مذہبی مضامین

زکوة کن لوگوں کودی جاسکتی ہے‌ : مفتی ہمایوں اقبال ندوی

میرے ایک عزیز نے "زکوة کن لوگوں کو دی جاسکتی ہے” یہ سوال معلوم کیا ہے۔لاک ڈاون کی پابندی کولیکرضروتمندوں کی فہرست طویل ہوگئی ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو اس ایک سوال میں بہت سارے سوالات ہیں جو پوچھےنہیں گئےہیں مگرقائم ضرورہوئےہیں ۔البتہ ان کا حل بھی اسی ایک سوال کےجواب میں مطلوب ہےجوبحمداللہ موجود بھی ہے ۔شاید یہی وجہ کر آنعزیز نے یہ نہیں پوچھا کہ: فلاں کوزکوة دی جاسکتی ہے؟ بلکہ یہ پوچھ لیا ہےکہ :زکوة کن لوگوں کو دی جاسکتی ہے؟ ۔میں نے انہیں قرآن کریم سے استفادہ کی طرف رہنمائی کردی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی اس تعلق سے یہی رہنمائی کرتی ہے کہ؛ زکوة کی تقسیم کا معاملہ باری تعالٰی نے کسی نبی یا غیر نبی پر نہیں چھوڑا ہے بلکہ خود اس کے مصارف مقرر کردیئے ہیں جو آٹھ ہیں(حدیث )
قرآن نے ان لوگوں کی فہرست آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کی ہے، یہ فہرست خود باری تعالٰی نے ترتیب دی ہے ۔اسے کسی کی مرضی پر نہیں چھوڑا ہے۔قرآن میں لکھا ہے :فرض صدقات (عشر وزکوة) غریبوں اور محتاجوں کا، اور زکوة وعشر وصول کرنے والوں کا، اور جنکی دلجوئی کرنی مقصود ہو ان کا حق ہے، اور انہیں گردنوں کے چھڑانے میں، اور قرض داروں کا بار ہلکا کرنے میں، اور خدا کے راستے میں، اور مسافروں کے اوپر صرف ہونا چاہیے ۔یہ حکم اللہ کی طرف سے فرض ہوا ہے اور اللہ بڑاجاننے والا اور حکمت والا ہے،(سورہ توبہ:60 )
یہ کل آٹھ قسم کے لوگ ہیں جو قرآنی ترتیب سے مستحقین زکوة ہیں ۔شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی نے ان سبھوں کا بہت ہی مختصر مگرجامع تعارف کرادیا ہے۔لکھتے ہیں ؛ فقراء: جن کے پاس کچھ نہ ہو۔۲/مساکین :جن کو بقدر ضرورت میسر نہ ہو ۔۳/عاملین: جواسلامی حکومت کی طرف سے زکات کی حصولیابی کے کام پر متعین کئے گئے ہوں ۔۴/مولفہ القلوب :جن کے اسلام لانے کی امید ہو یا اسلام میں کمزور ہوں وغیر ذلك من الأنواع ،(اکثر علماء کے نزدیک حضور کی وفات کے بعد یہ مد نہیں رہی )
۵/رقاب :یعنی غلاموں کا بدل کتابت ادا کرکے آزادی دلائی جائے یاخرید کر آزاد کئے جائیں یا اسیروں کا فدیہ دے کر رہا کرائے جائیں ۔۶/غارمین: جن پر کوئی حادثہ پڑا اور مقروض ہوگئے یا کسی کی ضمانت وغیرہ کے بار میں دب گئے ۔۷/سبیل اللہ: جہاد وغیرہ میں جانیوالوں کی اعانت کی جائے ۔۸/ابن السبیل: مسافر جو حالت سفر میں مالک نصاب نہ ہو، گو مکان پر دولت رکھتا ہو،،حنفیہ کے یہاں تملیک ہر صورت میں ضروری ہے اور فقر شرط ہے، (بحوالہ تفسیر عثمانی )
فقراء کے تعلق سے قرآن یہ بھی اعلان کرتا ہے کہ اس کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو اپنی روزی حاصل کرنے کی طاقت رکھتی ہے باوجود اس کے وہ مال زکوة کا مصرف ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے راستے میں لگے رہنے کی وجہ کر روزی کمانے سے قاصر ہیں:صدقات ان ضرورت مندوں کے لئے بھی ہیں جو اللہ کے راستے میں بالکل لگے ہوئے ہیں اسی وجہ سے زمین پر چل پھر کران کو روزی کمانے کا موقع نہیں ملتا ،ناواقف لوگ ان کونہ مانگنے کی وجہ سے مطمئن اور مالدار سمجھتے ہیں، اگر تم غور کرو تو ان کے چہرے بشرے سے پہچان لوگے کہ وہ مطمئن نہیں ہیں بلکہ پریشان حال ہیں، وہ کسی کے پیچھے پڑ کر گڑ گڑاکرنہیں مانگتے (بقرہ)
مدارس اسلامیہ کااسی مد کی رقم سے اتنا بڑا نظام چل رہا ہے ۔اس مہاماری میں ان مدارس کو بھی بڑامالی نقصان پہونچا ہے ۔قرآن کریم کی تعلیم تو یہ کہتی ہے کہ آپ خود ایسے لوگوں کی فکر کریں جو دین کی فکر میں ہیں۔یہ موقع مدارس کے لئے نازک ضرورہے مگرصاحب خیر کے لئے امتحان کا بھی ہے کہ کون ہے جو خود جاکر اس کی اعانت کرتا ہے اور کون ہے جو پرانی اکڑ پر قائم رہتا ہے جسکی شریعت میں اجازت نہیں دی گئی ہے بلکہ خود چل کر یہ فرض ادا کرنا ہے،یہ وقت اس کی دہائی دیتا ہے ۔
