہ)
لاک ڈاؤن کے سبب طلبہ ضلع ارریہ بہار کی ایک تعداد دیوبند میں پھنسی تھی، وطن واپسی کے لیے جن کی پریشانی بڑھتے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی تھی، اتحاد الطلبہ ضلع ارریہ بہار کا صدر ہونے کی وجہ سے اس کی نیند حرام تھی، یوپی اور بہار کے DM سے لے کر CM تک کا دروازہ وہ کھٹکٹھا چکا تھا؛ مگر ہر جانب سے امید اور تسلی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا، جب بھی محسوس ہوتا کہ اب کام ہو جائےگا کہ کوئی نہ کوئی مانع منھ کھولے سامنے آجاتا، مسلسل کئی دفعہ اسے منھ کی کھانی پڑی حتی کہ اس کے دست و بازو سمجھے جانے والے مخلص اور محنتی طلبہ بھی ناامیدی کے جملے کہنے لگے، اندر سے شاید وہ بھی ناامید ہو چکا تھا؛ مگر اظہار کرنے سے ڈرتا تھا؛ کیونکہ طلبہ کی ایک تعداد اس سے آس لگائے بیٹھی تھی۔
۲۶ رمضان کو دن بھر کی کوششوں کے بعد وہ شام آٹھ بجے موبائل سائلینٹ پر ڈال کر اپنے معمول میں مصروف تھا کہ ایک طالب علم آئے اور اطلاع دی کہ حضرت مفتی اشرف عباس صاحب قاسمی حفظہ اللہ استاذ دارالعلوم دیوبند آپ کو مستقل فون کر رہے ہیں ان کا فون اٹھائیے! وہ فورا موبائل کی طرف متوجہ ہوا۔
با ادب سلام وغیرہ کے بعد غیر متوقع طور پر حضرت نے اطلاع کے ساتھ حکم بھی دیا کہ ” آج صبح تین بجے ارریہ والے گھر کو روانہ ہوں گے تو سب کو جلدی جلدی تیاری کو کہہ دے اور ساتھ ہی فرمایا کہ کپڑے دھونے مت بیٹھ جانا یہ سب کام تو گھر پر بھی کر سکتا، ابھی صرف طلبہ پر توجہ دے اور ضروری کاروائیاں پوری کر!۔” اور کاروائی کی تفصیل بتائے بغیر حضرت نے فون کاٹ دیا۔
ابھی وہ کشمکش کی حالت میں کمرے سے باہر قدم رکھا ہی تھا کہ اتحاد الطلبہ صوبہ بہار، اوڈیشہ، جھاڑکھنڈ اور نیپال کے صدر مولوی مزمل حسین صاحب اسے نظر آئے جو اسی کی طرف آ رہے تھے، آپ نے آتے ہی طلبہ سے کرایہ جمع کرنے کا حکم دیتے ہوئے اس کے ہاتھ میں طلبہ ارریہ کی لسٹ تھما دی۔
قسمت سے مولوی مزمل حسین صاحب ضلع ارریہ سے ہی تعلق رکھنے والے ہیں؛ اس لیے اس نے ان سے درخواست کی کہ کرایہ جمع کرنے کا کام آپ ہی انجام دے لیں وہ ناظم صاحب مولوی حسن نیہال کو آپ کی معاونت کے لیے بھیج دے گا، آپ بہ خوشی راضی ہو گئے۔
اس نے مفتی اشرف عباس صاحب کے حکم سے اپنے نام کے ساتھ طلبہ میں ایک اعلان کروایا، جو جنگل کی آگ کی طرح پورے دارالعلوم دیوبند میں پھیل گیا، جس کے مطابق ایک طالب علم کا کرایہ کل 3000/روپیے تھے، ساتھ ہی یہ بھی کہلوایا کہ اگر کوئی اس رقم کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو حسب استطاعت اپنا کرایہ جمع کرا دے نیز اگر کوئی کلی طور پر خالی الجیب ہو وہ بھی اس سے رابطہ کرے ان کے لیے بھی انشاء اللہ انتظام کیا جائے گا۔
رات گیارہ بجے جب اس نے کاپی کا معاینہ کیا تو پایا کہ شاید ہی کسی طالب علم نے پوری رقم جمع کی ہو اکثر نے 500 اور 1000 ہی ادا کیے تھے۔
