مذہبی مضامین

وضو کے فرائض اور اس کی اہمیت! محمد عباس دھالیوال

محمد عباس دھالیوال ،
مالیر کوٹلہ ،پنجاب .
 رابطہ 9855259650
اس سے قبل کہ ہم وضو کے فرائض یا اراکین پہ گفتگو کریں آئیے پہلے قرآن و حدیث کی روشنی وضو کی اہمیت اور مقام و مرتبہ کے تعلق سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں.
قرآن کریم میں رب العزت فرماتے ہیں. یقینا ًاللہ کثرت سے توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں سے (بھی) محبت کرتا ہے۔
وضو کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ عمل انسان کو رب العزت کا محبوب بنادیتا ہے اور وضوجہاں گناہوں کے مٹانے کا سبب بنتا ہے وہیں وضو درجات میں بلندی کا سبب بھی ہے جیسا کہ نبی کریم (ص) کے فرمان کا مفہوم ہے کہ کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ تعالی خطاؤں کو مٹاتا ہے اور درجات بڑھاتا ہے.
حضرت عثمان بن عفان ؓ کے بیان کا مفہوم کہ رسول کریم (ص) نے فرمایا۔ جو شخص نماز کے لئے پورا وضو کرے، پھر فرض نماز کے لئے(مسجد کو ) چلے اور لوگوں کے ساتھ یا باجماعت یا مسجد میں نماز پڑھے، تو رب العالمین اس کے گناہ بخش دے گا۔
ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق عثمان( رض) كے غلام حمران بيان كرتے ہيں كہ عثمان( رض) نے وضوء كا پانى منگوايا اور اپنے ہاتھ تين بار دھوئے پھر كلى كى اور ناک ميں پانى ڈالا اور پھر اپنا چہرہ تين بار دھويا، پھر اپنا داياں ہاتھ كہنى تک تين بار دھويا اور پھر باياں ہاتھ بھى اسى طرح، پھر سر كا مسح كيا اور پھر اپنا داياں پاؤں ٹخنے تک تين بار دھويا، پھر باياں بھى اسى طرح دھويا اور فرمانے لگے کہ ميں نے رسول كريم( ص) كو اسى طرح وضو كرتے ہوئے ديكھا جس طرح ميں نے يہ وضو كيا ہے، پھر نبی كريم (ص) نے فرمايا کہ جس نے ميرے اس وضوء كى طرح وضوء كيا پھر اٹھ كر دو ركعت ادا كيں جن ميں وہ اپنے آپ سے باتيں نہ كرے تو اس كے پچھلے سارے گناہ معاف كر ديے جاتے ہيں.
ایک دیگر حدیث کے مفہوم کے مطابق وضو جنت میں لے جانے کا سبب بنے گا جیسا کہ حضرت عمر بن الخطابؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (ص) کا فرمان ہے کہ جو اچھی طرح وضو کرے، پھر یوں کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اے اللہ مجھے کثرت سے توبہ کرنے والوں اور طہارت حاصل کرنے والوں میں سے بنا دے، تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔
دراصل کی تعریف ہم یوں کر سکتے ہیں کہ وضو صفائی کے ایک ایسے عمل کا نام ہے جو مسلمانوں پر نماز ادا کرنے سے قبل واجب ہے۔ اس میں پانی کی مدد سے منہ ہاتھ دھوئے جاتے ہیں اور مسح کیا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد جسمانی و روحانی پاکیزگی حاصل کرنا ہے۔ چنانچہ وضو کے ضمن میں رب العالمین کا فرمان ہے کہ اے ايمان والو جب تم نماز كے ليے كھڑے ہوؤ تو اپنے چہرے اور كہنيوں تك ہاتھ دھو ليا كرو اور اپنے سروں كا مسح كرو اور دونوں پاؤں ٹخنوں تك دھويا كرو اور اگر تم جنابت كى حالت ميں ہو تو پھر طہارت كرو اور اگر تم مريض ہو يا سفر ميں يا تم ميں سے كوئى ايك پاخانہ كرے يا پھر بيوى سے جماع كرے اور تمہيں پانى نہ ملے تو پاكيزہ مٹى سے تيمم كرو اور اس سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح كرلو، اللہ تعالى تم پر كوئى تنگى نہيں كرنا چاہتا، ليكن تمہيں پاك كرنا چاہتا ہے اور تم پر اپنى نعمتيں مكمل كرنى چاہتا ہے، تا كہ تم شكر كرو .
وضو کے چھ فرائض یا اراکین میں سے پہلا چہرہ دھونا، منہ اور ناک اس میں شامل ہیں۔ دوسرے کہنیوں تک ہاتھ دھونا۔ تیسرے سر کا مسح کرنا۔ چوتھے ٹخنوں تک پاؤں دھونا۔ پانچویں وضو کے اعضا دھوتے ہوئے ترتیب قائم رکھنا. چھٹے وضو کے لیے تسلسل کے ساتھ اعضا دھونا، یعنی مطلب یہ ہے کہ اعضا کو دھوتے ہوئے درمیان میں لمبا فاصلہ نہ آئے۔
 وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنے کو امام احمد رحمہ اللہ واجب کہتے ہیں۔ جبکہ اس ضمن میں جمہور علمائے کرام اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ بسم اللہ پڑھنا وضو کی سنتوں میں شامل ہے واجبات میں نہیں. چنانچہ درج ذیل عوامل وضو کی سنتوں میں شامل ہیں.
