دیوبند

محرم کا مہینہ انتہائی اہمیت اور فضل و شرف کا حامل مہینہ ہے

رمضان کے روزوں کے بعد سب سے بہترین روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں: مفتی محمد تھانوی

دیوبند، 3؍ اگست (رضوان سلمانی) جامعہ اسلامیہ دارالعارفین کے ناظم مفتی محمد تھانوی نے پریس کو جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ جس کو محرم الحرام کہاجاتا ہے لغوی اعتبار سے محرم کے معنی معظم، محترم اور معزز کے ہیں چونکہ یہ مہینہ بھی اعزاز احترام اور عظمت و فضیلت والا ہے اس لیے اس مہینہ کا نام محرم ہے ۔ اگرہم سن ہجری کا دوسرے رائج شدہ سنین سے مقابلہ کریں تو یہ سن ہجری دوسروں سے ممتاز نظر آئے گا، سن ہجری کی شروعات چاند سے بناکر اسلامی مہینوں کو چاند سے جوڑ دیاگیا، قمری نظام انسانوں کا گھڑا ہوا نظام نہیں بلکہ خالص فطری نظام ہے اللہ نے جس دن زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اسی وقت یہ نظام بھی مقرر فرما دیا تھا، چونکہ اسلام بالکل سادہ عجزو انکساری والا آسان مذہب ہے لہٰذا چاند کے ذریعہ ہر علاقے کے لوگ چاہے جنگلوں پہاڑوں اور جزیروں میں رہتے ہوں ان کے لئے آسان ہے کہ اپنے معاملات چاند کے مطابق طے کرلے اس میں کوئی مشکل بھی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے اور اَن پڑھ سب آسانی سے حساب کرسکتے ہیں اس لئے کہ چاند ہرجگہ نکلتا ہے کسی مشکل حساب و کتاب کی ضرورت نہیں جبکہ دوسری تاریخوں میں یہ بات نہیں، اور اس کے برعکس دیگر تقویمیں ہر آدمی آسانی سے معلوم بھی نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ احادیث مبارکہ میں محرم الحرام کے مہینے کی متعدد نصوص کے ذریعے فضیلت بیان کی گئی ہے حتیٰ کہ بعض سلف نے اس کو اشہر حرم میں سب سے افضل قرار دیا ہے محرم کا مہینہ انتہائی اہمیت اور فضل و شرف کا حامل مہینہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے بہترین روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔ اس مہینے کی فضیلت اور عظمت بتلانے کے لئے اس کو اللہ کا مہینہ فرمایا گیا ورنہ تمام مہینے اور دن اللہ ہی کی مخلوق ہیں اور اسی کے حکم سے رواں دواں ہیں۔ مذکورہ حدیث سے صرف دسویں تاریخ یعنی عاشوراء کا روزہ مراد نہیں بلکہ محرم کے مہینے کے عام نفلی روزے مراد ہیں، لہٰذا اس مہینے میں کسی بھی دن روزہ رکھ لیا جائے تو ان شاء اللہ تعالیٰ یہ فضیلت حاصل ہوجائے گی نیز محرم کے روزے کی الگ مستقل فضیلت ہے، یوم عاشوراء جو بڑی عظمتوں اور غیر معمولی خوبیوں کادن ہے اس دن اللہ کے نبی ﷺ نے روزہ کا حکم فرمایا اور ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس میں اول یا آخر ایک دن کا اضافہ کرلیا کرو تاکہ یہود و نصارٰی کی مخالفت ہو البتہ اس کی فضیلت بیان کردی گئی کہ جو روزہ رکھے گا اس کے پچھلے ایک سال کے گناہ معاف کردئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیے کہ کربلا کا واقعہ اسلامی تاریخ کا اہم ترین سانحہ ہے جس میں حضرت حسینؓ نے شہادت پائی چونکہ محرم یعنی عاشورہ کے دن اس واقعہ کے پیش آنے کی وجہ سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ محرم کا مہینہ اور عاشوراء کا دن صرف اسی لیے مقدس ہے کہ اس میں کربلا کا واقعہ پیش آیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ کربلا کا واقعہ تو سن 61ھ میں پیش آیا جبکہ محرم کا مہینہ تو کائنات بننے کے پہلے ہی دن سے پچھلی شریعتوں میں مقدس و بابرکت چلاآرہاہے، اس ماہ محرم (یوم عاشوراء) کو اہل مکہ خانۂ کعبہ پر غلاف چڑھایا کرتے تھے اور اس دن کو یوم الزینہ کہتے تھے، شروع اسلام میں جب تک رمضان کے روزے فرض نہیں ہوئے تھے عاشوراء کا روزہ رکھنا مسلمانوں پر فرض تھا، عاشوراء (10محرم) کے دن ہی اللہ نے فرعون کو غرق اور بنی اسرائیل کو نجات عطافرمائی تھی جس کے وجہ سے عاشوراء کا دن یہودیوں کے نزدیک اور موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں مقدس و بابرکت ٹھہرا، لہٰذا واقعۂ کربلا کی وجہ سے محض ماہ محرم اور یوم عاشوراء کو افضل سمجھنا اسے سوگ کا مہینہ سمجھ کر کالے کپڑے پہننا ،شادی بیاہ و دیگر خوشیوں کی تقریبات سے بچنا درست نہیں۔ عاشوراء کا دن کربلا کے واقعے کی وجہ سے مقدس نہیں بلکہ سیدنا حضرت حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کے لئے شرف و فضیلت کا مقام ہے کہ اللہ نے ان پاکیزہ نفوس کو ایسے دن شہادت کا مرتبہ عطا فرمایا جو روز اول سے مقدس و محترم چلا آرہا ہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button