مدھوبنی

اردو کے تحفظ کے لیے حکومت کے ساتھ اردو داں طبقہ کو بھی ایماندارانہ کوشش کرنی ہوگی :شبلی القاسمی

مدھوبنی/۳جنوری(منت اللہ رحمانی)
ہفتہ برائے ترغیب تعلیم و تحفظ اردو کے تحت مدرسہ فلاح المسلمين گوا پوکھر بھوارہ مدہوبنی میں خصوصی مشاورتی اجلاس کا انعقادکیاگیا،
علم انسان کی بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر نہ تو کوئی فرد کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے، اسلام نے علم کی اہمیت لوگوں کے دلوں میں بیٹھانے کی کامیاب کوشش کی ہے، جب اسلام کے عروج کا زمانہ تھا تب ہمارے مدرسوں میں جہاں قرآن و حدیث کی تعلیم ہوتی تھی وہیں علم طب، سائنس و ٹیکنالوجی جیسے علوم بھی پڑھائے جاتے تھے مگر جب سے ہم نے علم کی تقسیم کی اور علم کو مدرسے اور اسکول کی تعلیم میں بانٹ دیا تب سے ملت کا بڑا نقصان ہوا، المیہ یہ ہے کہ اگر ہمارا کوئی فرد ڈاکٹر ہے، انجینئر ہے، یا یا کسی اور شعبہ حیات میں ہے تو اس کا مطمحِ نظر صرف دنیا ہے ، انسانیت کی خدمت کا جذبہ مفقود ہے، وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دوسرے علوم تو حاصل کیے لیکن دین کی بنیادی تعلیم و تربیت سے وہ محروم رہ گئے، دوسری طرف جو لوگ علم دین کے حاملین ہیں اور دیگر علوم کو انہوں نے اہمیت نہیں دی تو آپس میں دوریاں پیدا ہوئیں۔
موجودہ زمانے میں علم کی اہمیت ہر کس و ناکس جانتا ہے، یہ مقابلہ اور کمپیٹیشن کا زمانہ ہے، ہمیں اپنے بچوں کو بنیادی دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے مکاتب کا جال بچھانا ہوگا، اسی طرح انہیں عصری تعلیم سے آراستہ کرکے ان شعبوں تک پہنچانا ہوگا جہاں پالیسیاں بنتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم جناب مولانا شبلی القاسمی صاحب نے مدرسہ فلاح المسلمين گواپوکھر بھوارہ مدہوبنی میں ہفتہ برائے ترغیب تعلیم و تحفظ اردو کے عنوان سے امارت شرعیہ کی ریاست گیر مہم کے تحت منعقد ہونے والے خصوصی مشاورتی اجلاس میں خواص کے ایک بڑے مجمع میں کہیں، انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ نے تعلیم کو عام کرنے کی کوشش اول دن سے کی ہے اور دینی تعلیم کے انتظام کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے انتظام کی بھی حتی الامکان کوشش کی ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مکاتیب کے نظام کو مستحکم کیاجائے اور عصری تعلیم کے مزید ادارے قائم کیے جائیں اور نئ نسل کے اخلاق و کردار کو درست کرنے کی فکر کی جائے، انہوں نے اُردو زبان کی ترویج و اشاعت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اردو کے ساتھ صرف حکومتی سطح پر ناانصافی نہیں ہوتی ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی ہوتی ہے جسے فوری دور کرنے کی ضرورت ہے، ہم دفاتر میں درخواست اردو میں دینے کا مزاج بنائیں، دستخط اردو زبان میں کریں سائن بورڈ انگریزی اور ہندی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی بنوائیں۔ اس موقع پر پروفیسر اشتیاق احمد صاحب، مفتی نوشاد صاحب چندر سین پور، ماسٹر عبدالاحد صاحب دملہ، ڈاکٹر عالم صاحب عشورہ۔مفتی مہتاب عالم شکری، مولانا اظہار الحق صاحب، مولانا مطیع الرحمن صاحب پرنسپل مدرسہ رحمانیہ یکہتہ کے علاوہ کئی ملی و سماجی کارکنان نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا، امارت شرعیہ کی اس تحریک کی ستائش کی اور اس تحریک کو وقت کی اہم ضرورت بتایا اور اس کو زمینی سطح پر اتارنے کے لیے مفید مشورے دیے۔ اس مشاورتی اجلاس میں درج ذیل اہم تجاویز منظور کی گئیں:
١:امارت شرعیہ کی تحریک برائے ”تعلیم و تحفظ اردو“ کو ضلع سے بلاک، پنچایت، گاؤں اور گھر تک پہنچانے کے لیے ہم منظم حکمت عملی تیار کریں گے، حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم کی اس آواز اور تحریک کو وقت کی اہم ضرورت تصور کرتے ہوئے اپنی اپنی جگہ پر اپنے حلقہ اثر میں آج کے بعد بلا تاخیر ہر سطح پر لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