اول: مسواک کرنا، اس کی جگہ کلی کے وقت ہے تا کہ مسواک اور کلی دونوں کے ذریعے عبادت کے لیے منہ صاف ہو جائے اور قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ اللہ تعالی کے سامنے مناجات پیش کرنے کی تیاری ہو سکے۔
دوئم: وضو کی ابتدا میں چہرہ دھونے سے قبل دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھونا ؛ کیونکہ یہ حدیث میں آیا ہے، نیز دونوں ہاتھ وضو کے دیگر اعضا تک پانی پہنچانے کا ذریعہ ہے تو ابتدا میں انہیں دھونے سے پورے وضو کی بہتری ہے۔
سوئم: چہرہ دھونے سے قبل کلی کریں اور ناک میں پانی ڈال کا جھاڑیں ؛ کیونکہ حدیث میں یہ دونوں کام چہرہ دھونے سے پہلے ہیں، اگر روزہ نہ ہو تو ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا چاہیے۔
کلی میں مبالغہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ : پورے منہ میں اچھی طرح پانی گھمائیں، ناک میں پانی چڑھانے کے لیے مبالغہ یہ ہے کہ ناک کے اندر تک پانی لے جائیں۔
چہارم :گھنی داڑھی میں پانی سے خلال کریں یہاں تک کہ پانی اندر تک پہنچ جائے، پھر ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا بھی خلال کریں۔
پانچویں: بائیں ہاتھ پاؤں سے قبل دائیں ہاتھ پاؤں کو دھوئیں ۔
ششم :چہرہ، ہاتھ اور پاؤں ایک سے زیادہ بار دھوئیں اور تین بار تک دھوئیں.
ایک دوسرا طريقہ جو نبی کریم (ص) کی سنت میں مستحب ہے انکی تفصیل درج ذیل ہے.
1. انسان طہارت كرنے اور ناپاكى دور كرنے كى نيت كرے اور يہ نيت زبان سے ادا نہيں ہو گى، كيونكہ نيت كى جگہ دل ہے اور يہ دل سے ہوتى اور اسى طرح باقى سب عبادات ميں بھى نيت دل سے ہوگى.
2 – پھر بسم اللہ پڑھے۔3 – تين بار دونوں ہاتھ دھوئے۔
4 – پھر تين بار كلى كرے ( كلى يہ ہے كہ مونہہ ميں پانى ڈال كر گھمائے) اور تين بار ناك ميں پانى ڈال كر بائيں ہاتھ سے ناك جھاڑے۔5 – اپنا چہرہ تين بار دھوئے، لمبائى ميں چہرہ كى حد سر كے بالوں سے ليكر تھوڑى كے نيچے تك اور چوڑائى ميں دائيں كان سے بائيں كان تك ہے، مرد كى داڑھى اگر گھنى ہو تو وہ داڑھى كو اوپر سے دھوئے اور اندر كا خلال كرے اور اگر كم ہو تو سارى داڑھى دھوئے۔6 – پھر اپنے دونوں ہاتھ كہنيوں تك تين بار دھوئے، ہاتھوں كى حد انگليوں كے ناخنوں سے ليكر بازو كے شروع تك ہے، اگر دھونے سے قبل ہاتھ ميں آٹا يا مٹى يا رنگ وغيرہ لگا ہو تو اسے اتارنا ضرورى ہے، تا كہ پانى جلد تك پہنچ جائے۔7 – اس كے بعد نئے پانى كے ساتھ سر اور كانوں كا ايك بار مسح كرے ہاتھوں كے بچے ہوئے پانى سے نہيں، سر كے مسح كا طريقہ يہ ہے كہ اپنے دونوں ہاتھ پيشانى كے شروع ميں ركھے اور انہيں گدى تك پھيرے اور پھر وہاں سے واپس پيشانى تك لائے جہاں سے شروع كيا تھا، پھر دونوں انگشت شہادت كانوں كے سوراخوں ميں ڈال كر اندر كى طرف اور اپنے انگوٹھوں سے كانوں كے باہر كى طرف مسح كرے۔
عورت اپنے سر كا مسح اس طرح كرے كہ وہ پیشانى سے ليكر گردن تك لٹكے ہوئے بالوں پر مسح كرے، اس كے ليے كمر پر لٹكے ہوئے بالوں پر مسح كرنا ضرورى نہيں۔
8 – پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تك تين بار دھوئے، ٹخنے پنڈلى كے آخر ميں باہر نكلى ہوئى ہڈى كو كہتے ہيں۔
وضوء كى شرائط میں درج ذیل امور شامل ہیں جیسا کہ
كافر كا وضوء صحيح نہيں ہوگا۔اسی طرح پاگل اور مجنون كا وضوء صحيح نہيں۔ ایسے ہی چھوٹے بچے اور جو تميز نہ كر سكے اس كا وضوء صحيح نہيں۔
اس کے علاوہ بغير نيت وضوء صحيح نہيں، مثلا كوئى شخص ٹھنڈک حاصل كرنے كے ليے وضو كرے تو اس كا وضوء صحيح نہيں۔ اسی طرح ضوء كرنے كے ليے پانى طاہر ہونا بھى شرط ہے، كيونكہ اگر پانى نجس ہو تو اس سے وضو صحيح نہيں۔ایسے ہی اگر جلد يا ناخن پر كوئى چيز لگى ہو جس سے پانى نيچے نہ پہنچے تو اسے اتارنا بھى شرط ہے، مثلاً عورتوں كى نيل پالش وغيرہ۔
محمد عباس دھالیوال ،
مالیر کوٹلہ ،پنجاب .
 رابطہ 9855259650

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close