یوپی

لکھنو میں سنودھان سرکشا آندولن کے ریاستی کنونشن کا انعقاد

ہندوستانی آئین کے روح کو بچا کر ملک کو فاشسٹوں کے شکنجے سے بچائیں۔ ایس ایس اے

لکھنو (پریس ریلیز) ملک کے آئینی اقدار کو بچانے کیلئے اپنی جاری کوششوں کے ایک حصے کے طور پر سنودھان سرکشا آندولن (SSA)نے گزشتہ 2جولائی 2022کو ہوٹل میزبان، لکھنو میں ایک ریاستی کنونشن کا انعقاد کیا۔ پروگرام کی صدارت عبیداللہ خان اعظمی سابق ایم پی، نے کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ فاشسٹ حکومت یا حکومت کی حمایت کرنے والی پارٹیاں ملک کی ترقی کے بارے میں فکر مند نہیں ہیں۔، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، بے قابو مہنگائی، اشیاء خوردونوش کی آسمان چھوتی قیمتوں، مناسب صحت کی دیگھ بھال کا فقدان، سہولیات کی ضرورت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، لوگوں کی فلاح وبہبود، ڈالر کے مقابلے میں گھٹتا ہوا ہندوستانی روپیہ، جی ڈی پی میں کمی، ڈوبتی ہوئی معیشت، وغیرہ کے بارے میں انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔

ان کاواحد توجہ مذہبی منافرت پھیلانااور فرقہ وارانہ پولرائزیشن کو گہرا کرنا ہے۔ یہ صورتحال ملک کی سیکولر اور جمہوری پارٹیوں اور تنظیموں کی ذمہ داری کو بھاری بنادیتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام فاشسٹ مخالف گروپس ملکرفاشزم کا مقابلہ کریں اور ہندوستانی آئین کے روح کو بچا کر ملک کو فاشسٹوں کے شکنجوں سے بچائیں۔
سنودھان سرکشا آندولن کے قومی سکریٹری محمد شفیع نے اپنی کلیدی خطاب میں کہا کہ ہندوستان اصول اور جوہر میں ایک جمہوری ملک ہے جہاں اس کے تمام شہریوں اور طبقات کو بلاتفریق مساوی حقوق حاصل کرنے کا حق ہے۔ ہندوستان کا آئین وہ بنیادی ستون ہے جو ہندوستان کو ایک جمہور ی ملک کے طور پر باندھ کر رکھتا ہے اور، تمام شہریوں کو بلاتفریق مذہب، ذات پات، نسل، زبان، جنس اور ثقافت کے ملک کے وسائل، حکمرانی، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال وغیرہ پر مساوی حقوق آئین کا بنیادی وعدہ ہے۔

اگرچہ ملک میں چند منتخب افراد کے سماجی و سیاسی غلبے کے نتیجے میں ملک میں پسماندہ اور محروم طبقات کو آئین میں دیئے گئے حقوق نہیں مل رہے ہیں۔ جب تک آئین زندہ ہے ان حقوق سے واضح انکار ممکن نہیں ہے۔ لہذا، آئین کو زندہ رکھناتمام شہریوں کی ذمہ داری اور ضرورت ہے، خاص طور پر معاشرے کے پسماندہ طبقے کو مساوی حقوق ملنے کی امید میں زندگی گذارنا ہے۔ ملک 2014سے جمہوری راستے سے دور سفر کررہا ہے، جس سال انتہائی دائیں بازو کی ہندوتوا طاقتوں نے ملک میں اقتدار سنبھالا تھا، موجودہ حکومت آرایس ایس کے شیطانی متعصب نظریہ سے چل رہی ہے جو اپنے خوابوں کی ہندوتوا راشٹر کی تعمیر کیلئے سخت محنت کررہی ہے۔ ان کیلئے’منوسمرتی’ملک کا آئین نہیں،ہندوستان کی روح ہے۔ ہمارا آئین ہندوتوا راشٹرا کی تشکیل کی طرف آرایس ایس کے سفر کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے اس لیے وہ اس سے چھٹکار ا حاصل کرنے کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے ہر حال میں اسے وہ ہٹانا چاہتے ہیں۔

آئین کو بچانا اور اس کی حفاظت کرنا ملک میں متعلقہ شہریوں کی ذمہ داری اور فرض بن گئی ہے۔راج رتن امبیڈکر نے اپنی تقریر میں کہا کہدنیا بھر میں نسل کشی کے ماہرین نے مشاہدہ کیا ہے کہ ہندوستان نسل کشی کی آخری مرحلے میں ہے۔ "اسلاموفوبیااب ہندوستان میں کوئی فرقہ وارانہ جذبات نہیں رہا "۔ یہ ریاست کا تیار کردہ نظریہ بن چکا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ہندوستان کے 192ملین مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور انہیں ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے ان کے حقوق سے محروم کرنے کے اپنی پروگرام میں اسلامو فوبیا کو مرکزی حیثیت دے رکھی ہے۔

Genocide Watchتسلیم کرتی ہے کہ بی جے پی حکومت کے ریاستی سرپرستی میں چلنے والے اقدامات ملک کو نسل کشی کے ایجنڈے کے ایک اعلی درجے کی طرف لے جارہا ہے۔
بابر نقوی نے مہمانوں اور مندوبین کا استقبال کیا۔ لال منی پرساد سابق ایم پی، مولانا سیف عباس، پرویز عالم بھٹو، بھکشو سمیت رتن کھیرا، رام دھیرج، دھننجائی شرما، حسن آرا خاتون نے شرکت کی اور سامعین سے خطاب کیا۔ اس موقع پر مولانا عبید اللہ خان اعظمی نے سنودھان سرکشا آندولن اتر پردیش کی ایک اڈ ہاک کمیٹی کا اعلان کیا۔ جس میں لال منی پرساد سابق ایم پی، سابق وزیر اترپردیش، پرویز عالم بھٹو، جاوید احمد، معید ہاشمی، بھکشو سمیت رتن کھیرا، حسن آرا، رام دھیرج اور نغمہ ہاشمی شامل ہیں

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button