یو جی سی نیٹ

مثنوی کا فن اورآغازو ارتقاء ، مشہور مثنوی نگار اور ان کی مثنویاں

مثنوی کا فن اورآغازو ارتقاء
لغوی معنی
مثنوی عربی زبان کے لفظ مثنٰی سے نکلا ہے جس کے معنی دو دو کے ہیں۔
اصطلاحی معنی
اصطلاح میں مثنوی ایسے طویل نظم کو کہتے ہیں جس میں کوئی قصہ یا کوئی واقعہ تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا ہو اور جس کے ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوں۔ دو دو ہم قافیہ مصرعوں کی رعایت کی وجہ سے اس صنف کا نام مثنوی رکھا گیا۔ یہ ایک بیانیہ صنف ہے۔ اس میں ہر شعر کے بعد قافیہ بدلتا رہتا ہے۔

موضوع
موضوع کے لحاظ سے مثنوی کا دامن بہت وسیع اور کشادہ ہے۔ ڈاکٹر گیان چند جین احسن مارہروی کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’جذباتِ انسانی، مناظرِ قدرت، تاریخی واقعات جس خوش اسلوبی اور روانی سے مثنوی میں سما سکتے ہیں ان کی اتنی گنجائش کسی صنفِ سخن میں نہیں۔ زندگی کے تمام شعبے سوانح رزمیہ ہوں یا تاریخی، عشقیہ ہوں یا اخلاقی، فلسفیانہ ہوں یا افسانہ غرض کے تخیل کی کھپت مثنوی میں ہوتی ہے
مثنوی کے مضامین
مثنوی اپنی خوبی اور خصوصیات کے لحاظ دیگر اصنافِ شعری کے مقابلے میں ایک انفرادی مقام رکھتی ہے، کیونکہ اس میں ایک طویل مضمون اور مربوط خیال کو بآسانی ضبطِ تحریر میں لایا جا سکتا ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی مرحوم لکھتے ہیں ’’اردو شاعری کی تمام اصناف میں سب سے زیادہ بکار آمد صنف مثنوی ہے۔ اس میں ظاہری اور معنوی ہر اعتبار سے بلند پایہ شاعری کے تمام لوازم موجود ہیں‘‘۔
مثنوی کیلئے، مضامین کی کوئی تخصیص اور تحدید نہیں۔ اس میں ہر طرح کے مضامین سما سکتے ہیں۔ مثنوی کا اصل مقصد واقعہ نگاری ہے۔ اور واقعات تاریخی بھی ہوتے ہیں اور افسانے بھی۔ تاریخی مثنویوں کو عموماً رزمیہ مثنوی کہتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مثنوی نگار شعراء نے مثنوی کو موضوع کے قید و بند سے آزاد رکھا۔
فارسی زبان میںمثنویوں کی مقبولیت
فارسی زبان میں اس صنف سے بڑا کام لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جتنی مقبولیت فارسی مثنویوں کو ملی اردو مثنویوں کو نہ مل سکی۔ شاہ نامہ فردوس، بوستان سعدی، سکندر نامہ جیسی مثنویاں آج بھی فارسی مثنویوں کی مقبولیت کی شہادت دیتی ہیں۔ فارسی اور اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی مثنویاں لکھی گئی لیکن ان مثنویوں کو فارسی اور اردو جیسی مقبولیت حاصل نہ ہو سکی۔

