مضامین و مقالات

قربانی کی شرعی حیثیت : چند توضیحات ! تحریر : محمد ہاشم اعظمی مصباحی نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی

محمد ہاشم اعظمی مصباحی نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی 9839171719

اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اس کے ہر عمل سے صلح و سلامتی پیدا ہوتی اور امن پھیلتا ہے کوئی بھی باشعور آدمی غور و فکر کی نعمت سے اس حقیقت سے آشنا ہو سکتا ہے قربانی بھی شعائر اسلام میں سے ہے اور اہم عبادت ہے یہ اپنے شاندار ماضی ، امن و سلامتی پر سچی تاریخی روایت و شہادت رکھتی ہے ۔ قربانی نہ صرف یہ کہ امن کا پیغام دیتی ہے بلکہ مسئلہ معاش کا عظیم پہلو بھی اپنے جلو میں رکھتی ہے کہ اس عمل صالح کی بدولت معاشی خوش حالی اور امن پیدا ہوتا ہے.
*قربانی کی لغوی تشریح*: قربانی‘‘ کا لفظ عربی زبان کے لفظ ’’قُرب‘‘ سے بنا ہے، جس کا مطلب ’’کسی شے کے نزدیک ہونا‘‘ ہے ’’قُرب‘‘ کا لفظ دوری کا متضاد ہے۔ اور ’قربان‘ ’قرب‘ سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ امام راغب اصفحانی قربانی کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:القربان مايتقرب به الی الله وصارفي التعارف اسماً للنسيکة التي هي الذبيحة…قربانی وہ چیز ہے جس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے، شرع میں یہ قربانی یعنی جانور ذبح کرنے کا نام ہے۔(المفردات للراغب، 408)
*قربانی کی اصطلاحی تعریف*: مخصوص جانوروں کومخصوص دنوں میں یعنی دسویں ذی الحجہ سے بارھویں ذی الحجہ تک تقرب الیٰ اللہ اور ثواب کی نیت سے ذبح کرنا قربانی ہے یہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے حضور پر نور سرکار دوعالم ﷺ کو قربانی کا حکم دیا گیا ہے قربانی ایک اہم عبادت ہے یہ عبادت صرف اسی امت میں نہیں بلکہ پچھلی امتوں میں بھی رائج تھی جیسا کہ ﷲ تعالی کا ارشاد ہے:”ہم نے ہر امت کیلئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپائیوں کے مخصوص جانوروں پر اﷲ تعالی کا نام لیں جو اللہ تعالی نے عطا فرمائے (سورۃ حج34)
ایک جگہ ﷲ تعالی نے آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ ذکر فرمایا کہ جب ہابیل اور قابیل نے قربانی کی تو ہابیل کی قربانی قبول ہوئی اور قابیل کی نہیں۔اسی طرح سورۃ کوثر میں بھی ﷲ رب العزت نےقربانی کی اہمیت کے ساتھ اس کے وجوب کا بھی ذکر فرمایا:” (اے محبوب) آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی کریں” مذکورہ شواہد کے مد نظر ظاہر ہوا کہ قربانی نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے لئے اہمیت کی حامل ہے بلکہ حسب توفیق واستطاعت لازم بھی ہے۔ سورۃ کوثر میں نماز اور قربانی کا ایک ساتھ جمع ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جس طرح نماز اپنی شرائط کے ساتھ اوقات مقررہ پر لازم ہے اسی طرح قربانی بھی اپنی شرائط و قیود کے ساتھ اوقات متعینہ میں لازم ہے جیسے نماز کسی خاص مقام کے ساتھ مقید نہیں ہر جگہ کے لئے عام ہے اسی طرح منشائے الٰہی کے مطابق قربانی بھی کسی مخصوص جگہ کے لئے نہیں ہے بلکہ ہر جگہ کے مسلمانوں کے لئے ہے.
*قربانی احادیث کی روشنی میں* :حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’ابن آدم نے قربانی کے دن خون بہانے یعنی قربانی کرنے سے زیادہ خدا کے حضور پسندیدہ کوئی کام نہیں کیا اور بے شک وہ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور بے شک قربانی کے خون کا قطرہ روۓ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کی بارگاہ میں مقام قبولیت کو پہنچ جاتا ہے۔ لہذا خوش دلی سے قربانی کیا کرو‘‘۔(سنن ابن ماجه، جلد2، باب ثواب الاضحيه، رقم : 1045)دوسری روایت میں یوں ہے:پس جو قربانی صدق و اخلاص سے دی جائے اس قربانی کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے پہلے اللہ کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرلیتا ہے۔(مشکوٰة، ص 128 باب الاضحية)
*قربانی نہ کرنے کی وعید*: مذکورہ روایات کے علاوہ دیگر بہت سی احادیثِ مبارکہ میں قربانی کی بڑی تاکید اور نہ کرنے کی بڑی وعید آئی ہے. رسولﷲ ﷺ کا فرمان عالی شان ہے :”جو شخص استطاعت رکھنے یعنی صاحب نصاب ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ بھٹکے”دوسری روایت میں نبی کریم ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ "جو صاحب نصاب ہو اور قربانی نہ کرے تو خواہ وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے اللہ کو اس کی پرواہ نہیں”
یہ بہت بڑی وعیدیں ہیں ان لوگوں کے لئے جو صاحب استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتے۔رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ کے دس سالہ قیام کے دوران نہ صرف یہ کہ اپنے لئے بلک پوری اپنی امت کے لئے ہر سال قربانی فرمائی ہے.