دارالعلوم دیوبند کی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کی وطن واپسی کے کام کا ذمہ محبوب الطلبہ حضرت الاستاذ مفتی اشرف عباس صاحب قاسمی دربھنگوی حفظہ اللہ کے سپرد کیا گیا تھا، آپ ویسے بھی طلبہ کے لیے ہمہ وقت فکر مند رہتے ہیں؛ مگر اس موقع پر آپ کی دلچسپی اکابر دارالعلوم دیوبند کی یاد دلاتی تھی، آپ اپنے ضروری معمولات( جن میں روزانہ کی آن لائن تفسیر بھی شامل ہے) کی تکمیل کے ساتھ طلبہ کے لیے دن رات ایک کر رہے تھے، آپ کبھی بسوں کے نظم و نسق کے لیے جی ٹی روڈ اور اعظمی منزل کے پاس ہوتے تو کبھی طلبہ کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے "نودرہ” میں حلقہ لگائے تشریف فرما رہتے، چونکہ جمعیت علماء سہارنپور نے یوپی میں کمیاب اعلی قسم کی سلیپر لگجھری بس کے انتظام کا وعدہ کیا تھا؛ اس لیے آپ جمعیت کے دفتر بھی خود ہی جاتے تھے؛ تاکہ بس کا انتظام جلد سے جلد ہو سکے۔
اس نے اپنے جملہ معاونین کے ساتھ دیر رات ایک بجے نودرہ میں حضرت مفتی صاحب سے ملاقات کی؛ جبکہ حضرت کا خصوصی خادم ہونے کی وجہ سے وہ بہ خوبی واقف تھا کہ رات گیارہ بجے کے بعد حضرت آرام کرنے چلے جاتے ہیں اور ملاقات کی کوئی صورت ہو ہی نہیں سکتی تھی؛ مگر خلاف معمول بھی حضرت انتہائی چاق و چوبند نظر آرہے تھے۔
حضرت نے جمع شدہ رقم کا حساب لے کر بہت سی ضروری ہدایات بھی دیں اور وہیں اسے علم ہوا کہ باقی ماندہ کرایہ دارالعلوم دیوبند اپنے جیب خاص سے ادا کرےگا جو یقینا طلبہ پر بہت بڑی شفقت ہے۔
تھوڑی ہی دیر میں ایک "بس” کے آ جانے کی خبر ملی جسے حضرت مفتی صاحب نے "طلبہ پورنیہ” کے لیے خاص فرمایا اور طلبہ ارریہ کو اگلی بس کے انتظار کا حکم دیا اور اس انتظار کی مدت ایک غیر معمولی واقعہ کی وجہ سے اتنی بڑھی کہ بس فجر سے پہلے آنے کے بہ جائے عصر کے بعد آئی،جس کی ضروری کاروائی مکمل کرنے کے بعد ڈی ایم سہارنپور کے ایک نمائندے نے "سرکاری بچاؤ کارئے” والا A4 سائز کا ایک کاغذ بس کے شیشے پر لگا دیا جو لاک ڈاؤن میں بس کے سفر کا "پاس” اور ہر قسم کی پرمیشن کا قائم مقام تھا۔
دارالعلوم دیوبند نے طلبہ ارریہ کو توشہ اور زادراہ کے طور پر وافر مقدار میں بسکٹ کے پائکٹش، 80/ بوتل پانی، پانچ کیلو کھجور اور کول ڈرنکس کے چھوٹے والے 80/ پیکجز بھی دیے، جو اپنے طلبہ کے تئیں دارالعلوم دیوبند کی فکر مندی کو ظاہر کرتے ہیں، اللہ مادر علمی کو شریروں کی شرارت سے محفوظ رکھے۔آمین
روانگی سے کچھ دیر قبل جمعیت علماء سہارنپور کے جنرل سیکریٹری جناب ذہین مدنی صاحب کے معاون خاص مولانا محمود صاحب بستوی نے بس کا معاینہ کر ضروری ہدایات سے نوازا اور درمیان سفر کسی سرکاری کارکن کی دخل اندازی کے موقع پر ان سے الجھنے کے بہ جائے جمعیت علماء سہارنپور سے رابطہ کر بات کروانے کی ہدایت دی جس کے لیے انہوں نے دو رابطہ دیے ایک اپنا نمبر دیا جس پر صرف رات بارہ بجے سے دن بارہ بجے تک بات ہوسکتی تھی اور دوسرا نمبر جناب ذہین مدنی صاحب کا دیا جس پر دن بارہ بجے سے رات بارہ بجے تک بات ہوسکتی تھی۔
