پٹنہ

لکھیم پور کی ’آگ‘ میں ماؤ نواز وں کے بھی ہاتھ سینکنے کی تیاری،واقعہ کو قتل عام قرار دے کر 17 اکتوبر کو بہار-یوپی سمیت 4 ریاستوں میں بند کا اعلان

گیا ؍پٹنہ ، 14اکتوبر (ہندوستان اردو ٹائمز) لکھیم پور کھیری واقعہ کو ماؤ نوازوں نے نسل کشی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 17 اکتوبر کو اس کیخلاف 4 ریاست بہار ، جھارکھنڈ ، چھتیس گڑھ اور اتر پردیش میں بند کا اعلان کیا گیا ہے۔ وہیں لوگوں سے بہار میں جاری پنچایت انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ ماؤنواز نے پوسٹر چسپاں کرکے اس کی تصدیق کی ہے۔ بند کو کامیاب بنانے کے لیے تنظیم اپنے ذرائع سے لوگوں سے مسلسل اپیل کر رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ضروری خدمات کو بند سے دور رکھا گیا ہے۔ دودھ ، پانی ، ادویات ، ایمبولینس اور فائر سروسز کام کرتی رہیں گی۔پوسٹر میں ماؤ نواز کے ایک ترجمان نے لکھا ہے کہ احتجاجی کسانوں پر گاڑی چلانا نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔

حکومت اس قتل عام میں مہلوک کسانوں کے بارے میں غیر سنجیدہ ہے۔معاوضے کے علاوہ سرکاری نوکریوں کا اعلان کیا گیا ،مگر آج تک نوکری فراہم نہیں کی گئی۔ ماؤنوازوں کا ماننا ہے کہ پنچایتی انتخابات ذات پات ، اقربا پروری اور خاندان کے درمیان دشمنی کو گہرا کرتے ہیں اور یہ ایک خونی تنازعہ کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی تشدد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

ماؤ نوازوں نے گذشتہ ہفتے ضلع گیا کے مختلف بلاکس میں پمفلٹ پھینک کر انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے اس عمل کی وجہ سے پولیس اور نیم فوجی دستے بھی الرٹ موڈ میں ہیں۔گیا میں اب تک تین مرحلوں میں ہونے والے انتخابات عام علاقوں میں تھے ، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب انتخابات کے باقی سات مراحل نکسل متاثرہ اور انتہائی نکسلی متاثرہ علاقوں میں منعقد ہوں گے ۔انتظامیہ اس سلسلے میں سخت مستعدی کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close