*قربانی کی فضیلت اور پس منظر* :حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کے صحابہ نے سوال کیا:یارسول ﷲ! یہ قربانی کیا ہے؟ یعنی قربانی کی حیثیت کیا ہے؟ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمیں اس قربانی کے کرنے میں کیا ملے گا؟ فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پھر سوال کیا یارسول ﷲ!اون کے بدلے میں کیا ملے گا؟ آقا نے فرمایا:اون کے ہر بال کے بدلے دس نیکیاں ملیں گی۔سبحان ﷲ کتنی عظیم فضیلت ہے ہر بال کےبدلے میں نیکی،پھر جانوروں کے بال جس کی کوئی حد نہیں، صرف اسی پر بس نہیں بلکہ ایک اور روایت میں فرمایا: قربانی کیا کرو اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو پاک کیا کرو اس لئے کہ جب مسلمان اپنی قربانی کا رُخ ذبح کرتے وقت قبلہ کی طرف کرتاہے تو اس کا خون،اور اون قیامت کے دن میزان میں نیکیوں کی شکل میں حاضر کیے جائیں گے۔ہر صاحب استطاعت کے لیے قربانی واجب ہے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس کو عظیم عبادت اور نبی علیہ السلام کی اتباع سمجھ کر کریں۔نیت صحیح ہہوناچاہیے اگر کسی کی نیت یہ ہو کہ گوشت مل جائے گی یااگرہم قربانی نہ کریں تولوگ ہمیں طعنہ دیں گے تو ایسی قربانی ﷲ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا ہے کیونکہ ﷲ تعالی کو نہ گوشت کی ضرورت ہے اور نہ خون کی بلکہ وہ صرف نیت کو دیکھتا ہے، جس طرح سورہ حج میں ﷲ تعالی نے فرمایا:”ﷲ کو نہیں پہنچتا ان کا گوشت اور خون لیکن اس کو پہنچتا ہے تمہارے دل کا تقویٰ ”۔ اصل میں اخلاص ضروری ہےکیونکہ مقصود ﷲ کی رضا ہے۔
*وجوب قربانی کے شرائط* :(1) مسلمان ہونا، غیر مسلم پر قربانی نہیں ہے (2)مقیم ہونا، مسافر پر قربانی نہیں (3) آزادہونا ، غلام پر قربانی واجب نہیں (4) بالغ ہونا، نابالغ پر قربانی واجب نہیں (5) عاقل ہونا،غیر عاقل اور مجنون پر قربانی واجب نہیں(6)صاحب نصاب ہونا، مسکین اور فقیر پرقربانی واجب نہیں۔
*مالکِ نصاب ہونے کا مفہوم* :قربانی والے مسئلہ میں مالکِ نصاب ہونے کا مفہوم سمجھنے کے لئے درج ذیل باتوں پر توجہ دینا ضروری ہے.(1) -قربانی کے دنوں میں اس شخص کے پاس ساڑھے سات تولہ یعنی 93-گرام312-ملی گرام سونا ہو جس کی قیمت آج کل تقریباً 452656، روپئے ہے (2) یاساڑھے باون تولہ یعنی 656-گرام 184- ملی گرام چاندی ہو جس کی قیمت آج کل تقریباً 34653 روپئے ہے (3) یا 34653 روپئے ہوں (4) یا 34653 روپئے کے برابر مالِ تجارت ہو (5) یا 34653 روپے کے برابر حاجتِ اصلیہ سے زائد سامان ہو (6) یا 34653 روپے کے برابر بیل،بھینس، بکری وغیرہ ہو (7) یا 34653 روپے کےبرابرکھیتی کا مالک ہو تو اس پر قربانی واجب ہے گھر میں جتنے لوگوں کے پاس یہ مالیت ہو گی ان سب کو اپنے اپنے نام سے جدا جدا قربانی کراناضروری ہوگا اگر کسی شخص پر اتنا قرض ہو کہ جس کو ادا کرنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے تو اس پر قربانی واجب نہیں ہو گی اگر کوئی مالک نصاب نہ ہونے کے با وجود قربانی کرتاہے تو وہ سنت و مستحب کا ثواب پائے گا.اگر کوئی شخص ایسا ہو جس کے اوپر قربانی واجب ہے مگر اس کے پاس ایام النحر میں اتنا نقد نہیں ہے کہ جانور خرید سکے تو اس کے لیے واجب ہے کہ وہ چاہے قرض لے کر قربانی کرے یا اپنا کچھ مال بیچ کر (فتاوی رضویہ ج:۸ ص:۳۹۳)
