مذہبی مضامین

قرآن تو میری شفاعت کرنا ! از قلم ۔ شبیر ندوی

( قرآن کی آیتوں اور احادیث کو مد نظر رکھکر لکھا گیا مضمون بغور پڑھیں )
اے قرآن مقدس تو سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اور تجھ میں کسی بھی طرح کی کوٸ شک کی گنجاٸش نہیں ہے ۔ اور تجھکو نازل کرنے والی ذات ہر چیز سے پاک ہے ۔ جو ذات لاٸی وہ روح الامین ہے ۔ اور جس پر تو نازل ہوا وہ بھی رسول امین ہے ۔ اور جس مہینے میں تو نازل ہوا وہ مہینہ بھی تمام مہینوں کا سردار ہے۔ اور جس رات تو اترا وہ رات بھی ”خیر من الف شھر “ ہے ۔ اور تیری حفاظت خود تیرے نازل کرنے والے نے لی ہے ۔ اور تو جیسے اترا جوں کا توں ابھی تک ویسا ہی ہے۔ اور تو سب سے آخری آسمانی کتاب ہے لیکن پہلی ساری آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے ۔ اور تو لاکھوں حافظوں کےسینے میں محفوظ ہے۔ اور جس نے تجھکو مٹانا یا ختم کرنا چاہا وہ خود مٹ گٸے اور سزا بھگت کر چلے گٸے ۔ اہل عرب کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چیلنج کیا کہ تجھ جیسی کوٸی سورت یا آیت ہی لے آٸے لیکن وہ لوگ تیری جیسی ایک آیت بھی پیش کرنے سے قاصر رہے اور گھٹنے ٹیک دیٸے ۔تیری آیات محکمات ہیں ۔ تیری عظمت و وقعت سب سے اونچی ہے ۔ تو حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے ۔ اللہ تعالی نے تیری سب سے پہلی آیت ” اقرأ “ اتار کر علم دین کی اہمیت کو اجاگر کردیا اور سب سے آخری آیت ” الیوم اکملت لکم دینکم “ اتار کر اپنا دین مکمل کردیا ۔ تیری فصاحت و بلاغت کے پیش نظر تجھے لغوی و مذہبی لحاظ سے تمام عربی کتابوں میں اعلی ترین مقام دیا گیا ۔ اور تو اپنے نزول سے قیامت تک قابل عمل ہے ۔ اور ہر دور کے حالات کا حل پیش کرتا ہے ۔ اور تونے مسلمانوں کی عام زندگی کو عقاٸد و نظریات ، فلسفہ اسلامی ، اسلامی سیاسیات ، معاشیات و اخلاقیات اور علوم و فنون کی تشکیل میں ایک بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔ اور تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی واضح دلیل ہے ۔ اور انکا خاص معجزہ ہے۔ اگر تیری دوسری صفت عظیم ”ولقد آتینا سبعا من المثانی والقرآن العظیم “ ہے تو اللہ کی صفت بھی ”باللہ العظیم “ ہے گویا تو بھی عظیم اور اللہ بھی عظیم ۔ اور اے قرآن عظیم جس نے تجھ پر عمل کیا اسکو تونے بلندی عطا کی اور جس نے تجھکو چھوڑ دیا اسکو تونے پست کردیا ۔ اور تو سراسر ہدایت کا سرچشمہ ہے ۔ اور تیری ہدایت پوری انسانیت کے لیٸے ہے ۔ اور تو اتنا وزنی ہیکہ اگر تو پہاڑ پر نازل کردیا جاتا تو پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجاتا ۔ اور تو بڑے بڑے نامور عرب رٶسا عمر فاروق جیسے اسلام قبول کرنے کا ذریعہ بنا ۔ اور مقام نخلہ پر جب حضور نے صحابہ کے ساتھ نماز میں تجھکو پڑھنا شروع کیا تو جنات کی ایک جماعت نے تجھکو سنا تو ہدایت کا ذریعہ سمجھکر ”فآمنا بہ “ کہنے پر مجبور ہوگٸے ۔ اور سب نے تیری حقانیت و صداقت اور منزل من اللہ ہونے کو تسلیم کیا ۔ اور حال قریب میں ناروے کے شہر میں جب قرآن کی بے حرمتی اور آتشزدگی کا ماحول گرم تھا تو نوجوان عمر الیاس نے چھلانگ لگا کر تجھکو تیری بے حرمتی سے بچا لیا جسکے سبب تو بہت سو کے قبول اسلام کا ذریعہ بنا۔ اور حضور کا ارشاد کہ جو تجھکو مضبوطی سے تھامے رہیگا کبھی بھی گمراہ نہں ہوگا ۔ اور جو تجھکو سیکھے اور دوسروں کو سکھاٸے اس سے بہتر کوٸی نہیں ہو سکتا ۔ اور تو نصیحت حاصل کرنے والے اور عمل کرنے والے کے لیٸے بہت آسان ہے ۔
اخیر میں اے میرے قرآن عظیم رمضان کا مبارک مہینہ آچکا ہے جس مہینے کی صفت بھی عظیم ہے ۔ تیرے اور روزے کی شفاعت اللہ کے یہاں قبول ہے ۔ اللہ مجھے توفیق دے کہ رمضان المبارک میں تیری رعایت کے ساتھ خوب خوب تلاوت کروں اور رات تراویح میں تجھکو سنوں کہ تو لحد میں میرے لیٸے نور کا سبب ہو اور قیامت کے روز میری نجات کے لیٸے شفاعت کا ذریعہ ہو ۔
اللہ مجھے اور آپ کو اخلاص اور علم نافع کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین یارب العلمین
دعا کا طالب
شبیر ندوی
سرپرست نداٸے حق ویلفیٸر سوساٸٹی پتھراہا ارریہ بہار
6394004292

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close