لاک ڈاؤن کی پابندی یہ طویل ہوتی گئی ہے۔اس وقت فقیر کی ایک نئی قسم پیدا ہوگئی ہے ۔یہ کہنا درست نہیں ہے کہ چودہ سو سال میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔بلکہ اس کی نظیر ماقبل میں بھی رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام نے ایسے لوگوں کو بھی زکوة کی رقم سے مدد کرنے کی بات کہی ہے جو اچانک کسی حادثہ یاسیلاب کی وجہ کر اپنی دکان اوراپنےمکان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہوں، ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا ہو ،لیکن اس کا دائرہ گاؤں یا خاص علاقے کو محدود رہا ہے ۔ حالیہ کروناوائرس کےحملےسےبازاربند ہیں ۔بھکمری عام ہونے لگی ہے ۔بھوک سے ایک انسان اپنے گھر میں بیٹھے بیٹھے موت کے منھ میں چلا جارہا ہے ۔آئے دن اس طرح کی خبریں ہم سبھوں کو ستانے لگی ہیں ۔اپنے سماج ومعاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو قرآن کی زبان میں مالدار سمجھے جارہے ہیں درحقیقت وہ اس وقت ضرورت مند ہیں۔انہیں غور سے قرآن دیکھنے کی بات کرتا ہے۔ چہرے بشرے سے پہچان کرنے کی تعلیم کرتا ہے ۔یہ خوددار اور غیور لوگ ہیں۔یہ کھل کر دست سوال دراز نہیں کرسکتے ہیں ۔بھوک سے مرجانا ان کے لئے آسان ہے مگر کسی کے پیچھے پر کر گڑگڑانا ان کے لئے مشکل ہے ۔ایسے لوگوں کی شناخت خود سے کی جانی ہے، اور مال زکوة سےان کی مدد کی جاسکتی یے۔ایساکرنےپرزکوہ بھی ادا ہوتی ہےاور اجر بھی زیادہ ملتا ہے ۔اسوقت اپنے قریبی عزیز ورشتہ داروں میں بھی ایسے لوگوں کی تلاش کی جانی چاہیے جن کو اس مد سے دینا جائز ہے۔ زکوة کی رقم سے اپنے رشتہ داروں کی مدد ہی نہیں کی جاسکتی ہے بلکہ اس مد کا سب سے زیادہ مستحق بھی یہی ہیں۔بھائی بھتیجے بھتیجیاں، بہن بہنوئی بھانجے،بھانجیاں،چچا چچی خالی،خالو،پھوپھی پھوپھا، ماموں، ممانی، ساس، سسر، سالے، داماد، سوتیلے باپ، سوتیلی ماں وغیرہ کو دینے میں دہرا ثواب بھی ہے ۔ایک زکوة دینے کا اور دوسرا صلہ رحمی اور سلوک کا ۔البتہ اس تعلق سے اتنا ضرور یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اپنے اصول و فروع کو اس مد کی رقم نہیں دی جاسکتی ہے ۔اپنے ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی اور ان کے اوپر مثلا پردادا پردادی، پرناناپرنانی وغیرہ ۔اور فروع جیسے بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسہ نواسی یا ان کے نیچے مثلا پرپوتی، پرپوتا،پرنواسہ پرنواسی ۔شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو زکوۃ نہیں دے سکتی ہے ۔اسی طرح اس تعلق سے یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ مالدار آدمی کی نابالغ اولاد کو،اور غیر مسلم کو اس مد کی رقم نہیں دی جاسکتی ہے ۔ اپنےرشتہ داروں کے ساتھ ساتھ اسوقت پڑوسیوں، دوستوں کی بالخصوص تحقیق کرلینی ہے کہ واقعی وہ ضرورت مند ہیں،تحقیق کے لئے اس خاص موقع پر حکمت سے ہی کام لینا ہے اور قرآنی تعلیمات پر اس حوالے سے بھی عمل کی ضرورت ہے ورنہ انکی مدد سے زیادہ اس کی ایذارسانی کا بھی امکان ہے ۔میرے ناقص خیال میں اس عزیز کے سوال میں یہ سارے سوالات بھی ہیں جنکے جوابات بہت حد تک آگئے ہیں۔ یہ عنوان بسیط ہے۔ہر ہر مصرف پر گفتگو کی ضرورت ہے۔ البتہ ضرورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو باتیں ضروری آگئیں ہیں ان پر عمل کی بھی ضرورت ہے ۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ, 9973722710

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close