عجیب و غریبمدھیہ پردیش

ماں کی لاش کو لے جانے کیلیے اسپتال سے نہیں ملا ایمبولینس تو لکڑی سے باندھ بائیک پر گھر لے گیا بیٹا

مدھیہ پردیش کے شہڈول سے ایک دل دہلا دینے والی تصویر سامنے آئی ہے۔ ضلع کے میڈیکل کالج کی لاپرواہی سے انسانیت شرمسار ہوتی دکھائی دی۔ یہاں ماں کی موت پر بیٹوں کو لاش لے جانے کیلئے گاڑی نہ ملی تو وہ اس کی لاش کو لکڑی سے باندھ کر موٹر سائیکل پر لے گئے۔

بتایا جا رہا ہے کہ ماں کی موت کے بعد بیٹے انتظامیہ سے لاش لے جانے کیلئے  گاڑی کی منتیں کرتے رہے لیکن انہیں کچھ نہیں ملا۔  اس نے 5 ہزار روپے مانگے۔ پیسے نہ ہونے پر بیٹے ماں کی لاش کو موٹر سائیکل پر لے جانے پر مجبور ہو گئے۔

انہوں نے اس حالت میں ماں کی لاش کے ساتھ تقریباً 80 کلومیٹر کا سفر کیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ماں کی موت کے بعد بیٹے لاش کے لیے میڈیکل کالج میں مارے مارے پھرتے رہے لیکن وہاں بھی کوئی گاڑی نہیں مل سکی۔ انہوں نے پرائیویٹ وہیکل والے سے بات کی تو اس نے 5 ہزار روپے مانگے۔ پیسے نہ ہونے پر بیٹے ماں کی لاش کو موٹر سائیکل پر لے جانے پر مجبور ہو گئے۔

اس واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ لوگ اس واقعے پر مختلف انداز میں تبصرے کر رہے ہیں۔ جانکاری کے مطابق متوفی انوپ پور کے گودارو گاؤں کی رہنے والی تھی۔ ان کا نام جیمنتری یادو تھا۔ سینے میں درد کی وجہ سے ان کے بیٹے سندر یادو نے انہیں شہڈول کے ضلع اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ یہاں ان کی حالت تشویشناک ہوگئی۔ یہ دیکھ کر ڈاکٹروں نے جیمنتری کو میڈیکل کالج ریفر کر دیا۔ یہاں علاج کے دوران اتوار کی دیر رات ان کی موت ہوگئی۔ اس کے بعد سندر نے ضلع اسپتال کی نرسوں پر لاپرواہی سے علاج کرنے کا الزام لگایا اور ماں کی موت کے لیے میڈیکل اسپتال انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

بتایا جا رہا ہے کہ ماں کی موت کے بعد بیٹے انتظامیہ سے لاش لے جانے کیلئے  گاڑی کی منتیں کرتے رہے لیکن انہیں کچھ نہیں ملا۔  اس نے 5 ہزار روپے مانگے۔ پیسے نہ ہونے پر بیٹے ماں کی لاش کو موٹر سائیکل پر لے جانے پر مجبور ہو گئے۔  ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔ اس کے بعد انہوں نے مدد ملنے کی امید چھوڑ دی اور اسپتال کے باہر سے 100 روپے کی ایک لکڑی کی پٹی خریدی۔ انہوں نے کسی طرح ماں کی لاش کو اس پٹی سے باندھا اور اسے موٹر سائیکل پر رکھ کر شہڈول سے 80 کلومیٹر دور انوپ پور ضلع کے گڈارو تک کا سفر طے کیا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button