شوبز

مشہور سنگر KK کے سر پر چوٹ کے نشان تھے،کولکاتہ پولس نے غیر فطری موت کا درج کیا مقدمہ

مشہور و مروف سنگر کے کے کی موت کے معاملے میں کولکاتہ پولیس نے unnatural death کا مقدمہ درج کیا ہے۔ معلومات کے مطابق کنسرٹ کے بعد ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق گلوکارہ کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی لیکن اب گلوکار KK کے سر پر چوٹ کی خبریں منظر عام پر آ رہی ہیں۔ اب ڈاکٹرس پوسٹ مارٹم کے بعد ہی کے کے کی موت کی اصل وجہ بتا سکیں گے۔ کے کے کے چہرے اور سر پر چوٹ کے نشانات پائے گئے ہیں۔

نیو مارکیٹ تھانے میں مقدمہ درج

معلومات کے مطابق، گلوکار کے کے کی unnatural death کا مقدمہ کولکاتہ کے نیو مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں درج (case registered for unnatural death ) کیا گیا ہے۔ پولیس KK کے اہل خانہ کے آنے کا انتظار کر رہی ہے۔ لواحقین کی رضامندی اور جسد خاکی کی شناخت کے بعد پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔

ایس ایس کے ایم اسپتال کے مطابق لاش کے پوسٹ مارٹم کی تیاریاں کی گئی ہیں۔ پوسٹ مارٹم کے بعد گلوکارہ کا جسد خاکی لواحقین کے حوالے کر دیا جائے گا اور ان کی موت کیسے ہوئی اس کا بھی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر انکشاف کیا جائے گا۔ پولیس اب پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے۔

پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کی موت کے غم سے لوگ ابھی باہر نہیں نکلے تھے کہ بالی ووڈ کے معروف گلوکار کے کے (کرشن کمار کناتھ) کی موت کی خبر نے ایک بار پھر لوگوں کی آنکھیں نم کر دیں۔ کے کے(Krishnakumar Kunnath) نے کولکتہ میں لائیو کنسرٹ کے بعد آخری سانس لی ہے۔ کے کے کی موت کی خبر سے مداحوں کے ساتھ ساتھ گلوکار اور بالی ووڈ اداکار بھی سوگ میں ہیں۔ بالی ووڈ اور ٹی وی کی مشہور شخصیات سوشل میڈیا پر غم کا اظہار کرتے ہوئے کے کے کو خراج تحسین پیش کر رہی ہیں۔

مشہور گلوکار کے کے کا 31 مئی کی رات کولکتہ میں انتقال ہوگیا۔ معلومات کے مطابق ایک کنسرٹ کے دوران ان کی طبیعت بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ آدھی رات کو ملنے والی اس افسوسناک خبر کے بعد نہ صرف مداح بلکہ بالی ووڈ انڈسٹری بھی سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اداکار اکشے کمار، اجے دیوگن، میکا سنگھ، جوبن نوٹیال، سلیم مرچنٹ، عدنان سمیع، راہول ویدیا، رشمی دیسائی سمیت کئی مشہور شخصیات نے سوشل میڈیا پر غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button