بہار و سیمانچل

قلمی دُنیاسے سیاسی دُنیاتک ایک بیباک قلم کار نزہت جہاں

نوادہ (محمد سلطان اختر ) حضرات رائے دہندگان اس دورپر فتن میں جب ہم دُنیا افتراق پر سرسری نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں ہر سمت سے ایک پارٹی دوسرے پارٹی، ایک علاقہ دوسرے علاقہ، ایک بستی دوسرے بستی اور ایک گھر دوسرے گھر کے خلاف حتٰی کہ گھر آپسی اتحاد کا فقدان نظر آتا ہے آج اس عدم اتحاد و افتراق کا نتیجہ ہے کہ حکومت کے ایوانوں سے لے کر محلے چوپالوں تک ہر بشر کی زندگی قہر و مذلت کی طرف گامزن ہے جب کہ دین و دنیا کے کسی بھی شعبے میں سرخ روئی کامیابی و کامرانی اتحاد و اتفاق کی رسی میں ہے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے اسی وجہ سے ازلی کتاب اور خدائی قانون ہمیں اپنے ہی کامیابی کے لئے اتحاد کی رسی کو اپنانے کے لئے بڑے زور شور سے ڈنکے کی چوٹ پر آواز دیتا ہے۔۔اِرشاد باری ہے۔۔(واعتصمو بحبل الله جميعاً) "”کہ اللہ کے رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو””” اللہ قرآن کریم کے ذریعے اعلان کرتا ہے کہ اگر تمہیں ابدی سعادت اور خوش نصیبی امن و امان حسین زندگی گزارنی ہے تو آپس میں اختلاف نہ رکھو۔۔ اتحادیت و ایکتائیت کو اپنا لو پھر دیکھ تمہاری یہ ایکتایت اور آپس کے میل جول دین و دنیا کی کامرانی میں ہزاروں کے مقابل "313” کی فتح و "ظفر جنگ” بدر”کی مثال صدارت نفس نہار کے سورج کی طرح چمکتا دمکتا ہوا نظر آئے گا۔۔۔

حضرات آج کے اس دورپر فتن ماحول سے بخوبی واقف ہیں گاؤں سے لے کر پٹنہ،و دلی تک کا جائزہ لیا ہوگا جس میں مسلمان ہر طرح اور ہر طرف سے ذلیل و خوار ہوتا ہوا نظر آرہا ہوگا، کوئی کسی شعبے ذات میں ترقی کرتا ہے تو اس کا پاؤں ہم سب مسلمان مل کر کھینچتے ہیں۔۔۔ ہمارا ایک بڑا طبقہ جو گاؤں میں رہتا ہے جو اپنی فلاح و بہبود کے لیے ہر وقت کوشاں رہنا چاہتا ہے۔صحیح رہبری نہیں ملنے کی وجہ سے منزل چھوتے چھوتے زمیں بوس ہو جاتا ہے چند لوگ اس کے آنسوں پونچھنے کو آگے بڑھتے ہیں لیکن ساتھ میں اپنے مقاصد کا حل بڑی دانشمندگی سے کوشش کرتے ہیں نتیجتاً ہمارا یہ محنت کش مسلمان بھائی اخیر میں اپنے مقدر پر بھروسہ کرکے اکتفاء کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا کہیں گزارا نہیں یہی کہانی صدیوں سے چلی آرہی ہے اور طعن و تشنیع نیتاؤں کا جھولا ڈھوتے رہنا ہمارا مقدر بن گیا ہے آخر ہم مسلمانوں کا حال کب تک ایسا بنا رہے گا؟ ۔۔۔اِس ترقی کے دور میں چند قطرے بارش کے ہو جائیں تو آپ ضلع، سب ڈویژن، اور بلاک آفس تک نہیں جاسکتے سچ تو یہ ہے کہ پڑوس کی بستی میں جانے کے لیے بھی راستہ ڈھونڈنا پڑتا ہے۔۔ جو حالت ہم نے نے بچپن میں دیکھا تھا آج 55 کی عمر کو پہنچنے والے ہیں کیا اسی طرح جینا اور مرنا ہمارا مقدر بنا رہے گا؟۔۔۔۔۔۔ "””””نہیں؟………. نہیں؟”””” ہرگز نہیں؟

تو آئیے ہم سبھی متحد ہو کر اپنے ضمیر کی آواز کو پہچانیں اور ایسے امیدوار کا اِنتخاب کریں جو ہمارے بیچ کی ہی خاتون ہو اور ہر دکھ درد میں ہماری اور ہمارے سماج کی صحیح نمائندگی کر سکے۔ جس سے ہمارے سماج کی صحیح رہبری ہوسکے اور ہمارا گاؤں ہمارا حلقہ روز روشن کی طرح ترقی پر لائیں کہ دیکھ دیکھ لیٹر ے نیتا جل جل مرے۔۔۔ اُنکا نام نامی بہار ضلع سیتامڑھی کی سرزمین سے ایک تعلیم یافتہ بے باک قلم کار نامہ نگار محترمہ نزہت جہاں جو ساون کی گھٹا کی طرح انتخابی میدان میں قدم رکھی ہیں اور آسمان ادب سے آسمان سیاست میں چھا گئی ہیں،اپنی منفرد پہچان بنائی ہیں ۔بہار منتھن ہندی روزنامے کے نمائنده جناب مظفر عالم عرف راجہ بھائی کی شریک حیات ہیں۔ وُہ اپنے آپ میں ایک انجمن کی حیثیت رکھتی ہیں۔اُنکے کارنامے بہُت سے ہیں،، اصلاحی، اخلاقی اور ادبی کارناموں کو انجام دیتی رہتی ہیں۔۔ بیس سالوں سے آپ کی تحریریں اخبار کی دنیا میں گردش کر رہی ہے۔ اعلی معیار کی سوچ رکھنے والی خاتون ہیں بااخلاق نیک سیرت اللہ نے انہیں بنایا ہے لوگوں کی ہمدردی سے ان کی وابستگی رہی ہے۔ ابھی الیکشن میں محترمہ نزہت جہاں نان پور ضلع پارشد حلقہ 36 سے اپنا پرچہ داخل کیا ہے۔ ہر گاؤں اور پنچائت میں کافی چرچہ بنا ہوا ہے لوگ نزہت جہاں کو حوصلہ دیکر انتخابی میدان میں اتارا ہے۔بہار منتھن ہندی روزنامے کی طرف سے ایک خطیر رقم نمائندہ بہار منتھن محمد سلطان اختر کے ذریعے بھیجا گیا جسکی تصویر سوشل میڈیا پر دھوم مچا رکھی ہے۔۔اِس لئے ان کو اپنا قیمتی ووٹ دیکر کامیاب کریں۔۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close