مدھیہ پردیش

ایم پی :نجی تعلیمی اداروں کا الٹی میٹم : نجی اسکولس5دن میں کھولے جائیں ، بصورت دیگر سی ایم رہائش گاہ کا گھیراؤ

بھوپال،۹؍دسمبر ( آئی این ایس انڈیا ) ایم پی سرکار کے 31 مارچ تک تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے فیصلے کے خلاف نجی تعلیمی اداروں نے ایک محاذ کھول دیا ہے۔انہوں نے حکومت کو 5 دن کا وقت دیا ہے۔کورونابحران کے باعث مدھیہ پردیش میں نجی تعلیمی اداروں نے حکومتی فیصلہ کے خلاف خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ نجی نرسری اسکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک کی انتظامیہ نے انتباہ دیا ہے کہ اگر حکومت تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ نہیں کرتی ہے تو 14 دسمبر کو بھوپال میں وزیر اعلی کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے سے وابستہ 30 لاکھ کنبوں کا سوال ہے۔ جب مال ، مندر ، پکنک ا سپاٹ ، بازار ، دکانیں اور سینما گھر سب کھل رہے ہیں تو پھر اسکول میں کورونا کا خوف کیوں ہے؟ حکومت کو اپنا ارادہ واضح کرنا چاہئے ، کیونکہ مبینہ طور پر 30لاکھ کنبوں کے ساتھ ساتھ صوبہ کے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ خیال رہے کہ ریاست میں 74 ہزار سے زیادہ پرائیویٹ اسکول ہیں۔تاہم ان تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کا الزام ہے کہ حکومت آن لائن تعلیم کی’’ صنعت ‘‘کو فروغ دینے کے لئے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ اگر حکومت پھر بھی مطالبات تسلیم نہیں کرتی ہے تو 15 دسمبر کو ریاست کے نجی تعلیمی ادارے آن لائن کلاس بند کردیں گے۔ یہ انتباہ بدھ کے روز بھوپال میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران ، ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ اسکول ، سوسائٹی فار پرائیویٹ اسکول کے علاوہ کئی نجی اداروں نے کی مشترکہ کمیٹی نے دیا ہے۔اداروں کی انتظامیہ کے ارکان کا الزام ہے کہ حکومت نے من مانی کرر ہی ہے ، بچوں کے مستقبل کا خیال نہیں رکھا جارہا ہے ۔ ان اداروں کے ارکان کے مطابق تقریباً 30 لاکھ خاندانوں کے سامنے معاش کا سنگین بحران دم سادھے کھڑا ہے،کیونکہ اب نجی تعلیمی ادارے کسی کو تنخواہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close