مدھوبنی

مدھوبنی : ایک اور شاہین باغ کا آٹھواں دن

کھجولی،مدھوبنی (منت اللہ رحمانی) آج 11/ فروری سنہ 2020ء بروزمنگل، کھجولی بلاک کے پھلچنیا چوک پر ہورہے دھرنے کا آٹھواں دن تھا، جو نہایت تزک و احتشام کے ساتھ اپنے سابقہ دنوں کی طرح کامیاب رہا، پردرشن میں شریک مسلم و ہندو سبھی طرح کے لوگ شامل رہے، لوگوں کی کثرت اور خاص کر خواتین کی جم غفیر، اوران کے درمیان احتجاجی مظاہرے کا سما ایک انوکھا انداز اپنائے ہوا تھا، لوگوں کا جوش و خروش اور پرامن طور پر مظاہرہ، پہلے دن سے اور دوسرے شاہین باغوں سے کسی طرح کم نہ رہا،
لوگ عمر کا لحاظ کیے بغیر، زندگی کی آخری پراؤ پربھی آ کر اس ملک ہندوستان کی سالمیت اور اس کے دستور و قوانین کی حفاظت کی انتھک کوشش کر رہے ہیں، ٹھنڈ کی ٹھٹھرتی ہوئی شام اور نہایت سرد رات میں بھی اپنے گھروں اور نرم بستروں کو چھوڑ کر پردرشن استھل میں آکر موجودہ حکومت کی طرف سے لائے گئے اس کالے بل کی مخالفت میں احتجاج و مظاہرہ کر رہے ہیں، کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ اگر دستور ہند ہے، تو ہندوستان ہے اور آپس میں یکجہتی و یگانگت اور گنگا جمنا تہذیب برقرار ہے، اگر امبیڈکر والا قانون اور لاء نہیں بچا تو اس ملک کی سالمیت اور اکھنڈتا خطرے میں ہے اور اس کی بقا کے لیے ایک سچا ہندوستان باشی اپنا سب کچھ قربان کر سکتا ہے۔
اسی جذبہ کا اظہار یہاں کی عوام نے بھی پھلچنیا چوک پرہورہے غیرمعینہ دھرنے میں کیا۔
منچ پر موجود سماجی و سیاسی، مسلم و غیر مسلم دانشورانِ عظام نے CAA,NPR,NRC. کی حقیقت اور اس کے پیچھے چھپے حکومت کے خطرناک منشاء کو وا کردیا، بالخصوص جناب مفتی محمد افضل امام صاحب قاسمی نے NRC کی ابتداء، صوبہ آسام میں اس کے نفاذ اور اس کے بعد کی کیفیت سے آگاہ کیا، انہوں نےCAAاور NPR پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اس کے مضر اور نقصان دہ ہونے کو بتلایا، مزید انہوں نے کہا کہ NRC میں نام نہ آنے والے غیر مسلموں کو CAA کے ذریعہ حکومت ہند کس سنہ سے شہریت دے گئی اور اس سے پہلے کی پروپرٹی، جائیداد اور غیر منقولہ ملکیت کا کیا بنے گا، اس تعلق سے عام جنتا کو اور خاص کر ان لوگوں کو توجہ دینی چاہیے جو اس بل کو ابھی تک نہیں سمجھ پائے ہیں۔
منچ پر اپستھت شری متھلیش کمار یادو اور منا سرہان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، وہی چھوٹے چھوٹے بچے اور طلبہ و طالبات نے قومی ترانے گائے اور انقلاب و آزادی اور زندہ باد کے نعرے لگائے۔
آج کے سب سے اہم گیسٹ اور معزز مہمان جناب پپو یادو جی، چیف جن ادھیکار پارٹی اس دھرنا پردرشن میں پدھارے، اسٹیج سنبھالتے ہی دیش کے اہم اہم مدعے کو رکھا، اور اس سلسلے میں حکومت کی ناکامی کو اجاگر کیا، انھوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت کے ستہ میں آنے کے بعد تقریباً 41000/ کمپنیاں بند ہوئیں، چار لاکھ کے قریب نوجوان بےروزگار ہوئے، روپیے کی قیمت اور کرنسی حد سے زیادہ گرگئی، دنگائیوں اور فسادیوں کو بڑھاوا ملا، اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں گولیاں چلیں، پولیس بے مہابہ ہوکر ظلم و بربریت کا کھیل کھیل رہی ہے اور حکومت ہندو مسلم میں تفرقہ ڈال کر سیاسی روٹیاں سینک رہی ہے، لیکن اب حکومت کو ہوش کے ناخن لینا ہوگا ورنہ عوام ابھی دہلی سے باہر کیا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اس ملک سے بھی باہر کرے گا۔
منچ پر موجود حضرات میں حضرت مولانا محمد یاسین صاحب رحمانی، جناب قاری ارشاد احمد صاحب بسہاوی، سابق مکھیاں جناب ڈاکٹر عتیق الرحمن صاحب اور جناب غلام ربانی صاحب کے علاوہ اور بھی کئی مشہور ہستیاں تھیں۔

نقابت کی ذمہ داری ادا کر رہے جناب مولانا شاہد اکرم صاحب رامکھتاری نے خوب اچھی طرح اپنی ذمہ داری نبھائی، موقع بہ موقع اشعار کی پیوندکاری اور جملہ سنجیوں کے ذریعے ان کی اداکاری سامعین کو بہت بھائے، آخر میں انہوں نے اس دھرنہ کے ذمہ دار جناب الحاج ماسٹر عبدالمجید صاحب، ماسٹر فیروز احمد صاحب اور حاجی نورالہدیٰ صاحب کے ساتھ، سبھوں کا شکریہ ادا کیا اور یہ نشست تقریبا چھ بجے شام اختتام پذیر ہوکر آئندہ کل پر ٹالال دی گئی۔

رپورٹنگ:- محمد افضل امام قاسمی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close