مدھوبنی

مدرسہ حدیثیہ، بیہہ نگر، مدھوبنی میں تعلیمی بیداری کانفرنس کا انعقاد

مدھوبنی/دربھنگہ،14/فروری(ممتازاحمد حذیفہ)ہمارے معاشرے کی ترقی کی سب سے بڑی رکا وٹ ناخواندگی ہے۔ اس کو دور کئے بغیر ہمارے معاشرے کی ترقی ناممکن ہے۔ معاشرے میں تعلیم کے تئیں بیداری کولے کر وقت وقت پر امارت شرعیہ، مسلم بیداری کارواں گاؤں سے لیکر شہرمیں پروگرام کرتی رہتی ہے تاکہ مسلم سماج کو تعلیم کے تئیں بیدار کیا جاسکے۔ مذکورہ باتیں مدھوبنی ضلع کے پنڈول بلاک حلقہ کے بیہہ نگر واقع مدرسہ حدیثیہ میں منعقد تعلیمی بیداری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امارت شرعیہ پٹنہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمدشبلی قاسمی نے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے مذہب میں سب سے پہلے تعلیم کی ترغیب دی گئی ہے۔ تعلیم کی اہمیت و افادیت پوری طرح مسلم ہے۔ اس کے ذریعہ ہی اعلیٰ منصب تک رسائی اور کامرانی ممکن ہے اور یہی کسی بھی قوم و معاشرے کی کامیابی کا ضامن ہے۔ وہیں مہمان خصوصی آل انڈیا مسلم بیداری کے قومی صدرنظرعالم نے کہا کہ تعلیم کے بغیر مسلمانوں کی حالت میں سدھار ناممکن ہے۔ آج ہمارے معاشرے کے افراد اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے حکومت کو ہر معاملے میں موردالزام ٹھہراتے ہیں۔ حکومت تو آتی ہے جاتی ہے، ایم ایل اے، ایم پی، وزیر بنتے ہیں اور ہٹتے بھی ہیں، اگر ہم تعلیم کے تئیں بیدار ہوجائیں تو یقینا ہمارے مسلم سماج سے آئی۔ایس۔،آئی پی ایس بنکر ہمارے بچے نکلیں گے جس سے مسلمانوں کو مضبوطی ملے گی اور معاشرے میں تبدیلی بھی آئے ساتھ ہی حکومت ہمیں نظراندازبھی نہیں کرپائے گی۔مسٹرنظرعالم نے آگے کہا کہ ہم لوگ آج سے حلف لیں کہ اپنے معاشرے کو تعلیم یافتہ بنانے کے لئے بیدار ہوں گے اور اس کے لئے زمینی سطح پر کام کریں گے۔ اگر ہم معاشرے میں تعلیم کے فروغ کے تئیں بیدار ہوگئے تو وہ دِن دور نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بدلاؤ آئے گا اور ہمارا کھویا ہوا وقار بھی واپس لوٹے گا۔ نظرعالم نے یہ بھی کہا کہ ہراسٹیج سے آج کل کچھ علماء کرام امیروں کی قصیدہ خوانی تک محدود ہوچکے ہیں اس سے باہرنکلنے کی ضرورت ہے اور عوام کو دین کی تعلیم سے جوڑنے کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ جلسہ جلوس سے لوگوں نے اس قدر تقریر کے ذریعہ عصری تعلیم لازمی ہے لازمی ہے کو بڑھاوا دیا کہ آج لوگ دین کی تعلیم سے ہی دور ہوتے جارہے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ہمارے بچے غلط غلط چیزوں میں ملوث ہورہے ہیں اور ہماری بچیاں بے راہ روی کی شکار ہورہی ہیں، مذہب تبدیل کر غیرقوم کے لڑکوں کے ساتھ شادی رچا رہی ہیں۔ اس لئے ہمارے علماء کرام کی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دین کی تعلیم کو زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچائیں اور عوام کو دینی تعلیم سے جوڑیں۔ وہیں اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی ابوذرقاسمی نے کہا کہ آج ہماری قوم انتہائی مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جس مذہب میں سب سے پہلے تعلیم کی ترغیب دی گئی، اس کی اہمیت سمجھائی گئی ہم نے آج اسی سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔ اسی بے اعتنائی نے آج ہمیں پسماندگی اور کسمپرسی میں زندگی گزارنے کو مجبور کردیا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم تعلیم کی اہمیت و افادیت کو سمجھیں اور اس جانب راغب ہوں۔ وہیں جماعت اسلامی دربھنگہ و مدھوبنی ضلع کے ناظم ماسٹرمحمدنذیر نے بھی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کواتحاد کے ساتھ سماج کی مضبوطی کے لئے کام کرنے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں بڑے بڑے تعلیمی ادارے موجود ہیں اس کے باوجود ہمیں تعلیمی بیداری کانفرنس کرنے کی نوبت آگئی ہے اس سے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں۔ ہمارے بچوں کو جو تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے اس پر دھیان نہیں دے رہے ہیں۔ اگر ہم اسی حالت میں رہے تو یقینا مسلمانوں کی حالت میں کبھی سدھار نہیں آئے گی اس لئے ضروری ہے کہ ہم سبھی اپنی اپنی ذمہ داری کو بخوبی سمجھیں اور ایک خوشحال سماج اور مسلمانوں کو کیسے مضبوط کیا جائے اس کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم سے کیسے جوڑے رکھا جائے اس کے لئے زمین پر کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ وہیں دور درشن دہلی سے آئے مہمان شکیل احمد نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ تعلیم کے لئے معاشرے کے ہرفرد کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے تبھی جاکر مسلمان ترقی کے اس دور میں آگے بڑھ سکے گا۔کانفرنس میں اُردو صحافیوں کا شال اور ٹوپی سے استقبال کیا گیا۔ کانفرنس سے انجمن اتحاد ملت کے بانی محمدامان اللہ خان، مولانا سمیع اللہ ندوی، ضلع پریشد امیدوار مہتاب عالم صدیقی،مولانا آفتاب عالم قاسمی، پروفیسرحیدر علی، ڈاکٹر راحت علی(جنرل سکریٹری جمعیۃ الراعین)، ڈاکٹر دانش ندوی، مولانا آزاد ساحر قاسمی وغیرہم نے بھی خطاب کیا۔ جب کہ نظامت کے فرائض مولانا اسعدرشیدندوی نے انجام دیئے۔ پروگرام کا انعقاد مولانا عبدالرشید شمسی کی سرپرستی میں کیا گیا جب کہ پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے کنوینر ماسٹرمحمداشرف رشید پیش پیش رہے۔مولانا اعجاز قاسمی کی رقت آمیز دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر، محمدنورعین، محمدچاند، ابرار احمد، محمدعثمان، ماسٹرشبیراحمد، محمدمصطفےٰ، ماسٹرمرتضیٰ، حافظ ارشاد عمادی، ماسٹر مبین، حافظ صدرعالم، ماسٹربدرالزماں، مولانا فاروق قاسمی، اسجدرشید سمیت کثیرتعداد میں لوگ موجود تھے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close