اہم خبریں

مدرسہ احیاء العلوم شیموگہ کا گیارھواں جلسہ دستار بندی بحسن وخوبی اختتام پذیر

مدرسہ احیاء العلوم شیموگہ کا گیارھواں جلسہ دستار بندی بحسن وخوبی اختتام پذیر

نظامت کے فرائض مولانا سالم انظر قاسمی صاحب نے انجام دیئے ۔

انانگر شیموگہ 9فروری (ہندوستان اردو ٹا ئمز نیوز بیورو)  شہر شیموگہ کا معروف ادارہ مدرسہ احیاء العلوم میں ایک عظیم الشان جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت دارالعلوم دیوبند کے مفتی حضرت مولانا زین العابدین صاحب قاسمی نے کی جب کہ مقررین و مہمان خصوصی کے طور پر مولانا مصلح الدین قاسمی استاد حدیث دارالعلوم دیوبند مولانا قاری کلیم اللہ گرگیشوری بنگلور قاضی عبدالعزیز صاحب بیلگام وغیرہ نے شرکت کی     جسلہ کی چار نشستیں بنائی گئی جس میں پہلی نشست میں ابنائے قدیم مدرسہ احیاء العلوم کی مجلس اور دوسری نشست علماء حفاظ کے لیے خاص کی گئ جب کہ عصر کے بعد کی مجلس مدرسہ کے طلبہ کے مخصوص ہوئی اور بعد مغرب عمومی مجلس رکھی گئی جس میں شہر واطراف واکناف سے کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے    جلسہ میں پہلا خطاب ہیلی سے تشریف لائے مشہور عالم دین مولانا احمد سراج عمری قاسمی کا ہوا انھوں نے کہا کہ آج کل مسلمانوں بالخصوص اسکول وکالج کے طلبہ و طالبات میں جو فکری وذہنی ارتداد پھیل رہا ہے اس میں والدین کی پہلی ذمہ داری ہے اس کے بعد اساتذہ ائمہ وخطبہ کی ذمہ داری ہے آپ اسلام کو دین فطرت کے انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کریں ورنہ اس وقت کی صورت حال بہت نازک ہے علماء حالات کے مطابق تیاری کریں اور امت کی رہنمائی کریں نصاب تعلیم اور ٹیچرس کو پہلے مسلمان بنائیں اور اس کے لیے تیاریاں کریں۔


فوٹو بشکریہ مولانا سالم انظر قاسمی

مولانا زین الاسلام قاسمی مفتی دارالعلوم دیوبند نے میراث انبیاء کے مراکز پر جامع خطاب کیا جس میں انھوں نے مدارس ومکاتب اور مساجد کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ان لوگوں کے خیالات کی سخت تردید کی جو مدارس کو دین کا مرکز نہیں سمجھتے انھوں نے کہا کہ ہر دور میں دین کے مراکز یہی مدراس مساجد مکاتب اور بزرگوں کی خانقاہیں رہی ہیں اس سے اعراض کرنا یا اس پر اعتراض کرنا دین کے لیے بڑا خطرناک ہے مولانا مصلح الدین قاسمی استاد دارالعلوم دیوبند نے فروغ اسلام میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کے عنوان سے بہت شاندار پرمغز اور خوبصورت خطاب کیا انھوں نے اسلامی تاریخ کے حوالے سے بتایا کہ شروع اسلام سے لے کر اب تک اسلام کے فروغ میں جس طرح مردوں کا حصہ ہے اسی طرح خواتین اسلام کی بھی بہت بڑی قربانی شامل ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ اسلام کی پہلی نصرت خواتین کے ذریعے سے ہی ہوئی ہے    بیانات کے بعد مولانا قاری کلیم اللہ صاحب گرگیشوری نے اپنے ناصحانہ کلمات اور دعا کے ساتھ جلسہ کا اختتام کیا مدرسہ احیاء العلوم کے بانی وسرپرست مولانا سید مسعود احمد ہاشمی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا وہیں مدرسہ سے فارغ ہونے والے حفاظ کرام کی دستار بندی کی گئی جب کہ ابنائے قدیم مدرسہ احیاء العلوم نے مولانا موصوف کی خدمت میں اعزازیہ اور تہنیت پیش کی جسلہ کا آغاز دانیہ قرین سلمہا کی نعت وقرات سے ہوا حافظ شارق نے مدرسہ کا ترانہ پیش کیا دیگر طلبہ نے خوبصورت انداز میں ترانے دعائیں تقریریں اور مکالمے پیش کئے جب کہ نظامت کے فرائض مولانا سالم انظر قاسمی چنگیری نے انجام دیا وہیں مولانا فضل الرحمن قاسمی صدر مدرس مدرسہ ھذا نے قدیم وجدید طلباء کو اعزازیہ پیش کی جلسہ میں علماء و ائمہ وخطبا کے علاوہ عوام کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی رات کے گیارہ بجے جلسہ کا اختتام ہوا۔

آپ بھی اپنے مضامین ہمیں بھیج سکتے ہیں۔ ہمارا میل ہے ۔info@hindustanurdutimes.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close