پٹنہ

مشہور معالج ڈاکٹر احمد عبد الحئی اور حضرت امیر شریعت کے درمیان خوشگوار ملاقات

مقصد ایک ہی ہے، مل کر کام کریں گے،میں پہلے بھی ا ستعفیٰ پیش کرتارہاہوں: احمد عبد الحئی

ڈاکٹر صاحب اپنے عہدے پر بدستور برقرار رہیں گے:امیر شریعت

پٹنہ12اکتوبر (ہندوستان اردو ٹائمز) بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ کے امیر شریعت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر آج پٹنہ کے معروف معالج اور مولانا سجاد میموریل ہاسپیٹل کے چیرمین جناب ڈاکٹر احمد عبد الحئی صاحب سے ملاقات کی۔ حضرت امیر شریعت سے ملاقات پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ کی آمد سے مجھے بڑی خوشی ہوئی، خود میری خواہش تھی کہ آپ سے ملوں۔ لیکن آج ہی 16؍ بیڈ کے آئی سی یو کے افتتاح کے سلسلہ میں باہر جانے والاتھا۔ لوٹنے پر آپ سے تفصیلی ملاقات کروں ۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اسپتال کے پیچھے والدہ محترمہ کے نام سے نرسنگ کالج کا پلان ہے، بلڈر کا کہنا ہے کہ جولائی تک وہ دے پائیں گے، اس کے لیے خصوصی دعاؤں کی گذارش ہے۔

اُنھوں نے بچیوں کی صلاحیت کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بچیوں میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے، اُن کی صحیح طریقے سے رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے اِس موقع پر امارت شرعیہ اور سابق امرائے شریعت سے اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امیر شریعت رابع سے بھی میرے گہرے مراسم رہے ہیں، میں انھیں چچا جان کہا کرتا تھا۔ ایک موقعہ سے میں نے عرض کیا کہ ’’چچا جان‘‘ روحانی علاج کے ساتھ جسمانی علاج بھی ضروری ہے اگر جسم نہیں رہے گا تو روح کا علاج کیسے کریں گے۔ حضرت امیر شریعت رابع ؒ کو میری یہ بہت پسند آئی اور اس طریقے سے مولانا سجاد میموریل ہسپتال کا افتتاح ہوا۔ حالیہ دنوں اپنے استعفیٰ نامے کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ جب بھی کوئی نئے امیر بنے ہیں، خواہ وہ امیر شریعت سادس ہوں، یا امیر شریعت سابع میں نے ہر ایک کو اپنا استعفیٰ نامہ پیش کیا ہے۔ لیکن الحمدللہ! دونوں امرائے سابقین نے مجھے یہی کہا کہ میرے آنے کے بعد بھی آپ کی ضرورت ہے، آپ اپنا کام حسب سابق کرتے رہیں۔ آج کی خوشگوار ملاقات کے بعد ان شاء اللہ آگے بھی کام کرتا رہوں گا۔ ہوسپیٹل اور امارت شرعیہ کی ترقیات کے لیے ممکنہ حد تک مل جل کر جد وجہد جاری رہے گی۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے بہتر کام لے اور ادارہ کو اپنے مقاصد کی طرف آپ کی قیادت میں رواں دواں رکھے۔

ڈاکٹر صاحب کے استعفیٰ نامہ کے منظر عام پر آنے کے سلسلہ میں خود ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اُنھوں نے یہ استعفیٰ نامہ اِس حکم کے ساتھ دیا تھا کہ اچھے سے لفافے میں ڈال کر حضرت امیر شریعت کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ اس موقعہ سے حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب کی الحمد للہ طویل خدمات ہیں، جن کا سب کو اعتراف ہے، ڈاکٹر صاحب نے امرائے سابقین کے ساتھ بہتر انداز میں کام کیا ہے، لہٰذا ڈاکٹر احمد عبد الحئی صاحب کے استعفیٰ کی جہاں تک بات ہے تو اُن سے گفتگو کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ چوں کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنا یہ استعفیٰ نامہ اپنی سابقہ روایت کے مطابق دیا ہے، چوں کہ امارت شرعیہ کو ایسے باصلاحیت لوگوں کی ضرورت ہے،

لہٰذا حسب سابق ان شاء اللہ ڈاکٹر صاحب ہمارے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی، قائم مقام ناظم مولانا شبلی القاسمی، حضرت امیر شریعت کے برادر اصغر جناب فہد رحمانی ودیگر اصحاب نے بھی ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی۔ خوشگوار اور نتیجہ خیز ملاقات کے بعد ڈاکٹر صاحب نے بڑے خلوص کے ساتھ حضرت امیر شریعت کو رخصت کیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close