مدھوبنی

مسلم بیداری کارواں کے صدر نظرعالم پر کیا گیا فرضی مقدمہ واپس لے نتیش کمار کی پولیس

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر زہر اگلنے والے پر کوئی اب تک کارروائی نہیں کیا جانا بیحد افسوس ناک

مدھوبنی (پریس ریلیز) اگر نتیش کمار واقعی مسلمانوں کے سچے ہمدرد ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہر اگلنے والے گستاخ نرسنگہا نند کی گرفتار کروانے کے لئے مرکزی سرکار پر زور کیوں نہیں دیتے؟
الٹے وہ مسلم بیداری کارواں کے صدر جناب نظرعالم صاحب جو اس وقت ملک ہندوستان میں مسلمانوں کی مضبوط آواز ہیں پر فرضی مقدمہ کر گرفتاری کیلئے ان پر پولیس دبش بنارہی ہے جو سراسر غلط ہے۔ ہمارا جمہوری حق ہے کہ ہم سرکار کی غلط نیتیوں کے خلاف بولیں مگر حد تو یہ ہے کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی زہر افشانی کرے اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں یہ ممکن کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم مذہبی تنظیموں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اس سمت میں اپنے اندر کے خوف کو نکالیں اور عاشقان رسول پر فرضی مقدمہ اور گرفتاری کے خلاف اپنی آواز بلند کرے ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی اور کل ہماری نسلیں ہمیں یہ طعنہ بھی دیگی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئی زہر اگل رہا تھا اور تم خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے مزید یہ کہ کوئی عاشقان رسول آواز بھی بلند کررہا تھا تو اس کے آواز کو حکومت دبوچنے کی کوشش کررہی تھی اور تم اسکی حمایت میں بولنے پر بھی راضی نہیں تھے جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ جب تک اپنے جان ومال، آل اولاد سے بڑھ کر نبی سے محبت نہیں ہوگی اس وقت تک کامل مومن کوئی ہو نہیں سکتا۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی خود کو بڑی ملی، فلاحی، رفاہی اور مذہبی تنظیمیں بتانے والی تنظیمیں مسلمانوں کی مضبوط آواز نظرعالم پر کئے گئے مقدمے اور چھاپہ ماری کے خلاف خاموش تماشائی بنے ہیں اور خاص طور سے مسلمانوں کی امداد سے اربوں کی پراپرٹی کا مالک بنے مولوی بھی خاموش ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ پر دباؤ دینا تو دور ایک بیان تک دینے سے بھاگتے نظر آرہے ہیں جبکہ نظرعالم، صدر آل انڈیا مسلم بیداری کارواں اس شخصیت کا نام ہے جو سب سے پہلے وسیم رضوی جیسا ملعون جس نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو آتنک وادی تنظیم بتایا تھا تو سب سے پہلا مقدمہ نظرعالم نے ہی کیا تھا۔ یاد رکھیے اگر آج ہم اس ملت کے مردمجاہد کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے تو پھر کوئی آواز آپ کے بیچ سے نہیں ابھر سکے گی۔ اس لئے تمام ملی، فلاحی، رفاہی اور مذہبی تنظیموں کے ذمہ داروں کے ساتھ ساتھ سماجی کارکنوں سے اپیل ہے کہ وہ نظرعالم کی حمایت میں مضبوطی سے اتحاد کے ساتھ آواز بلند کریں تاکہ حکومت وقت نہ صرف فرضی مقدمہ واپس لے بلکہ پولیسیا چھاپہ ماری پر بھی فوراً روک لگائے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close