*حاجتِ اصلیہ کا مفہوم* :حاجت اصلیہ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی عموماً انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور ان کے بغیر گزر اوقات میں شدید تنگی اور دشواری ہوتی ہے جیسے1- رہنے کا مکان، 2- پہننے کے کپڑے، 3- سواری (موٹر سائیکل، گاڑی وغیرہ)،4- علمِ دین سے متعلق کتابیں،5- پیشے سے متعلق اوزار،6- خانہ داری کا ضروری سامان وغیرہ (بہارشریعت ح 15 ص 333 مکتبۃ المدینہ کراچی)حاجتِ اصلیہ کی تعریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ درج ذیل چیزیں حاجتِ اصلیہ میں داخل نہیں ہیں (1) ڈیکوریشن پیسز یعنی سجاوٹ کے سامان(2) سینریز یعنی کھیل کود کے سامان(3) سال بھربالکل استعمال نہ ہونے والے برتن(4) سال بھربالکل استعمال نہ ہونے والے کپڑے(5) ضرورت سے زیادہ بالکل استعمال نہ ہونے والا مکان یا استعمال نہ ہونے والی سواری وغیرہ. اگر مقروض کے پاس موجود کُل نصاب میں سے قرض کو نکال کر اتنا مال باقی بچ جائے جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہے تو قربانی واجب ہوگی اور اگر قرض کو نکالنے کے بعد اتنا مال باقی نہ بچے تو قربانی واجب نہ ہو گی.(فتاوی عالمگیری جلد 5 ص 292)
*قربانی کے جانور* قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں ۔ (1)اونٹؔ (2) ،گائےؔ (3) ،بکری ہرقسم میں اس کی جتنی نوعیں ہیں سب داخل ہیں نراور مادہ ،خصی اور غیر خصی سب کا ایک ہی حکم ہے یعنی سب کی قربانی ہوسکتی ہے۔ بھینس گائے میں شمار ہے اس کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔ بھیڑ اور دنبہ بکری میں داخل ہیں ان کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔ اول کی دونوں قسموں کے جانور میں زیادہ سے زیادہ سات افراد اور تیسری قسم کے جانور میں صرف ایک فرد کی قربانی ہوسکتی ہے (عالمگیری وغیرہ)
*جانور کی عمر*: اونٹ پانچ سال کا گائے دو سال کی بکری ایک سال کی ہونا ضروری ہے اس سے کم عمر ہو تو قربانی جائز نہیں زیادہ ہو تو جائز بلکہ افضل ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہہ بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی بھی قربانی جائز ہے۔(درمختار)
*متفرق مسائل*: قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہیے اور تھوڑا سا عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہوگی اور زیادہ عیب ہو تو ہوگی ہی نہیں جس کے پیدائشی سینگ نہ ہواس کی قربانی جائز ہے اور اگر سینگ تھی مگر ٹوٹ گئی اور مینگ تک ٹوٹی ہے تو ناجائز ہے اس سے کم ٹوٹی ہے تو جائز ہے۔ جس جانور میں جنون اس حد کا ہے کہ وہ جانور چرتا بھی نہیں ہے تو اس کی قربانی ناجائز ہے اور اس حد کا نہیں ہے تو جائز ہے۔ خصی یعنی جس کے خصیے نکال لیے گئے ہیں یا مجبوب یعنی جس کے خصیے اور عضو تناسل سب کاٹ لیے گئے ہوں ان کی قربانی جائز ہے۔ اتنا بوڑھا کہ بچہ کے قابل نہ رہا یا داغا ہوا جانور یا جس کے دودھ نہ اترتا ہو ان سب کی قربانی جائز ہے۔ خارشتی جانور کی قربانی جائز ہے جبکہ فربہ ہو اور اتنا لاغر ہو کہ ہڈی میں مغز نہ رہا تو قربانی جائز نہیں [ بہار شریعت جلد ۳ ص ۳۴۱] *گوشت کی تقسیم* : اگر بڑے جانور میں کئی شرکاء ہیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ گوشت آپس میں بہت احتیاط کے ساتھ وزن کر کے تقسیم کریں۔اندازہ سے تقسیم کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں کمی بیشی آسکتی ہیں جو سود اور گناہ ہے، ہاں اگر گھر کے افراد آپس میں مل کر قربانی کرنا چاہیں تو ان کیلیے تقسیم کرنا ضروری نہیں جب قربانی کا گوشت آپ کے حصے میں آئی تو افضل یہ ہیکہ ایک حصہ اپنے اہل وعیال کیلئے رکھے، ایک حصہ اقارب واحباب میں تقسیم کرے، ایک حصہ فقراء میں تقسیم کرے۔اﷲ تعالی سب مسلمانوں کو اس کار ِ خیر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Hashimazmi78692@gmail.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close