مدھوبنی

بیٹی کو خود کشی کرنے پر کس نے مجبور کردیا

مدھوبنی/3مارچ(منت اللہ رحمانی)ہم جس معاشرے میں زندگی بسر کرتے ہیں دینی مدارس میں بچوں کو تعلیم دینے کے بجائے دنیاکی تعلیم دلواتے ہیں ہم اپنے بچوں کو مکاتب نہیں بھیج کر انگلش اسکول بھیجتے ہیں ہر انسان کی دلی خواہش ہوتی ہیں کہ میرا بیٹا بیٹی ڈاکٹر ، ماسٹر ، انجینئر اور نہ جانے کیا کیا بنے، میں دورحاضر کی بات کرتا ہوں آج جب ہم معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے ایک گاؤں میں پانچ دس انگلش اسکول موجود ہیں جگہ جگہ انگلش ٹیوشن سنٹر کھلا ہوا ہے اور جب ہم کسی آدمی سے سوال کرتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں ایک مولوی پر دو دو سو طلبہ/ طالبات کس طرح سے سارے بچوں سبق دیں گے دو سال ہوگئے قاعدہ بغدادی بھی ختم نہیں کیا ہے، الحمدللہ دو ماہ ہوئے ہیں اور گڈ انگلش بک آدھی ختم کرلیا ہے ماشاءاللہ حساب بھی بنانے لگا ہے وقت پر ٹیوشن چلاجاتاہے میں بہت خوش ہوں میں نے کہا بات مکمل ہوگئی،
سن کر بہت خوشی ہوئی ،اب آپ مجھے چند باتوں کا درست جواب دیجئے، آپ نمازپڑھتے ہیں کیوں نہیں جناب نماز جمعہ اور عیدین پابندی سے پڑھتا ہوں ہمارے بچے بھی جمعہ اور عیدین پابندی سے پڑھتا ہے ،
اللہ نے ایمان والوں کو پانچ وقتوں کی نماز فرض کیا ہے
جب ہم توحید اقرار کرلیتے ہیں تو اللہ کا حکم اور رسول ﷺ کی طریقہ پر زندگی گزارنا فرض ہوجاتا ہے سال کے ٣٦۵/٣٦٦دن ہوتے ہیں دن رات میں صرف پانچ وقت
اللہ کی عبادت کرنی ہیں ایمانداری سے بتائے کہ کیا ہم اور ہمارے معاشرے کے مومن مردوعورت اللہ کی حکم پر عمل کرتے ہیں تو جواب نفی ہوگا میرے ایمان والے بھائیوں آپ پہلے اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلائیں اور ساتھ میں دنیا کی بھی ،آپ کے اندر دین ہوگا تو آپ کے گھر کے اندر خودبخود دینی ماحول پیدا ہوجائے گا آپ نماز پڑھیں گے تو آپ کے دیکھا دیکھی آپ کے بچے بھی نماز پڑھنے لگے لگا ،موت برحق ہیں ایک نہ ایک دن اس دارفانی سے سبھوں رحلت کرجاناہے تو کیوں نہ ہم مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرلیں ،اب میں اپنے موضوع کے تعلق سے چند باتیں بتانے کی کوشش کر رہاہوں بیٹی کو خود کشی کرنے پر کس نے مجبور کردیا ،بچپن سے ہی دنیا کی تعلیم دلایا دین کی تعلیم سے دور رکھا حرام حلال کسے کہتے ہیں اس کو پتہ نہیں کیوں کہ دنیا کی تعلیم حاصل کیا ہے اور جب بڑی ہوگئی تو مالدار گھرانے میں اسکی شادی کردیا ، آپ نے دیکھا کہ لڑکا رئیس گھر کا ہے روپیہ پیسے والا ہے ہماری بیٹی خوش رہیگی لیکن آپ کو پتہ ہونا چاہئے جس کے پاس مال زیادہ ہوتاہے وہ اور زیادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ انسان سے حیوان بن جاتاہے میں تو کہوں گا کہ بیٹی کی خودکشی کا ذمےدار غلط پرورش ہے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close