٢:دینی مکاتب کا مضبوط نظام ہی ہمارے بچوں کو دین و ایمان کے ساتھ جوڑے رکھنے کا ذریعہ ہے۔ ہم ہر گاؤں اور آبادی میں مکاتب کا خود کفیل نظام قائم کرنے کے لیے آگے آئیں گے۔ مساجد کے ائمہ حضرات سے رابطہ کرکے اس کی فکر شروع کر دیں گے، کوشش کریں گے کہ مساجد سے الگ مکاتب کا قیام عمل میں آ جائے، بصورت دیگر مساجد میں ہی اس نظام کو شروع کر دیں گے، ہمارے معاشرہ کا کوئی بچہ اور بچی بنیادی ضروری تعلیم سے نا آشنا نہ رہ جائے آئے؛ اس کی بھرپور سعی کی جائے گی۔
٣:جدید عصری معیاری تعلیمی ادارے مضبوط اسکول نظام اور تقابلی امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے لیے سینٹرز کا قیام باعزت شہری زندہ اور نافع قوم کی حیثیت پانے کے لیے بہت ضروری ہے کے لئے عمل تیار کریں گے اس کے لیے علاقہ میں ان علوم کے ماہرین سے مشورہ کے بعد امکانات کا جائزہ لیں گے اور بلاک سے پنچایتی سطح تک ادارہ قائم کرنے کے لئے انتھک کوشش کریں گے اسباب و وسائل کی تلاش کریں گے اور ہر طرح کی قربانی پیش کرتے ہوئے فوری اقدامات کریں گے۔
٤:اردو زبان ہماری مادری زبان ہی نہیں بلکہ ہماری تہذیب و ثقافت کی علامت کے ساتھ ساتھ ہمارے دینی و ملی سرمایہ کا علمی محافظ بھی ہے، آہستہ آہستہ اس کی تازگی ختم کرنے کی منظم سازشی رچی جارہی ہے۔ اور دانستہ نا دانستہ ہم خود بھی اس عمل میں اغیار کے ساتھ برابر کے شریک رہے ہیں، ہم عہد کرتے ہیں کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے ہم خود آگے بڑھیں گے، اردو پڑھیں گے، لکھیں گے، اپنے بچوں اور بچیوں کو بھی پڑھائیں گے اور لکھائیں گے، معاشرہ میں اردو اخبارات اور لٹریچر پڑھنے کا ماحول بنائیں گے، اپنی درخواستیں اردو میں لکھیں گے اور بول چال میں بھی اردو الفاظ کا استعمال کریں گے۔
٥:اپنی آبادیوں میں چل رہے نجی اداروں میں اردو میں میں پلیٹ لگائیں گے، سرکاری دفتروں میں بلاک سے پنچایت تک اردو میں نیم پلیٹ لگائی جائیں اس کے لیے تحریک چلائیں گے، سرکاری سطح پر اردو کے ساتھ ہو رہی ناانصافیوں کے خلاف کے پوری طاقت کے ساتھ آواز اٹھائیں گے۔
٦:آج کے اس اجلاس میں جو کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ہم کمیٹی کا بھرپور تعاون کریں گے ہر قدم پر شانہ بشانہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے منظور شدہ تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جو اقدامات کیے جائیں گے ان کو زمین پر اتارنے کے لیے اپنے اثرورسوخ کا حتی الامکان استعمال کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ پروفیسر اشتیاق احمد پرسونوی ‌نے اس موقع سے امارت شرعیہ کے زیر اہتمام امارت اسکول کے قیام کے لیے ایک بیگھہ زمین وقف کی۔
مشاورتی اجلاس کی نظامت مفتی ابوذر صاحب قاسمی استاذ مدرسہ فلاح المسلمين نے کی اور مندوبین کی خدمت میں مفتی امدادللہ قاسمی نے کلمات تشکر پیش کیا۔ اس اجلاس میں مرکزی دفتر سے مولانا شمیم اکرم رحمانی معاون قاضی دارالقضاء امارت شرعیہ شریک ہوئے، ان کے علاوہ قاضی اعجاز قاسمی دملہ، قاضی رضوان قاسمی یکہتہ، مولانا یوسف‌ قاسمی، مولانا عبداللہ قاسمی صدر مدرسہ فلاح المسلمین، ماسٹر مرتضی سابق سکریٹری مدرسہ ہٰذا، مولانا عطاء اللہ صدر المدرسین مدرسہ فلاح المسلمین، مولانا صدیق، مولانا نجم الہدی ، مولانااظھارالحسن، مولانا سلطان ، مولانا مسیح کے علاوہ ضلع مدہوبنی کے تمام بلاک کے صدر، سکریٹری، نقیب اور نائب نقیب اور کارکنان امارت شرعیہ بڑی تعداد میں شریک ہوئے، اس موقع سے ایک ضلعی کمیٹی بھی بنائی گئی، جس کو تحریک کی تجاویز؛ ضلع کے تمام بلاکوں اور پنچایتوں میں مضبوطی کے ساتھ عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری دی گئی، پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے اساتذہ و انتظامیہ مدرسہ فلاح المسلمین گواپوکھر اور کارکنان امارت شرعیہ نے پوری توانائیاں صرف کیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close