بہار و سیمانچل

مدرسہ جامع العلوم ترکیلی میں علماء دیوبند کی آمد – محمد اطہر القاسمی

مدرسه جامع العلوم ترکیلی میں علماء دیوبند کی آمد


ضلع ارریه کے معروف و قدیم اداره مدرسه جامع العلوم ترکیلی عیدگاه میں علماء دیوبند کے ایک موقر وفد کی تشریف آوری هوئ۔

وفد میں ام المدادرس دارالعلوم دیوبند کے شعبہ انگریزی زبان و ادب کے صدر حضرت مولانا توقیر احمد صاحب قاسمی کاندھلوی،مرکز المعارف دهلی کے سیںنیر عهدیدار حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب قاسمی اور سابق صدر جمعیت علماء بهار حضرت مولانا ادریس صاحب نوکٹه رحمه الله کے بیٹے فاضل جلیل حضرت مولانا معروف صاحب کرخی قاسمی شامل تھے۔
اس مبارک موقع سے ان اکابرین نے مدرسه جامع العلوم کے طلبه اساتذه اور ناظم اعلی سے تعلیم و تربیت کے عنوان پر تبادله خیال کرتے هوے انهیں قیمتی مشورے دیءے اور موجوده کارکردگی پر خوشی کا اظهار کیا۔ساتھ ہی مدرسه میں ایک علمی مذاکره کا انعقاد بھی هوا جس کی صدارت اداره کے مهتمم جناب مولانا خورشید انور صاحب نعمانی اور نظامت بنده عاجز محمد اطهر القاسمی نے کی۔ پروگرام میں ادارے کے طلبه و اساتذه کے علاوه قرب و جوار کے لوگ بھی شامل هوے۔
اداره کے طلبه کے ذریعہ تلاوت اور حمد و نعت کے بعد مولانا معروف کرخی قاسمی نے مجمع سے خطاب کرتے هوے فرمای:
2017 کے تباه کن سیلاب کے اسفار میں ارریه میں مفتی اطهر صاحب کے ساتھ کام کرنے کے کافی مواقع ملے مگر اس اداره میں حاضری کا موقع نهیں مل سکا آج آیا تو یھاں کے طلبه،اساتذه اور آپ کی ملاقات سے بیحد خوشی هوئ۔انهوں نے عوام کو مخاطب کرتے هوۓ فرمایا که آپ علماء کرام سے رابطه رکھۓ اور ان سے علمی سوالات کرتے رهۓ اور ان سے هر وه بات پوچھۓ جس کی آپ کو شرعی ضرورت هو۔ جس طرح آپ اپنی ذاتی زندکی میں چوک چوراهے پر حتی که سودا سلف بیچنے والے دوکانداروں سے پوچھتے رهتے هیں۔
ماهر تعلیم،اسلامی اسکالراور مرکز المعارف دهلی کے ذمے دار حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب قاسمی نے لوگوں سے مدارس اسلامیه سے جڑنے اور اپنی اولاد کو دینی تعلیمی سے آراستہ کرنے کی تلقین کرتے هوۓ اپنا مشاهده پیش کیا۔انہوں نے کہا که میں دهلی میں رهتاهوں ،بڑے بڑے ارب پتی اور کھرب پتی لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی اولاد کے عصری علوم کےلے دودو بجے رات سے ایڈمیشن کے لے لاءن لگاکر کھڑے رهتے هیں۔اور جب یهی اولاد امریکه اور لندن میں نوکری پالیتی هے تو یهی والدین اولڈایج هوم میں سسک سسک کر اپنی زندگی کاٹنے پر مجبور هوجاتے هیں مگر انہی ٹوٹے پھٹے مدارس اسلامیه کے فارغ هونے والے حفاظ و علماء معاشی اعتبار سے خواه کتنے کمزور هوں مگر یه اپنے والدین کو بوڑھاپے میں رسوا هونے نهیں دیتے۔
اخیر میں ام المدادرس دارالعلوم دیوبند کے موقر استاذ حضرت مولانا توقیر احمد صاحب قاسمی نے قرآن و حدیث سے مدلل اپنے انتهائ جامع و پرمغز خطاب میں فرمایا:
که سب سے پهلے تو میں ادارے کے طلبه عزیز کو مبارکباد دینا چاهتاهوں۔ اسلۓکه آپ بڑی قیمتی دولت هو ۔قرآن کریم نے گواهی دی هے:ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفیناه…………اسلۓآپ جتنے طلبه یهاں پڑھنے کے لۓ آۓ هیں، ان کا انتخاب خود رب کاءنات ںے کیا هے۔
آپ نے ولقد یسرنا القرآن للذکر فہل من مدکر……………پڑھتے هوۓ فرمایا :
که پوری دنیا کے یهودی اور عیسائی الٹے لٹک جاءیں مگرانهیں ان کی مکمل کتاب حفظ نهیں هو سکتی مگر همارے مدارس کے آٹھ آٹھ اور دس دس سال کے بچے تیسوں پارے اپنےمعصوم سینے میں محفوظ کررهے هیں۔همارے لے یه سعادت عظمی نهیں تو اور کیا هے۔
حضرت مولانا نے ولکن کونوا ربانیین…………کی آیت پڑھتے هوءے یه بھی فرمایا که مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والے بھی اپنی روحانی و قلبی کیفیات و احساسات کو همیشه چیک کرتے رها کریں که ان میں علمی اور روحانی ترقی هورهی هے یا نهیں؟اسکے لۓ دعاوں کا بھی خوب اهتمام کیجیے۔
آپ نے اخیر میں لوگوں سے ادارے کے تعاون کی پرزور اپیل کرتے هوءے فرمایا که
مدارس کا تعاون کیجیے اور ان کی ضررریات کا خیال رکھءے۔میرا یقین هے که خدا آپ کے دین کے ساتھ ساتھ دنیاکی ترقیوں میں وه انقلاب لاءے گا که آپ دم بخود ره جاءیں گے۔
ان هی کی دعا پر مجلس اختپام پژیر هوءی۔اداره کے مهتمم جناب مولانا خورشید انور صاحب نے تمام مهمانوں کاشکریه ادا کیا۔
محمد اطهر القاسمی
05/03/2019

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close