مدھوبنی

قاضی بہیڑہ گاوں میں جنگلی درخت سے پراسرار طور پر پانی کی بارش ، عقیدتمندوں کی امڈی بھیڑ

دربھنگہ (ممتازاحمدحذیفہ) .پوجا ارچنا شروع،سوشل ڈسٹینسگ اور نظم و نسق بحال رکھنے کے لئے پولیس عملے تعینات.مقامی بلاک کے قاضی بہیڑہ پنچایت میں واقع دھماد ٹول پر ایک جنگلی درخت سے پر اسرار طور پر اتوار کی شام سے ہی بارش ہو رہی ہے جس کو لیکر گردو نواح میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ واقعہ کو جہاں علاقہ کے بیشتر لوگ معجزہ الہی بتا رہے ہیں وہیں تعلیم یافتہ افراد اسے سائنسی تناظر میں درخت کا ایک جسمانی مرض بتا رہے ہیں۔ واضح رہیکہ اتوار کی شام اس راستے سے کچھ لوگ گزر رہے تھے کہ تبھی ان کی نظر درخت پر گئی جہاں سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھی۔ جیسے ہی درخت سے پانی ٹپکنے کی خبر عام ہوئی بڑی تعداد میں وہاں لوگوں کی بھیڑ امڈ پڑی اور ہندو عقیدے کے مطابق اسے دیویہ چمتکار مان کر آنا فانا میں وہاں پیسے ڈال کر اور اگربتی جلا کر پوجا ارچنا شروع کردی گئی ۔بعد میں باغیچہ مالک دھماد گاوں کے رام بہادر یادو نے وہاں بانس سے گھیرا بندی کروادی اور عقیدت مند دور سے ہی اس کا درشن کرنے لگے۔اس کے مطابق یہ جنگلی درخت 10 سال پرانا ہے اس سے قبل اس طرح کا پراسرار معاملہ کبھی سامنے نہیں آیا تھا ۔2 دن سے پانی کا ٹپکنا جاری ہے اور اس میں شدت آتی جا رہی ہے ۔درخت کے نیچے کی زمین اس طرح گیلی ہوچکی ہے کہ تیز بارش ہوئی ہو۔ اس دوران کورونا جیسی وبا کو لیکر جاری لاک ڈاؤن اور سوشل ڈسٹینسنگ کا لوگ جم کر دھجیاں بھی اڑا رہے ہیں۔مقامی مکھیا مہیش ساہ نے کہا کہ حال کے دنوں میں کئی باہری مزدور اپنے اپنے گاوں پہنچے ہیں انہیں ڈر ہے کہ جس رفتار میں لوگوں کی بھیڑ یہاں امڈ رہی ہے اگر کوئی کورونا پازیٹیو یہاں پہنچ گیا تو حالات بگر جائیں گے۔انہوں نے مقامی تھانہ انچارج دلیپ کمار پاٹھک کو فون کر بھیڑ کو قابو میں کرنے اور سوشل ڈسٹینسگ بنائے رکھنے کے لئے پولیس عملوں کی تعیناتی کی مانگ کی تو وہاں 2 ہوم گارڈ کے جوان رام نرجن یادو اور رام پرساد یادو کی تعیناتی کردی گئی تاکہ بھیڑ بھار کم ہو اور جسمانی فاصلے کو برقرار رکھا جاسکے۔اس پراسرار معاملے پر گاوں کے ہی سابق ضلع پریشد رکن حبیب اللہ ہاشمی نے کہا کہ یہ جل دھر کا درخت ہے اسے کٹھ بیلی بھی کہا جاتا ہے۔اس سے پانی کا ٹپکنا دراصل مانسون سے قبل ہوئی تیز بارش اور پھر تیز دھوپ کے سبب درخت کے پسیجنے کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہی درخت نہیں ہے بلکہ درجنوں درخت سے پانی ٹپک رہے ہیں جس کی جانچ بھی ضروری ہے آیا یہ لاک ڈاون کے بعد کم ہوتی آلودگی کے سبب پیش آیا ہے یا پھر کوئی اور حیاتاتی تبدیلی ہے۔جبکہ واقعہ سے متعلق پوچھے جانے پر مقامی زراعتی سائنسی مرکز کے پودا تحفظ و کیڑے کے سائنسداں ڈاکٹر رام پرویش پرساد نے بتایا کہ پودوں میں زائلم اور فلوئیم دو عناصر پائے جاتے ہیں۔جس میں زائلم نامی عنصر کا تعلق پانی اور معدنی عناصر سے ہے جو وسا یعنی فیٹس اور اسٹارچ کو جمع کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پودوں کی جڑوں سے پانی اور معدنی عناصر کو اوپری حصے تک پہونچانے کام کرتا ہے۔ وہی فلوئیم پودوں کے مختلف حصوں میں پتیوں سے فوٹوسنتھیسس کے بعد تیار گلوکوج کو پودوں کے مختلف حصوں میں منتقل کرتا ہے۔ پودوں میں زائلم کے ذریعہ منفی توانائی کی وجہ سے دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ اس وجہ کر اسٹومیٹا نہیں کھل پاتا ہے نتیجتاً پود اپنے پتیوں اور تنے سے پانی نکالنے لگتا ہے۔اس طرح پودوں کے تنے اور پتیوں سے پانی کا نکلنا درخت کے اندر ایک جسمانی مرض ہے جس میں غذائی اجزاء بھی اہم رول ادا کرتا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close