دیوبند

مدرسہ کنزالعلوم ٹڈولی میں پروگرام کا انعقاد ، موجودہ حالات کے تناظر میں حضرات علماء و ارباب مدارس کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے

دیوبند، 8؍ جولائی (رضوان سلمانی) کنزالعلوم ٹڈولی میں پروگرام منعقد ہوا، جس میں مؤقر علماء کرام، طلبہ کے سرپرستان اور علاقہ کے ذمہ داران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت مدرسہ کے روح رواں نوجوان فاضل مولانا محمد عامر صاحب مظاہری جنرل سیکرٹری جمعیت علماء ضلع سہارنپور نے فرمائی، اور نظامت کے فرائض مفتی محمد پرویز ایوبی استاد مدرسہ ہذا نے انجام دیئے اور مہمان خصوصی کے طور پر حضرت مولانا مفتی محمد جاوید رانا صاحب مظاہری، استاد شعبہ تحفظ ختم نبوت جامعہ مظاہر علوم سہارنپور نے شرکت کی، پروگرام کا آغاز محمد نعمان کیرانوی سلمہ کی تلاوت اور محمد مقدس ابراہیمی سلمہ کی نعت پاک سے ہوا،

مہتمم صاحب نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، اور مدرسہ کی چالیس سالہ روشن تاریخ اور والد محترم نمونہ اسلاف حضرت مولانا محمد قیصر صاحب قدس سرہ بانی مدرسہ ہذا کی خدمات کا تذکرہ کیا نیز آئندہ کے عزائم و منصوبے بھی حاضرین کے سامنے پیش کیے۔ مجلس تعلیمی کی منظور کردہ تجاویزسے روشناس کراتے ہوئے موجودہ حالات کے تناظر میں فرمایا کہ آج کے ان مشکل حالات میں حضرات علماء و ارباب مدارس کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ ایسا نظام و نصابِ تعلیم ترتیب دیں، جسے پڑھنے والا حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے، اور سنگین حالات میں عوام الناس کی تسکین و تسلی کا سامان کر سکے۔ اسی کے پیش نظر آپ کا محبوب ادارہ کنزالعلوم ٹڈولی اول روز سے ہی طلبہ کی تعلیم و تربیت کی بہتری و ترقی کے کوشاں اور مسلسل حرکت میں ہے، اور مستقبل کی بہتری کے جذبے سے سرشار ہر ممکن کوشش میں مصروف ہے۔ اللہم زد فزد نیزمنظور شدہ تجاویز کی تفصیل بتاتے ہوئے کہاکہ مدرسہ میں داخل شدہ ہر طالب علم کی علوم عصریہ کے لیے حتی الامکان مکمل راہنمائی کی جائے، تاکہ وہ علومِ دینیہ کے ساتھ ساتھ مدرسہ میں رہ کر علوم عصریہ (دسیوں، بارہویں،بی اے، ایم اے) کر سکیں۔

الحمدللہ آج کنز العلوم میں قدیم صالح و جدید کے امتزاج کے ساتھ مختلف پہلوؤں پر غور کرکے ایک کامل نصاب تیار کیا جائے اور طلباء سے مناسب فیس لے کر علوم عصریہ سے متعلق ضرورت کے تمام چیزیں اسکول بیگ کتاب کاپی قلم کاغذ وغیرہ من جانب مدرسہ دستیاب کرائی جائیں تاکہ پورے سال پھر کوئی پریشانی نہ ہو۔ تکمیل حفظ کے بعد ان ہی طلبہ کی دستار بندی کی جائے جو بیک وقت کم از کم پانچ پاروں کا دور نکال چکے ہوں، ایک نشست میں مکمل قرآن سنانے والے طالب علم کو پانچ سے دس ہزار روپے مکمل نقد انعام سے نوازا جائے، فارسی و عربی اول تا ہفتم (مشکوٰۃ شریف) کی تعلیم دارالعلوم دیوبند کے بڑے اساتذہ کی نگرانی میں دارالعلوم ہی کے نصاب کے مطابق ایسی مضبوط و مستحکم ہو کہ ازہر ہند میں ہمارے طلبہ کا داخلہ آسان ہو جائے۔ ہر طالب علم کی ماہانہ جانچ ہو تاکہ کوتاہی کی تلافی اور محنت پر حوصلہ افزائی ہو اورممتاز طلبہ کو انعام سے نوازا جائے،درجات حفظ و ناظرہ کا اوسط نکال کر اول پوزیش حاصل کرنے والے استاذ کو ماہانہ جائزہ میں دو ہزار سے دس ہزار اور ششماہی و سالانہ میں دس ہزار سے پچیس ہزار روپے تک کے نقد انعام سے نوازا جائے۔

تجاویز پیش کیے جانے کے بعد دارالعلوم دیوبند سے بہ طور ممتحن تشریف لائے مولانا مصلح الدین اور مفتی محمد افضل اور دیگر حضرات کے مقرر کردہ نمبرات کے نتائج کے مطابق اپنے درجے میں اول، دوم، سوم پوزیشن لانے والے طلباء اور اساتذہ کو مہمان خصوصی کے ہاتھوں گراں قدر انعامات سے نوازا گیا۔ آخر میں مفتی جاوید نے اپنے خطاب میں ارباب انتظام کے تعلیم و تربیت کے باب میں ہر اقدام و تجویز کی جم کر تعریف کرتے ہوئے، طلبہ و سرپرستان کو اس کی قدر کرنے کی نصیحت بھی فرمائی، نیز مفتی صاحب کی مستجاب دعاؤں پر پروگرام کا اختتام ہوا۔ اس مجلس علم و عرفان کو بارونق بنانے میں مدرسے کے تمام اساتذہ بالخصوص مولانا محمد عاقل، مولانا محمد واصل،مولانا محمد کلیم و مفتی بلال احمد صاحبان نے اہم کردار ادا کیا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button