تاریخ جمعیت علماء سہارنپور کی ان خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی کہ اس کے کارکنان نے اول دن سے ہی لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیوبند و اطراف دیوبند میں پھنسے طالبان علوم نبوت کو گھر پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہیں، ابتداء میں بھی ان حضرات نے یوپی اور قرب و جوار کے طلبہ کو وطن تک پہنچایا، طلبہ کے صحیح سالم گھر پہنچ جانے تک یہ حضرات فکر مند رہتے ہیں حتی کہ باری باری سوتے اور جاگتے ہیں تاکہ راستے میں کسی بھی تکلیف کے وقت ان سے فورا رابطہ کیا جا سکے اور ایک ہی گھنٹی میں فون اٹھا کر تعاون کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، اللہ ان تمام کو بہترین بدل نصیب فرمائے، انہیں دن دونی رات چوگونی ترقیات سے نوازے۔آمین
بہر حال دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء سہارنپور کی مشترکہ کوششوں کے نتیجہ میں "طلبہ ضلع ارریہ” والی "سلیپر نن اے سی بس” ۱۴۴۱ھ کے چھبیسویں تراویح کی شب کو نو بج کر پچپن منٹ پر اکابرین دارالعلوم دیوبند کی دعاؤں کے ساتھ ۸۰ /طلبہ ارریہ دارالعلوم دیوبند کو لیے دارالعلوم دیوبند کے احاطہ سے نکلی، جس کے صرف ایک گھنٹے بعد ہی طلبہ ارریہ وقف دارالعلوم دیوبند کی بھی بس ارریہ کے لیے روانہ ہوئی، ابتداء میں اس کی کوشش رہی کہ دونوں بس ایک ساتھ چلے؛ مگر یہ ممکن نہ ہو سکا؛ کیونکہ "متھورا” میں وقف دارالعلوم دیوبند کی بس خراب ہو گئی جس بنا پر انہیں گھنٹوں رکنا پڑا، جب اس نے اس بس کے ذمہ دار سے بات کی تو انہوں نے بس کی خرابی پر خوشی کا اظہار فرمایا؛ کیونکہ اسی بہانے انہیں مقامی جمعیت علماء کی جانب سے غیر متوقع طور پر امید سے زیادہ تعاون ملا تھا، شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ جو ہوتا ہے اچھا ہی ہوتا ہے۔
بس کے نکلتے ہی اس نے جمعیت علماء ارریہ بہار اور امارت شرعیہ بہار کو اپنی روانگی کی اطلاع دے دی؛ تاکہ ضرورت کے وقت ان کا تعاون لیا جا سکے۔
جمعیت علماء ارریہ کے جنرل سیکریٹری حضرت مفتی اطہر صاحب قاسمی حفظہ اللہ ان خدا ترس بندوں میں ایک ہیں جو ملت کا غم رکھنے کے ساتھ ساتھ طالبان علوم نبوت سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں، آپ اپنی شرافت طبعی اور کرامت نفسی کی وجہ سے زمانہ طلب علمی میں بھی ہمیشہ اپنے اساتذہ کے منظور نظر رہے کہ آج بھی آپ کے اساتذہ آپ کو یاد کرتے ہیں، شخصیت ایسی ہے کہ ایک دفعہ بات کر لینے والا بار بار گفتگو کرنے کی تمنا کرتا ہے، وہ شروع ہی سے آپ کے رابطہ میں رہا آپ نے بہت سے مقام پر اس کی رہنمائی کی۔
طلبہ دیوبند کی سفری پرمیشن کے تعلق سے جمعیت علماء ارریہ نے ہر ممکن کوشش کی؛ گرچہ ہماری جمعیت اپنے ہی علاقے کے ڈی ایم سے اپنے ہی علاقے کے طلبہ کی پرمیشن حاصل نہیں کر سکی اور اب اس کی ضرورت بھی نہیں ہے؛ مگر اس سلسلے میں جمعیت کے کارکنان کی محنتوں اور کوششوں کو سراہنا ضروری ہے؛ کیونکہ واقعی طور پر قاری نیاز صاحب اور مفتی انعام الباری صاحب نے اپنی مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر قیمتی اوقات کو ڈی ایم آفس کے چکر کاٹنے میں لگائے ہیں؛ مگر بد نصیبی کہ ارریہ کا سرکاری سسٹم اتنا سست، کاہل اور بے حس ہے کہ اسے عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی، جب تک کسی کام کے لیے ہنگامہ نہ کیا جائے کام ہوکر نہیں دیتا۔
