بنگلور

مر گا شری مٹھ چترادرگہ میں شاندار مرگا شری اور بر منانا ئیکا شوریا اعزازی جلسہ

ڈاکٹر حافظؔکر ناٹکی وہ واحد انسان ہیں جن کے اندر ۔ علم ۔ ادب ۔ ہمدردی۔ محبت ۔ بھا ئی چارہ ۔ اور ہندو مسلم اتحاد اس طرح رچ بس گیا ہے کہ اس کو الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا ہے :ڈاکٹر سی آر نصیر احمد
ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کے لئے یہ دوہری خوشی کا مو قع ہے کہ انہیں یہ اعزاز اس وقت دیا جا رہا ہے جب ان کی سوویں کتاب آنے ہی والی ہے ۔ ہچرایپا
ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی جتنے بڑے شاعر و ادیب ہیں اس سے بھی بڑھ کر سماجی خد مت گار اور اس سے بھی بڑھ کر انسانیت نواز ہیں: جناب پاپیّا

بنگلور (ہندوستان اردو ٹائمز) آج بروز بدھ ۱۳ ،اکتوبر ۲۰۲۱ء؁ کو مر گا شری مٹھ چترادرگہ نے نہا یت شا ندار ا نداز میں اعزازی جلسے کا انعقاد کیا ۔ دراصل یہ اعزازی جلسہ ہر دل عزیز شخصیت ڈاکٹر حافظؔ کر نا ٹکی کو ایوارڈ سے سر فراز کر نے کے لئے منعقد کیا گیا تھا ۔ ڈاکٹر حافظؔ کر نا ٹکی نہ صرف یہ کہ مشہو ر شا عر اور ادیب ہیں بلکہ وہ آپسی اتحا د و اتفاق ۔ امن و شانتی سماجی بہبود، تعلیم و تعلم اور رفاہی کا موںکے آسمان کے بھی روشن ستا رے ہیں اس جلسے کی صدارت کے فرا ئض جگت گورو پرسنا تیرتھا سوامی نے اداکیے ۔جب کہ اسٹیج کو رونق بخشنے والوں میں وشوپر سنا تیر تھا سوامی جی پیجا ور مٹھا اڑپی ۔ اے نارائن سوامی جی ، صدر سماجی انصاف اور سبلی کرن راجیہ سچیوالیہ ۔ بی شری راما ولو ساریگے جی ۔ کو ٹا شری نواسا پجاری۔ سماجی بہبود ۔جی ایچ تپا ریڈی جی ایم ایل اے ۔ڈاکٹر ایس آرنویلے ہیرے مٹھ ۔ مرگا شری اعزاز یا فتہ شری مہا نتا رو دیشور سوامی جی شری رونید ربھٹ جی ایڈیٹر پر جا وانی ۔ شری نا گا رتنم جی تمل ناڈو ۔ شری یو گا دھر ما رمنا جی ۔بر منانا ئیکا شوریہ اعزاز یا فتہ کماری کو تنو شری ۔ وغیر ھم شامل تھے ۔ ہزاروں کی تعداد میں شکاری پور سے لو گ آئے تھے جو اپنے ہر دل عزیز سماجی خدمت گا ر ڈاکٹر حافظؔکرناٹکی کے اعزاز کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے تھے ۔ بلا مبالغہ ہزاروں کا مجموعہ تھا ۔ ڈاکٹر شیو مو رتی مر گا سوامی نے تعارفی خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ ۔ یہ مرگا شر ی مٹھ کی بہت قدیم روایت ہے ۔ یہ صدیو ں سے انسا نیت کی سر بلند ی کے لیے کا م کر تا آرہا ہے ۔ اور جو لوگ بھی انسا نیت کی سر بلندی کے لیے بے لو ث ہو کر خدما ت انجام دیتے رہے ہیں انہیں اعزاز سے نو از تا رہا ہے یہ مٹھ بلا تفریق مذ ہب وملت ان تمام لو گو ں کو اعزاز سے نواز تا رہا ہے جنہوں نے انسانیت کی خدمت انسا نی سطح پر کی ہے ۔ اس مٹھ کا عالمی اعلان ہے کہ ہم دنیا کے ہر کو نے سے جہا لت اور بھوک کو مٹا نے کی ہر ممکن کو شش کر یں گے ۔ اس مٹھ نے عام انسا نو ں کی سا دگی سے شادی کا بھی بڑے پیما نے پر اہتمام کر نے کی روایت قا ئم کی ہے ۔ اب تک یہ مٹھ تیس ہزار سے زائد جو ڑوں کی اپنے صرفے پر شا دی کر اچکا ہے ۔ اس مٹھ نے ملالہ یو سف زئی کو بھی ان کی خدما ت کے پیش نظر اعزاز سے سر فراز کیا ہے ۔ جو نو بل انعام یا فتہ ایک ذہین طالبہ ہیں اور انسانیت کی بلندی کے لیے کام کر رہی ہیں ۔اس مٹھ نے ہندوستان کے بھی بہت سارے شعراء وادبا اور سماجی خدمت گا روں کو اپنے اعزازات سے نواز اہے جن میں شبانہ اعظمی ، اور سی ،کے جعفر شر یف کے اسمائے گرامی بھی شا مل ہیں ۔
جگت گورو شیوپر سنا تیرتھا سوامی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہم ہر مذہب اورہر طبقے کے ان لوگوں کا اعزاز کر تے ہیں جو انسانیت کی سر بلندی ، بھا ئی چارے۔ امن ،شانتی ۔ اور تعلیم و تدریس کو عام کر نے کے لیے اخلاص سے کام کر تے ہیں ۔ ہم حافظؔ کر ناٹکی کو مر گا شری مٹھ اعزاز حاصل کر نے پر دلی مبا رکبا د پیش کر تے ہیںکیوںکہ وہ ہر طرح اس کے حق دار تھے ۔ میں یہا ں مو جود دوسرے اعزاز یا فتہ حضرات کو بھی مبا رکباد پیش کر تا ہو ں ۔
ڈاکٹر حافظؔ کر ناٹکی نے اپنے خطا ب میں کہا کہ میں مر گا شری اعزاز پا کر خوشی محسوس کر رہا ہو ں مجھے بہت سا رے قومی سطح کے اعزاز ات مل چکے ہیں ۔ مگر میں اس اعزاز کو اپنی قلبی طما نیت کے احساس کے ساتھ قبول کر تا ہوں ۔ یہ اعزاز اس با ت کی تسکین فرا ہم کر تا ہے کہ میں اپنے گھر کے لو گو ں کے دلوں میں رہتا ہو ں جو بہت بڑی با ت ہے ۔ ہم سبھوں کو مذہب وملت اور ذات پا ت کے تعصب سے بلند ہوکر کام کر نا ہے تا کہ ہما را وطن بھا ئی چا رے اور شا نتی کی مثال بنا ر ہے ۔
ڈاکٹرسی آر نصیر احمد نے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ یو ں تو بہت سا رے لو گو ں کو اعزاز ات ملتے رہتے ہیں لو گ اس کے لیے لابنگ بھی کر تے ہیں ۔ مگر حافظؔ کر نا ٹکی سب کچھ بھول کر خدمت خلق میں مگن رہتے ہیں ۔ اور مر گا شری مٹھ کی روایت رہی ہے کہ وہ لو گو ں کی خدمات کو پہچان کر انہیں اعزاز سے نواز تی ہے ۔ اس لیے میں ڈاکٹر حافظؔکرناٹکی کو دل کی گہرائیوں سے مبا رکبا د پیش کرتا ہوں ۔ حافظؔکر ناٹکی وہ واحد انسان ہیں جن کے اندر ۔ علم ۔ ادب ۔ ہمدردی۔ محبت ۔ بھا ئی چارہ ۔ اور ہندو مسلم اتحاد اس طرح رچ بس گیا ہے کہ اس کو الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا ہے ۔
کنڑ اصحافتی کمیٹی کے ضلعی سکریٹر ی جناب ہچرایپا نے کہا کہ حافظؔکر ناٹکی کو میں بیس سالوں سے بہت قریب سے دیکھ رہا ہوں ۔ وہ سماج کا اور انسانیت کا درد رکھنے والے ایک مثالی انسان ہیں ۔ ان کے یہاں ذات پات کا کو ئی بھید بھائو نہیں پا یا جا تا ہے ۔ ان سے جب کبھی کو ئی سوامی جی یا کو ئی فا در ۔ یا کو ئی عام غیر مسلم انسان بھی ملنے آتا ہے تو انہیں نہا یت محبت اوراحترام سے دل میں جگہ دیتے ہیں ۔ ایک با ر میں نے ان سے ایک مٹھ میں بو رویل کے لیے کہا تو وہ نہ صرف یہ کہ اس کے لیے خوشی سے راضی ہو گئے ۔ بلکہ اس کے بعد انہوں نے جہا ں جہاں ضرورت پڑی سیکڑوں بورویل لگوائے ۔ میں بے حد خوش ہو ں کہ ڈاکٹر حافظؔکرناٹکی کو مر گا شری مٹھا اعزاز سے نوازا گیا ۔یہ ہما رے شہر شکا ری پور اور ضلع شیمو گہ کے لیے بھی بڑے اعزاز کی با ت ہے یہ دوہری خوشی کا مو قع ہے کہ انہیں یہ اعزاز اس وقت دیا جا رہا ہے جب ان کی سوویں کتاب آنے ہی والی ہے ۔
ڈاکٹر آفاق عالم صدیق نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ڈاکٹر حافظ ؔکرناٹکی کے ساتھ رہتا ہوں ۔میں نے انہیں قریب سے دیکھا ہے ، وہ اپنے سینے میں محبت سے لبریز ایسا دل رکھتے ہیں جس میںہر مذہب اورہر طبقے کے لوگوں کے لئے بہت ہی محترم مقام ہے۔وہ ہندو مسلم اتحاد کی ایک ایسی مثال ہیں جس پر بجاطورپر ناز کیا جاسکتا ہے۔وہ مذہب وملت کی تفریق کے بغیرہر ضرورت مند کے کام آتے ہیں۔وہ اپنے تعلیمی ادارے میںجب بھی کوئی جلسہ کرتے ہیں۔تو سوامی جی، فادر، علماء، ادباء، شعراء اور سماج کے ہر طبقے کے معزز لوگ ایک ساتھ نظر آتے ہیںوہ کسی بھی مذہب کے خلاف کچھ بھی بولنا تو دور کی بات ہے، سننا بھی پسند نہیں کرتے ہیں۔وہ اپنی پوری زندگی انسانیت کی سر بلندی کے لئے وقف کرچکے ہیں،ایسی ہمہ گیر مخلص ، ہمدرد، اتحاد کی خوگر،اور محبت کرنے والی شخصیت کا اعزاز در اصل انسانیت کی سر بلندی کا اعزاز ہے۔ہم اس پر جتنا بھی فخر کریں کم ہے،میں انہیں پوری انسانی برادری کی طرف سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
باپو جی ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے بانی جناب پاپیّا نے کہا کہ میں نے حافظ ؔ کرناٹکی جیسا مخلص اور کھلے دل کا انسان آج تک نہیں دیکھا، جو لوگ بھی تعلیمی ادارے چلاتے ہیں اگروہ حافظ ؔکر ناٹکی کی نقش قدم پر چلنے لگیں تو ہمارے آس پاس کی دنیا ایسی روشن ہوجائے گی کہ تاریکی کا احساس تک مٹ جائے گا۔ان کے کالجوں اور اسکولوں کے سبھی پرنسپل ہندو ہیں۔ان کے ادارے میں ہندو مسلم کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ہمیں کسی قسم کے تعاون کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ آگے بڑھ کر تعاون کرتے ہیں۔وہ جتنے بڑے شاعر و ادیب ہیں اس سے بھی بڑھ کر سماجی خد مت گار اور اس سے بھی بڑھ کر انسانیت نواز ہیں۔ میں ان کو دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوںاوریہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ان کے اعزاز میں بہت جلد شکاری پور میں ایک جلسہ منعقد کیا جائے گا۔بعد ازاں اوربھی بہت سارے لوگوں نے انہیں مبارکباد دی۔اور انکی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی ستائش کی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close