کالم

مرکز نظام الدین پہ پابندی تبلیغی جماعت کو تبلیغ سے روکنے کی کوشش:احساس نایاب ( شیموگہ، کرناٹک )

13 سبتمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے تبلیغی جماعت کے مرکزم نظام الدین کو بند کئے جانے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکیوں کی موجودگی کی وجہ سے سرحد پار معاملات اور سفارتی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس کا مطلب صاف ہے کہ مرکز نظام الدین پہ لگائی گئی پابندیاں ابھی برقرار رہیں گی ۔۔۔۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال 31 مارچ 2020 کورونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کو بنیاد بناکر مرکز نظام الدین کو دہلی پولس اور مودی سرکار کی جانب سے بند کروادیا گیاتھا اور یہاں لوگون کا داخلہ بھی ممنوع قراردیدیا گیا تھا اور مرکز نظام الدین میں موجود 1300 غیرملکی تبلیغیون کے خلاف سخت قانونی کاروائی بھی کی گئی تھی ۔۔۔۔۔
اور اب 13 سبتمبر 2021 تقریبا دیڑھ سال مکمل ہوجانے کے بعد جب ملک بھر میں کہیں پر کورونا کو لے کر کسی قسم کی خاص پابندیاں دیکھنے کو نہیں مل رہی ہیں یہان تک کہ ملک مین کہیں پر بھی سوشل ڈسٹنسگ کا بھی نام و نشان نہیں ہے باوجود مرکز نظام الدین کو بند رکھنا یہ دہلی پولس اور مودی سرکار کی متعصبانہ سوچ ہے
جبکہ آج بازاروں سے لے کر اسکول کالجس ،چھوٹی بڑی تمام فیکٹریاں ، کلبس ، جوے اور شراب کے اڈے، ہوٹلس، پارکس اور تفریح کے اکثر و بیشتر مقامات کھول دئے گئے ہیں
بھارت کی بسوں اور ٹرینوں میں آج بھی وہی بھیڑ جمع ہے ، ملکی اور غیر ملکی پروازیں بھی بغیر کسی احتیاطی گائدلائنس کے شروع کردی گئی ہیں اور شردھا کے نام پر ہندو تہواروں میں لوگوں کے جمع ہونے پہ سرکار یا انتظامیہ کو کسی قسم کی دقت نہیں ہورہی، انتخابی ریلیوں میں کورونا کو لے کر کسی بھی قسم کے پروٹوکال کا پاس و لحاظ نہیں رکھا جارہا ہے ، اوورآل ہر چیز اپنی اپنی جگہ اپنی پرانی رفتار مین آچکی ہے لیکن آج بھی مرکز نظام الدین پہ لگائی گئی پابندی کو ہٹایا نہیں جارہا، مانو ساری دنیا کو چھوڑ آج بھی کورونا نے مرکز نظام الدین میں ہی اپنا ڈیرہ جمائے رکھا ہو ۔۔۔۔۔۔
جبکہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے نام پر مرکز پہ لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد نکلے اور مرکز میں غیرملکیوں کے آنے سے لے کر ہزاروں کی تعداد میں تبلیغیوں کے جمع ہونے پر مرکز کے ساتھ ساتھ خود دلی پولس اور انتظامیہ کی کئی لا پرواہیاں سامنے آئی تھیں جس پہ پولس اور انتظامیہ خود سوالات کے گھیرے میں رہی باوجود ایک مسلمان ہونے کی وجہ سے سارا ٹھیکرا تبلیغی جماعت کے سر پھوڑ کر ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا کردیا گیا ۔۔۔۔۔۔ تبلیغی جماعت کو کورونا جہادی کہہ کر جگہ جگہ مسلمانوں کو زدوکوب کیا گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ کمبھ میلے کا وہ منظر ساری دنیا دیکھ رہی تھی جہاں لاکھوں شردھالو جمع ہوکر لاک ڈاؤن اور کورونا پروٹوکال کی دھجیاں اڑا رہے تھے ، جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ پوزیٹیو پائے گئے اور مرنے کی تعداد تو پوچھیے ہی مت شمشانوں میں جلانے کے لئے لکڑیاں کم پڑنے لگی ، لوگون کی لاشیں اٹھانے کے لیے کندھے نہیں ملے ، اور شردھا کے نام پہ جمع لوگوں نے اپنے عزیزوں کی لاشیں پانی میں بہادی جنہیں سمندر نے بھی لینے سے انکارکردیا اور آدھی سڑھی گلی لاشیں ساحلوں مین پڑی ملیں جنہیں جانور تک نوچ رہے تھے
ان تمام حالات ، اس حماقت کے باوجود آج شردھا سے جُڑے ہر مقامات سے پابندیاں ہٹادی گئی ہیں لیکن مرکز آج بھی نشانہ پر ہے ۔۔۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے کہ جس وقت کورونا کا معاملہ اٹھا تھا اس وقت مرکز نظام الدین میں 1300 غیرملکی موجود تھے اور اُس کی وجہ سے دوسرے ملکوں کے ساتھ سفارتی پیچیدگیاں بھی پیدا یوگئی تھی اس لئے قانون تعزیرات ہند کی دفعہ 310 کے تحت مرکز نظام الدین بند کیا گیا تھا
اور صحت عامہ کو برقرار رکھنے کے لئے آئین کی دفعہ 26 کے تحت دئے گئے بنیادی حقوق کو بھی عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے ۔۔۔۔۔
یہاں پہ یہ بات بتانا بھی ضروری ہے
کہ تبلیغی جماعت نے ہمیشہ سے خود کو سیاست سے لے کر سماجی و دیگر معاملات سے دور رکھا اور صرف عبادت کو ہی عین مقصد مان کر وعظ و تبلیغ میں مصروف رہے اور اسی کو اپنی زندگیوں کا مقصد بنالیا
اُس وقت بھی جب ملک میں این آی سی ، سی اے اے جیسے کالے قوانین لانے کی کوشش کی گئی تو سارا ملک بی جے پی سرکار کے ان متعصبانہ قوانین کے خلاف صف آرا ہوگیا لیکن تبلیغیون کی جانب سے ایک چھوٹا بیان تک نہیں سننے میں آیا ۔۔۔۔۔۔
ہمارے کہنے کا مطلب بس اتنا ہے کہ تبلیغی جماعت نے شروع سے ہی دنیاوی ان تمام معاملات سے خود کو دور رکھنے محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے باوجود محض مسلمان ہونے کی وجہ سے آج وہ بھی فرقہ پرستوں کے نشانہ پر ہے اس کا مطلب صاف ہے کہ آج خاموشی ہی سب سے بڑی مجرم ہے اور یہان اپنے حقوق اور اپنے اوپر ہورہے مظالم کے خلاف ایک جُٹ ہوکر ہر ایک پہ آواز اٹھانا لازم ہے ۔۔۔۔۔۔۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close