کالم

قوم کے فساد و صلاح کے ذمہ دار علماء ہیــں ، ڈومریا کے سیاسی لیڈران تو مادیت کے پجاری ہیـــں : محمــد راشد نعیم ندوی

قوم کے فساد و صلاح کے ذمہ دار علماء ہیــں
ڈومریا کے سیاسی لیڈران تو مادیت کے پجاری ہیـــں!
نفس کے بندے ہیـــں!
مال و دولت دنیا کے حریص ہیـــں!
یہ صورتحال صرف ڈومریا کی نہیـــــــں ہے بلکہ ہر جگہ کے نیتاؤں کا یہی چکر ہے کہ یہ بےچارے بے پیندی کے لوٹے جدھر انہيں اپنے مفادات نظر آتے ہیں بغیر کسی ٹھوکر کے ادھر لڑھک جاتے ہیں__
جن کا کام بس جوڑ توڑ کی سیاست ہے!
اپنے فائـــدے کےلئے فریق مخالف کی ٹانگ کھنیچ اسے کر مات دینا ہے, پھر قوم کا سرمایہ ہڑپ کرناہے__
ان کے سامنے طاقتور لوگ ذاتی اثر و رسوخ کا استعمال کرکے اپنا کام تو بنالیتے ہیـــں لیکن جو کمزور ہیـــں انہیں دھکے دےکر دروازے سے واپس کردیا جاتاہے یا اگر کچھ دیا بھی جاتاہے تو اس میں بھی دھڑلے سے ڈنڈی مار لی جاتی ہے__

ان سب کے بیچ شکوہ گاؤں کے علماء سے ہے!
بزرگوں سے ہے!
وارثــــــین انبیاء سے ہے!
ان لوگوں سے ہے جو عالم ہیــں!
فاضل ہیـــں!
مفتی ہیـــں!
خطیب ہیـــں!
جنہوں نے پڑھا ہی اسی لئے تھا کہ وہ چراغ بنیں گے جس سے گاؤں کو روشن کریں گے لیکن ہورہاہے اس کے برعکس!
یا اگر دینی خدمات کے نام پر کچھ کوششیں نظر آ بھی رہی ہیں تو وہ زیادہ سے زیادہ جلسہ کرلینا, مساجد اور عیدگاہ کی تعمیر کےلئے لوگوں کو ابھاردینا اور اس جیسی دیگر کوششیں جو ظاہر ہے اسلام کے مکمل پیغام سے نہ تو ہم آہنگ ہیـــں اور نہ ہی زندگی کے وسیع تصور سے ان سب کا حقيقی ربط ہے__

اب تک مجھے گاؤں کے جن علماء سے ملنے جلنے اور بات چیت کا اتفاق ہوا اس سے اندازہ ہواکہ علماء کا ایک طبقہ وہ ہے روایتی طرز پر دین کی خدمت کرنے کو کافی سمجھتاہے جس کا دائرہ انتہائی محدود ہے!
دوسرا وہ ہے جو "جیسے چلتاہے چلنے دو” یا "چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی” کے فلسفہ پر عمل پیراہے__
حالانکہ یہ جو دوسرا گروہ ہے وہ باصلاحیت, قابل اور ذہین لوگوں پر مشتمل ہے اور یہ لوگ اگر گاؤں کی اصلاح کا بیڑا اٹھالیں تو تھوڑی سی کوشش کے ذریعہ کامیاب ہوسکتے ہیں,
اس کے باوجود یہ حضرات کسی بھی انقلابی قدم اٹھانے سے گُریزاں ہیـــں!

اسی لئے گاؤں کی خرابی اور اس کے بگاڑ کے راست ذمہ دار گاؤں کے علماء ہیـــں, کیونکہ ان بزرگوں نے اصلاح و دعوت کا وہ بیڑا نہیـــــــں اٹھایا اور اسلام کی ترجمانی کی وہ کوششیں نہیـــــــں کیں جو ان کا فریضہ تھا, یہی وجہ ہے کہ اکابرین ڈومریا سیاسی لیڈران پر تو اپنا کیا اثر ڈالتے عام لوگوں کو بھی اپنے کردار سے متاثر نہیں کرسکے!
ہاں اگر کسی بندہ خدا نے کچھ کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے عزائم کا اظہار بڑوں کے سامنے کیا تو ان اللہ والوں نے حوصلہ شکنی کا کام ضرور کیا!

بہرحال بس کہنا یہی ہے کہ جس طرح قوم کی اصلاح کا دار و مدار علماء پر ہے بالکل اسی طرح معاشرہ کی تباہی کے ذمہ دار بھی علماء ہی ہیـــں__
اب یہ فیصلہ علماء کو کرناہے کہ آیا وہ معاشرہ کی صلاح کا ذریعہ بنتے ہیں یا اس کے بگاڑ کا!

✍️ محمــد راشد نعیم ندوی
یکے از "باشندگان ڈومریا”

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close