بہر حال جب وطن کے قریب ہوا تب اسے جمعیت کی اہمیت کا احساس ہوا؛ کیونکہ کہ ارریہ پہنچنے پر ناتجربہ کار طلبہ کے لیے قانونی کاروائی انجام دینا مشکل ہوتا ہے، اس کے لیے فیصلہ لینا مشکل تھا کہ آیا طلبہ کو ان کے بلاک روانہ کر دیا جائے یا کسی ایک جگہ پر ان طلبہ کے چیک اپ کا انتظام کیا جائے؛ اس کے لیے اس نے جمعیت علماء ارریہ کے ذمہ داروں سے مشورہ لیا، ابتداء میں مفتی اطہر صاحب قاسمی حفظہ اللہ اور حضرت قاری نیاز صاحب کے درمیان رایوں کا اختلاف رہا؛ مگر جلد ہی دونوں بزرگ اس پر متفق ہو گئے کہ تمام طلبہ کو صدر ہسپتال لایا جائے اور طلبہ کے لیے ہوم کورنٹائن کی کاروائی مکمل کی جائے جس میں جمعیت علماء ارریہ طلبہ کے سرپرست کا رول ادا کرے گی۔
جب طلبہ دارالعلوم دیوبند کی بس جمعیت علماء ارریہ کے حکم پر پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق ارریہ پہنچی تو صدر ہسپتال کے پاس جمعیت علماء ارریہ کے کارکنان پہلے سے ہی ان کے منتظر استقبال کے لیے کھڑے تھے، پہنچتے ہی تین قسم کے فارم تقسیم کیے گئے جسے پر کرنے کے بعد طلبہ کھڑکی کے پاس لائن میں کھڑے اپنے نمبر کا انتظار کرنے لگے جس کی مدت بڑھتے بڑھتے سات گھنٹہ تک پہنچ گئی۔
جمعیت علماء نے جو منصوبہ بنایا تھا، اگر ہسپتال کی انتظامیہ اس کے مطابق عمل کرتی تو صرف ایک گھنٹے میں تمام طلبہ کی کاروائی مکمل ہو جاتی؛ مگر پھر کہنا پر رہا ہے ارریہ والوں کی بد قسمتی ہی ہے کہ ہر قسم کا سرکاری عملہ سست اور کاہل ہے، تین دن کے سفر کے بعد طلبہ بھوکے پیاسے سات گھنٹے تک کھڑے رہے ؛ مگر اندر آرام سے بیٹھے کارکنان کو اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی، کوئی چائے پینے چلا جا رہا ہے تو کسی کو پیاس اور استنجاء کا تقاضہ ہے اور حد تو یہ ہے کہ سینئر لیڈی ڈاکٹر کام جلد نمٹانے کے بہ جائے بےشوموں کی طرح بیٹھی موبائل چلا رہی تھی، بالآخر دوسری شفٹ میں ایک باریش صاحب شرع ڈاکٹر کی آمد ہوئی جنہوں نے کام کی رفتار کو بڑھایا، کاہل کی طرح بلاوجہ ایک ایک چیز میں غور کرکے اندراج کرنے والے کارکنان کو جلد کام کرنے کا مکلف بنایا اور صرف دو گھنٹے کی مدت میں وقف کے تمام طلبہ کی کاروائی مکمل کی؛ اس لیے کہنا پڑتا ہے کہ ہر مقام پر ہماری مسلم نمائندگی ضروری ہے؛ ورنہ مسلمان بلا وجہ پریشان کیے جائیں گے۔
اس موقع پر انجام دی گئیں جمعیت علماء ارریہ کی خدمات کبھی بھلائی نہیں جائیں گی کہ جمعیت علماء ارریہ کے جنرل سیکریٹری حضرت مفتی اطہر صاحب قاسمی حفظہ اللہ اور قاری نیاز صاحب دامت برکاتہم العالیہ ایک سگے باپ کی طرح از شروع تا آخر طلبہ کے لیے ایک پاؤ پر کھڑے رہے، روزہ کے ساتھ بغیر کسی مفاد کے کسی دوسرے کے خاطر مسلسل دس گھنٹے تک کھڑا رہنا اپنے آپ میں بڑی قربانی ہے؛ مگر عشق نبوی کے حامل ان حضرات کے نزدیک طالبان علوم نبوت اپنی اولاد کی ہی مانند ہیں اور یہی جذبہ انہیں ان طلبہ کے لیے ہر قسم کی قربانیوں کے لیے تیار کر دیتا ہے، اللہ دونوں بزرگوں کو دارین کی بھلائی عطا کرے، ان کی اولاد کو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔آمین
تقریبا آدھے وقت کے بعد مولانا شاہد عادل صاحب کی آمد ہوئی، آپ کی جرأت نے کام کی رفتار کو بڑھانے میں اہم رول ادا کیا، اللہ آپ کو صدا سلامت رکھے،اور جمعیت علماء کے تمام کارکنان کو بہترین بدل نصیب فرمائے اور امت کو جمعیت علماء کی قدر دانی کی توفیق دے۔ آمین
دیر سویر ہی سہی اللہ کے کرم سے تمام طلبہ کی جانچ مکمل ہوئی، جس میں دیوبند سے آئے ہر طالب علم کی رپورٹ ” نگیٹو” رہی، طبی جانچ کے بعد "ہوم کورنٹائن” کی سلپ لیے تمام طلبہ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔
چونکہ اس نے طلبہ کے روانگی کی اطلاع ” امارت شرعیہ بہار” کو بھی دے رکھی تھی؛ اس لیے امارت شرعیہ بہار کے نائب ناظم مولانا شبلی صاحب قاسمی کی ایماء پر مرکزی دفتر کے فعال کارکن جناب مولانا نصیر الدین صاحب مظاہری دامت برکاتہم العالیہ دوران سفر گاہے بہ گاہے خبر و خیریت معلوم کرتے رہے تھے؛ مگر چونکہ جمعیت علماء ارریہ اس قافلہ کی اگوائی کر رہی تھی؛ اس لیے امارت شرعیہ کے تعاون کی ضرورت نہیں پڑی، مگر اہتمام کے ساتھ ان کا بار بار رابطہ کرنا طلبہ کے تئیں ان کی محبت کو اجاگر کرتا ہے، اللہ امارت شرعیہ کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور حضرت امیر شریعت حفظہ اللہ کا سایہ ہم پر تا دیر باقی رکھے۔آمین
الحمد للہ طلبہ ارریہ دارالعلوم دیوبند کی بس کو راستے میں کہیں نہیں روکا گیا؛ حتی کہ "بہار بارڈر” پر بھی خلاف قیاس اس بس کو بنیادی کاروائی کے بعد ہری جھنڈی دے دی گئی؛جبکہ گاڑیوں کے روکنے کا اعلان بھی ہو چکا تھا کہ صبح چار بجے کے بعد ہی گاڑیاں چلیں گی؛ البتہ "رامپور بائی پاس” پر بس کو ڈیڑھ گھنٹے تک روکا گیا اور بغیر کسی باز پرسی کے چلے جانے کا حکم ہوا اور "نرپت گنج ارریہ” میں داخلہ درج کرانے کے موقع پر پولیس اہلکار کے جاہلانہ رویوں کی وجہ سے تھوڑی بےچینی کا سامنا ہوا۔
دوران سفر بریلی کے ایک مقام پر طلبہ دارالعلوم دیوبند کی بس کا ٹھراؤ ہوا، جہاں ” شاہ زادے” نامی ایک شخص نے طلبہ کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اپنے خصوصی استنجاء خانے کا تالا کھول دیا اور پانی کی کمی کو پوری کرنے کے لیے "جنریٹر” کا نظم کیا، اللہ اسے بھی اپنے شایان شان بدل دے۔آمین
الغرض طلبہ دیوبند کے اس سفر کو آسان سے آسان تر بنانے میں جن افراد و تنظیم نے بھی جس طرح بھی حصہ لیا راقم تہہ دل سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہے اور رب کے حضور ان سب کے لیے دعاء گو ہے کہ اللہ سب کی ضرورتوں کو اپنے خزانہ غریب سے پوری فرماوے۔آمین

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close