مدھیہ پردیش

مدھیہ پردیش : کھرگون تشدد میں پہلی موت درج، 10 اپریل سے لاپتہ 30 سالہ شخص کی لاش اسپتال سے برآمد

بھوپال،18؍اپریل (ہندوستان اردو ٹائمز) اب مدھیہ پردیش کے کھرگون میں رام نومی کے دن ہوئے تشدد میں ایک شخص کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ اندور کے ایم وائی اسپتال میں 30 سالہ ابریس خان کی لاش کی شناخت کر لی گئی ہے۔

رام نومی کے جلوس کے تشدد کے بعد اس کے گھر والے اسے ڈھونڈ رہے تھے۔ مقامی پولیس کے مطابق خان کو 10-11 اپریل کی نصف شب 7-8 نامعلوم افراد نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ لاپتہ ہونے کے 4 دن بعد 14 اپریل کی نصف شب قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ان کی لاش اندور کے ایم وائی اسپتال کے فریزر میں رکھی گئی۔ اس کے رشتہ داروں نے جو گزشتہ 10 دنوں سے ڈھونڈ رہے تھے، اتوار کی نصف شب لاش کی شناخت ابریس خان کے طور پر کی۔ لاش کو اب لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔متوفی ابریس خان کھرگون میں میونسپل ملازم تھے۔ ان کے پسماندگان میں بیوی اور ایک بچہ ہے۔

مقتول کے بھائی اخلاق نے الزام لگایا ہے کہ اس کے بھائی کو پولیس اور مقامی لوگوں نے مارا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ابریس خان کو آخری بار 10 اپریل کی شام کو کھرگون پولیس اسٹیشن میں پولیس کی حراست میں دیکھا گیا تھا۔ اخلاق نے سوال کیا ہے کہ پولیس کو قتل کی اطلاع دینے اور لاش کی شناخت میں ایک ہفتہ کیوں لگا؟واضح رہے کہ کھرگون تشدد کو لے کر پولیس کی کارکردگی پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ جس شخص کو پولس نے ملزم بنایا تھا وہ اس دن اسپتال میں داخل تھا جبکہ دوسرا کرناٹک میں تھا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button