مثنوی کے اوزان
سب سے پہلے مثنوی کے اوزان متعین اور مقرر کرنے کا سہرا سعادت یار خاں رنگین کے سر بندھا۔
مثنوی کیلئے سات اوزان مقرر ہیں:
(۱) بحر سریع مسدس مطوی موقوف:مفتعلن مفتعلن فاعلات(نشاطِ امید، الطاف حسین حالی)
(۲) بحر ہزج مسدس مقصور یا محذوف:مفاعیلن مفاعیلن مفاعیل(بکٹ کہانی، افضل)
(٣)بحر ہزج مسدس مقبوض مقصور یا محذوف:مفعول مفاعلن فعولن(گلزار نسیم، دیا شنکر نسیم)
(٤) خفیف مسدس مخبون مقطوع:فاعلاتن مفاعلن فعلن(زہر عشق، شوق لکھنوی)
(٥) بحر متقارب مثمن مقصور یا محذوف :فعولن فعولن فعولن فعول(سحر البیان،میر حسن)
(٦) رمل مسدس مقصور یا محذوف:فاعلاتن فاعلاتن فاعلات (رموز العارفین، میر حسن)
(٧) رمل مسدس مخبون مقطوع:فاعلاتن فعلاتن فعلن(قول غمیں، مومن)

مثنوی کے اجزائے ترکیبی
وہ عنصر جن سے مل کر ایک مثنوی تکمیل کو پہنچتی ہے، ایک مثنوی کے اندر جن کا ہونا ناگزیر ہو، مثنوی کے قواعد نویسوں کے نزدیک پانچ چیزیں ہیں جو حسب ذیل ہیں:
(١) توحید و مناجات (٢)مدحِ حاکم(٣) تعریف شعر و سخن (٤) سببِ تالیف (٥) اصل قصہ
مثنوی کی ابتداءکب ہوئی؟
مثنوی کی ابتداء نویں صدی ہجری کے وسط سے لیکر گیارہویں صدی ہجری کے اوائل تک لکھی گئی۔بعد کے زمانے میں مثنوی کا استعمال ایک طرح سے داستانوں کے ساتھ مختص ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج مثنوی کا نام لیتے ہی ہمارے ذہن و دماغ میں قطب مشتری، پھول بن، سحر البیان اور گلزارِ نسیم جیسے ادبی مثنویاں گردش کرنے لگتے ہیں۔
ہندوستان میں مثنویاں
ہندوستان میں دیگر شعری اصناف کی طرح مثنوی کے ابتدائی نقوش بھی دکن میں ملتے ہیں۔ دکن کا پہلا مثنوی نگار فخرالدین نظامی بیدری کو تسلیم کیا گیا ہے، جس نے مثنوی کدم راو پدم راو لکھی۔

شمالی ہند میں مثنوی: شمالی ہند کی سب سے پہلی مکمل اور مستند مثنوی افضل پانی پتی کی بکٹ کہانی ہے۔
شمالی ہند میں باقاعدہ مثنوی گوئی کا آغاز میر تقی میر اور مرزا سودا سے ہوتا ہے۔
مثنویاتِ میر کی تعداد ۳۲ کے قریب ہیں۔ جن میں مشہور خواب و خیال، معاملاتِ عشق، دریائے عشق، جوش عشق، اعجازِ عشق، حکایتِ عشق وغیرہ۔
مرزا سودا:
شیخ چاند کی تحقیق کے مطابق مرزا کی مثنویوں کی تعداد ۲۱ کے قریب ہے، حالانکہ بعض محققین نے مثنویات سودا کی تعداد ۲۴ شمار کی ہیں

نسیم: پورا نام دیاشنکر نسیم ہے۔
نسیم کی مثنوی گلزار نسیم دبستانِ لکھنو کی سب سے عظیم اور نمائندہ مثنویوں میں سے ایک ہے۔ یہ مثنوی پہلی بار ۱۸۴۴ء میں شائع ہوئی۔
ملا اسداللہ وجہی۔
ملا اسداللہ وجہی کی مثنوی قطب مشتری، ۱۰۱۸ھ میں لکھی گئی
ابن نشاطی۔
ابن نشاطی کی مثنوی پھول بن، ۱۰۶۶ ھ میں لکھی گئی
الطاف حسین حالی۔
الطاف حسین حالی کی سب سے پہلی مثنوی برکھارت ہے جو پہلی مرتبہ ۱۸۷۴ء میں لاہور کے مشاعرے میں پڑھی گئی۔

 

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button